🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ
باب: جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3317
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہو کر اسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تو میں نے عرض کیا: میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3317]
جناب عبداللہ بن کعب، جو اپنے والد کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے قائد ہوا کرتے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنا مال صدقہ کر دوں اور اس سے دست بردار ہو جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ تو انہوں نے کہا: میں اپنا وہ حصہ جو خیبر والا ہے، اپنے پاس رکھتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الأیمان 35 (3854)، انظر حدیث رقم: (2202)، (تحفة الأشراف: 11135) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أصله متفق عليه، صحيح البخاري (4418) ومسلم (2769)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3318
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلَى خَيْرٌ لَكَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ان کی توبہ قبول ہو گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے مال سے دستبردار ہو جاتا ہوں، پھر آگے راوی نے اسی طرح حدیث بیان کی: «خير لك» تک۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3318]
عبداللہ بن کعب بن مالک رحمہ اللہ نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ جب ان کی توبہ قبول ہو گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے مال سے دست بردار ہوتا ہوں۔ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند «خَيْرٌ لَكَ» یہ تمہارے لیے بہتر ہے تک بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، وانظر حدیث رقم: (2202)،(تحفة الأشراف: 11135) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3317)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3319
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَبُو لُبَابَةَ، أَوْ مَنْ شَاءَ اللَّهُ:" إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً، قَالَ: يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں انہوں نے یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے یا کسی اور نے جسے اللہ نے چاہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری توبہ میں شامل ہے کہ میں اپنے اس گھر سے جہاں مجھ سے گناہ سرزد ہوا ہے ہجرت کر جاؤں اور اپنے سارے مال کو صدقہ کر کے اس سے دستبردار ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ثلث کا صدقہ کر دینا تمہیں کافی ہو گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3319]
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے، یا کسی اور نے کہ میری توبہ کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا آبائی گھر جس میں مجھ سے یہ گناہ ہوا ہے، چھوڑ دوں اور صدقہ کر کے اپنے سب مال سے دست بردار ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیسرا حصہ کافی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، وانظر حدیث رقم: (2202)، (تحفة الأشراف: 11135، 1249) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3439)
انظر الحديث السابق (3317)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو لُبَابَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَالْقِصَّةُ لِأَبِي لُبَابَةَ قَال أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ بَعْضِ بَنِي السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، وَرَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، مِثْلَهُ.
زہری کہتے ہیں: مجھے ابن کعب بن مالک نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور واقعہ ابولبابہ کا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس نے ابن شہاب سے اور ابن شہاب نے سائب بن ابولبابہ کے بیٹوں میں سے کسی سے روایت کیا ہے نیز اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے حسین بن سائب بن ابی لبابہ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3320]
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا بیان ہے کہ مذکورہ واقعہ سیدنا ابولبابہ کا ہے اور اس کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے یونس نے بواسطہ ابن شہاب زہری، بنی سائب بن ابی لبابہ کے کسی فرد سے اور ایسے ہی زبیدی نے بواسطہ زہری، حسین بن سائب بن ابی لبابہ سے اس کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12149) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی محمد بن متوکل حافظہ کے سخت کمزور ہیں اور حسین بن ابی السائب یا بعض بنی السائب مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 120

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي قِصَّتِهِ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ، أَنْ أَخْرُجَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَدَقَةً، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَنِصْفُهُ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَثُلُثُهُ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنِّي سَأُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی قصہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ شامل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: نصف صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: ثلث صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے کہا: تو میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3321]
سیدنا عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن کعب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے ان کے قصے میں روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری توبہ کا اللہ کے لیے شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا سب مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: آدھا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: تہائی مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ تو میں نے عرض کیا: میں اپنا خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، انظر رقم (2202)، (تحفة الأشراف: 11135) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3317)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں