🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب فيمن نذر أن يتصدق بماله
باب: جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3318
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَى خَيْرٌ لَكَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ان کی توبہ قبول ہو گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے مال سے دستبردار ہو جاتا ہوں، پھر آگے راوی نے اسی طرح حدیث بیان کی: «خير لك» تک۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3318]
عبداللہ بن کعب بن مالک رحمہ اللہ نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ جب ان کی توبہ قبول ہو گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے مال سے دست بردار ہوتا ہوں۔ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند «خَيْرٌ لَكَ» یہ تمہارے لیے بہتر ہے تک بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، وانظر حدیث رقم: (2202)،(تحفة الأشراف: 11135) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3317)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3317
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہو کر اسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تو میں نے عرض کیا: میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3317]
جناب عبداللہ بن کعب، جو اپنے والد کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے قائد ہوا کرتے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنا مال صدقہ کر دوں اور اس سے دست بردار ہو جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ تو انہوں نے کہا: میں اپنا وہ حصہ جو خیبر والا ہے، اپنے پاس رکھتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الأیمان 35 (3854)، انظر حدیث رقم: (2202)، (تحفة الأشراف: 11135) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أصله متفق عليه، صحيح البخاري (4418) ومسلم (2769)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں