سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب في المزارعة
باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3391
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ:" كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنِ الزَّرْعِ، وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْهَا، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی (سکوں) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3391]
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”ہم اپنی زمینیں کرایے (بٹائی) پر دیا کرتے تھے اور ساتھ ہی یہ طے ہوتا تھا کہ جو کچھ نالیوں پر پیدا ہو گا یا جس حصے کو از خود پانی پہنچتا ہو (تو وہ مالک کا ہو گا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ ہم اپنی زمین سونے یا چاندی (کرنسی) کے بدلے کرایے پر دیں (یعنی متعین رقم پر ٹھیکہ کر لیا کریں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ المزارعة 2 (3925)، (تحفة الأشراف: 3860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/178، 182)، دی/ البیوع 75 (2660) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3925)
محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي لبيبة ضعفه الجمھور و قال الحافظ ابن حجر : ضعيف كثير الإرسال (تق: 4080)
وحديث رافع بن خديج (الأصل : 3395) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
إسناده ضعيف
نسائي (3925)
محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي لبيبة ضعفه الجمھور و قال الحافظ ابن حجر : ضعيف كثير الإرسال (تق: 4080)
وحديث رافع بن خديج (الأصل : 3395) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
حدیث نمبر: 3392
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ. ح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلَاهُمَا، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّفْظُ لِلْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنِ الزَّرْعِ، فَيَهْلَكُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَهْلَكُ هَذَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ". وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ، وقَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، نَحْوَهُ.
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے (یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3392]
جناب حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ زمین کو سونے چاندی (نقدی) کے عوض کرایہ پر دینا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ دراصل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس طرح کرتے تھے کہ جو کچھ پانی کے بہاؤ پر اور نالوں کے سروں پر ہوتا اس پر اور کچھ کھیتی پر معاملہ طے کرتے تھے۔ تو پھر ایسے ہوتا کہ یہ ضائع ہو جاتی اور وہ بچ رہتی یا وہ ضائع ہو جاتی اور یہ بچ رہتی، لوگوں کو کرائے پر دینے کی بس یہی ایک صورت رائج تھی۔ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے سے ڈانٹ کر روک دیا۔ لیکن وہ عوض اور بدل جو معلوم و متعین ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ ابراہیم کی حدیث (جو اوپر ذکر ہوئی) اس سے زیادہ کامل ہے۔ اور قتیبہ نے اپنی سند میں «عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ رَافِعٍ» ”حنظلہ سے، انہوں نے رافع سے“ کہا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یحییٰ بن سعید نے حنظلہ سے اس کے مثل روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 7 (2327)، 13 (2333)، 19 (2346)، الشروط 7 (2722)، صحیح مسلم/البیوع 19 (1547)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3930، 3931، 3932، 3933)، سنن ابن ماجہ/الرھون 9 (2458)، (تحفة الأشراف: 3553)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (1)، مسند احمد (3/463، 4/140، 142) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2346، 2347) صحيح مسلم (1547 بعد ح1548)
حدیث نمبر: 3393
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ،فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقُلْتُ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ".
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر (کھیتی کے لیے) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3393]
جناب حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”زمین کو کرایہ پر دینا کیسا ہے؟“ تو انہوں نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔“ میں نے پوچھا کہ ”کیا سونے اور چاندی کے بدلے بھی منع ہے؟“ تو انہوں نے کہا کہ ”سونے اور چاندی کے بدلے میں کوئی حرج نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3393]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3553) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1547)
حدیث نمبر: 3394
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ، مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ؟ قَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا حَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَيُّوبُ، وَ عُبَيْدُ اللَّهِ، وَ كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، وَ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عِنَانٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا، فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَكَذَا. قَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ: عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو النَّجَاشِيِّ: عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ.
سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3394]
جناب سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ زمین کرائے (بٹائی) پر دیا کرتے تھے حتیٰ کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ملاقات کی اور پوچھا کہ ”تم زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا فرمان بیان کرتے ہو؟“ تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”میں نے اپنے دو چچوں سے سنا جو بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ گھر والوں سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے (بٹائی) پر دینے سے منع کیا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے متعلق یہی معلوم ہے کہ اس دور میں زمین بٹائی پر دی جاتی تھی۔“ مگر پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں (بعد میں) کوئی نئی بات نہ فرما دی ہو جس کا انہیں علم نہ ہو سکا ہو۔ چنانچہ اس بنا پر انہوں نے زمین بٹائی پر دینا ترک کر دی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک رحمہ اللہ نے بواسطہ نافع پھر رافع اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ اور اوزاعی نے بواسطہ حفص بن عنان حنفی، نافع سے، انہوں نے رافع سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔“ اور ایسے ہی زید بن ابی انیسہ نے بواسطہ حکم، نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ رافع کے پاس ہوئے اور پوچھا کہ ”کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ اور ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابوالنجاشی سے، انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ کہا کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔“ نیز اوزاعی نے ابوالنجاشی سے روایت کیا، انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابوالنجاشی کا نام عطاء بن صہیب ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 18 (2345)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1547)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3921)، (تحفة الأشراف: 6879، 5571)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/465، 4/140) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2345) صحيح مسلم (1547)
حدیث نمبر: 3395
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ:" كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، وَأَنْفَعُ، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ، وَلَا بِرُبُعٍ، وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (بٹائی پر) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو (ایک بار) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے، ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے، یا (اگر خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معین مقدار کے غلہ پر بٹائی نہ دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3395]
جناب سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ تو ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس معاملے سے جو ہمارے لیے نفع آور تھا منع فرما دیا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی ہمارے لیے نفع آور اور سود مند ہے۔“ ہم نے پوچھا: ”اور وہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کے پاس زمین ہو تو چاہیے کہ خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کے لیے دے دے، لیکن تہائی یا چوتھائی یا متعین غلے پر بٹائی پر نہ دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ البیوع 18 (1548)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3904، 3905، 3926)، (تحفة الأشراف: 3559،15570)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (1)، مسند احمد (3/464، 465، 466) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1548)