سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
181. باب : ما جاء في كم يصلي بالليل
باب: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟
حدیث نمبر: 1360
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1360]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 211 (443، 444)، سنن النسائی/قیام اللیل 33 (1697)، (تحفة الأشراف: 15951)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (619)، الوتر 3 (1123)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (738)، سنن ابی داود/الصلاہ 293 (1334)، مسند احمد (6/100، 253)، سنن الدارمی/الصلاة 148، (1487) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس باب میں مختلف روایات وارد ہوئی ہیں، کسی میں سات رکعت ہے، کسی میں نو رکعت، کسی میں گیارہ رکعت، اور کسی میں تیرہ رکعت کا ذکر ہے، واضح رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی ہمیشہ آٹھ رکعت پڑھتے، اور یہ اختلاف وتر میں ہے کیونکہ آپ کبھی وتر کی ایک رکعت پڑھتے، تو کل نو رکعت ہوتیں، اور کبھی تین رکعت پڑھتے تو گیارہ رکعت ہوتیں، اور کبھی پانچ رکعت وتر پڑھتے تو سب مل کر تیرہ رکعت ہو جاتیں، اور بعض نے تیرہ رکعت کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ آپ آٹھ رکعت تہجد، اور تین رکعت وتر، اور دو رکعت فجر کی سنتیں سب مل کر تیرہ رکعت ہوتیں ہیں پڑھتے تھے جیسا کہ آنے والی حدیث میں مذکور ہے واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1177
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُسَلِّمُ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت پہ سلام پھیرتے تھے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1177]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے اور ایک وتر پڑھتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16618، ومصباح الزجاجة: 416) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1191
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَفْتِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَدْعُو رَبَّهُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ".
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا رات میں آپ کو بیدار کر دیتا، آپ مسواک اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، بیچ میں کسی بھی رکعت پر نہ بیٹھتے، ہاں آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے، اس کا ذکر کرتے اور حمد کرتے ہوئے اسے پکارتے، پھر اٹھ جاتے، سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کرتے، اور اپنے رب سے دعا کرتے، اور اس کے نبی پر درود (صلاۃ) پڑھتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم سن لیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے، یہ سب گیارہ رکعتیں ہوئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی، اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہو گیا، تو آپ سات رکعتیں وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1191]
حضرت سعد بن ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرتے ہوئے کہا: ”ام المومنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز وتر (تہجد) کے متعلق ارشاد فرمائیے۔“ انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور (وضو کے لیے) پانی تیار رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ رات کے جس حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھانا چاہتا، اٹھا دیتا، آپ مسواک کرتے، وضو کرتے، پھر نو رکعت نماز پڑھتے، اس میں صرف آٹھویں رکعت پر (تشہد کے لیے) بیٹھتے تو اپنے رب سے دعائیں کرتے۔ (یعنی) اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریف فرماتے، اور دعائیں پڑھتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے۔ کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر (تشہد میں) بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریفیں کرتے، رب سے دعائیں مانگتے، اور اس کے نبی پر درود پڑھتے، پھر (قدرے بلند آواز سے) سلام پھیرتے جو ہمیں سن جائے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔ یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ سات وتر پڑھتے تھے اور سلام کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/السہو 67 (1316)، (تحفة الأشراف: 16107)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 18 (746)، الصلاة 316 (1342)، مسند احمد (6/44، 54) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1358
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ فِيهِنَّ سَجْدَةً بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان رکعتوں میں سجدہ اتنا طویل کرتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، اور جب مؤذن صبح کی پہلی اذان سے فارغ ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1358]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشاء سے فارغ ہونے کے بعد سے صبح صادق تک گیارہ رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے اور ان رکعتوں میں (اتنا لمبا) سجدہ کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اٹھانے سے پہلے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ سکتا تھا۔ پھر جب مؤذن نمازِ فجر کی پہلی اذان دے کر خاموش ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہلکی سی دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 316 (1336، 1337)، سنن النسائی/الأذان 41 (686)، (تحفة الأشراف: 15615، 16618، ومصباح الزجاجة: 477)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (619)، االتہجد 3 (1123)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (736)، سنن الترمذی/الصلاہ 209 (441)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (8)، مسند احمد (6/34، 35)، سنن الدارمی/الصلاہ 148 (1487) (صحیح)» (بوصیری نے اس حدیث کی تخریج میں سنن کبریٰ کا ذکر کیا ہے، جب کہ یہ سنن صغری میں ہے، اس لئے یہ زدائد میں سے نہیں ہے، کما سیأتی: 361 أیضاً)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1359
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1359]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز ادا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 17 (737)، (تحفة الأشراف: 17052)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 10 (1140)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1334)، سنن الترمذی/الصلاة210 (444)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (8) (صحیح)» (دوسری روایت میں ہے کہ تیرہ رکعتوں میں ایک رکعت وتر کی، اور دو رکعت فجر کی سنت تھی، نیز دوسری احادیث میں 11 رکعت کا ذکر ہے اس لئے بعض اہل علم نے 13 والی رکعت کو شاذ کہا ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری و تمام المنة)۔
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ احدى عشرة ركعة
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم