سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب في التزويج على العمل يعمل
باب: کام کے عوض نکاح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2113
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، نَحْوَ خَبَرِ سَهْلٍ، قَالَ: وَكَانَ مَكْحُولٌ يَقُولُ: لَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مکحول سے بھی سہل کی روایت کی طرح مروی ہے، مکحول کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لیے یہ درست نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2113]
محمد بن راشد نے مکحول سے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت کی مانند بیان کیا، مکحول کہا کرتے تھے کہ ”یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کے لیے روا نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19478) (ضعیف)» (یہ روایت مرسل ہے، مکحول صحابی نہیں تابعی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
إسناده حسن إلي مكحول، وھذا من قوله
إسناده حسن إلي مكحول، وھذا من قوله
حدیث نمبر: 2112
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، لَمْ يَذْكُرِ الْإِزَارَ وَالْخَاتَمَ، فَقَالَ:" مَا تَحْفَظُ مِنَ الْقُرْآنِ؟" قَالَ: سُورَةَ الْبَقَرَةِ، أَوِ الَّتِي تَلِيهَا، قَالَ:" فَقُمْ، فَعَلِّمْهَا عِشْرِينَ آيَةً وَهِيَ امْرَأَتُكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی واقعہ کی طرح مروی ہے لیکن اس میں تہبند اور انگوٹھی کا ذکر نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے قرآن میں سے کیا یاد ہے؟“ جواب دیا: سورۃ البقرہ یا اس کے بعد والی سورت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے بیس آیتیں سکھا دو اور وہ تمہاری بیوی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2112]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی قصہ کی مانند ذکر کیا مگر اس میں تہ بند اور چھلے کا ذکر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تجھے قرآن کس قدر یاد ہے؟“ اس نے کہا: ”سورۃ البقرہ یا اس کے ساتھ والی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، اسے بیس آیتیں پڑھا دو اور یہ تمہاری بیوی ہوئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14194)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ النکاح (5506) (ضعیف)» (اس کے راوی عسل ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عسل : ضعيف وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 267/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80
إسناده ضعيف
عسل : ضعيف وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 267/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80