🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب في الرجل يزني بجارية امرأته
باب: بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے شخص کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4459
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، قَالَ:" إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جُلِدَ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا ہو: اگر اس کی بیوی نے اس کے لیے لونڈی کو حلال کر دیا ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں، اور اگر حلال نہ کیا ہو تو میں اسے رجم کروں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4459]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ: جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ ملوث ہو جائے تو اگر بیوی نے اسے اس کے لیے حلال کر دیا ہو تو اس (شوہر) کو سو کوڑے مارے جائیں اور اگر حلال نہ کرے تو میں اسے رجم کروں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11613) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (3362) وانظر الحديث السابق (4458)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4458
حَدَّثَنَا  مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا  أَبَانٌ ، عَنْ  قَتَادَةَ ، عَنْ  خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ  حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ رَجُلا يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرَفَعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ  وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْكُوفَةِ، فَقَالَ: " لأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكْنُ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ " . فَوَجَدُوهُ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجَلَدَهُ مِائَةً. قَالَ قَتَادَة: كَتَبْتُ إِلَى حَبِيبِ بْن سَالِمٍ فَكَتَبَ إِلَيَّ بِهَذَا.
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن حنین نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی، معاملہ کوفہ کے امیر نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے کہا: میں بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، اگر تمہاری بیوی نے اسے تمہارے لیے حلال کر دیا تھا تو تمہیں سو کوڑے ماروں گا، اور اگر اسے تمہارے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں تمہیں رجم کروں گا، پھر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے اس لونڈی کو حلال کر دیا تھا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھے لکھ بھیجی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4458]
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ ایک شخص جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ ملوث ہو گیا۔ اس کا مقدمہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ وہ کوفہ کے امیر تھے۔ تو انہوں نے کہا: میں تیرے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ کروں گا۔ اگر اس (عورت) نے اس لونڈی کو تیرے لیے حلال کر دیا تو میں تجھے سو کوڑے ماروں گا، اگر وہ حلال نہ کرے تو پتھروں سے سنگسار کروں گا۔ چنانچہ اس عورت نے اسے اس کے لیے حلال کر دیا۔ تو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے اس کو سو کوڑے مارے۔ جناب قتادہ نے کہا: میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے مجھے یہ روایت لکھ بھیجی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحدود 21 (1451)، سنن النسائی/النکاح 70 (3362)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2551)، (تحفة الأشراف: 11613)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6 /272، 276، 277)، دي /الحدود 20 (2374) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حبیب بن سالم کے بارے میں بہت کلام ہے، اور ان کا نعمان بن بشیر سے سماع ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (3363) وأعله الترمذي (1452) وللحديث شواھد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4460
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ: إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا، فَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ وَسَلَّامٌ عَنْ الْحَسَنِ، هَذَا الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرْ يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ قَبِيصَةَ.
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی تھی فیصلہ کیا کہ اگر اس نے جبراً جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے، اور اس کی مالکہ کو اسے ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی، اور اگر لونڈی نے خوشی سے اس کی مان لی ہے تو وہ اس کی ہو جائیگی، اور اسے لونڈی کی مالکہ کو ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4460]
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے ملوث ہو گیا، تو اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ اگر اس شوہر نے لونڈی کو مجبور کیا ہو تو وہ لونڈی آزاد ہوگی، اور اس (شوہر) پر لازم ہوگا کہ اس کی مالکہ کو اسی جیسی لونڈی مہیا کرے۔ اگر لونڈی ازخود راضی تھی تو یہ اسی (شوہر) کی ہوئی اور شوہر پر لازم ہوگا کہ اس کی مالکہ کو اسی جیسی لونڈی لا کر دے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یونس بن عبید، عمرو بن دینار، منصور بن زاذان اور سلام نے حسن بصری سے یہ حدیث مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی بیان کی ہے۔ یونس اور منصور نے اپنی سند میں قبیصہ (قبیصہ بن حریث) کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/النکاح 70 (3365)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2552)، (تحفة الأشراف: 4559)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/476، 5/6) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (قتادہ اور حسن بصری مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
وضاحت: ۱؎: خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کسی فقیہ کو نہ پایا جس نے اس حدیث کے مطابق فتویٰ دیا ہو، شاید یہ حدیث منسوخ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (3365) الحسن صرح بالسماع عند البيھقي (8/ 240)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں