سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب : كيف الوتر بسبع
باب: سات رکعت وتر پڑھنے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1719
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ , فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا" مُخْتَصَرٌ خَالَفَهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے، اور بدن پر گوشت چڑھ گیا، تو آپ سات رکعت پڑھنے لگے، اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے تھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت اور پڑھتے تو میرے بیٹے یہ نو رکعتیں ہوئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی صلاۃ پڑھتے تو چاہتے کہ اس پر مداومت کریں، (یہ حدیث مختصر ہے)۔ ہشام دستوائی نے شعبہ کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1719]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے اور فربہ ہو گئے تو آپ سات وتر پڑھتے تھے۔ آخری کے سوا کسی رکعت میں (تشہد کے لیے) نہ بیٹھتے تھے۔ اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر وہ رکعات پڑھتے تھے۔ تو یہ نو رکعات ہو گئیں اے بیٹا! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نفل نماز شروع کر لیتے تھے تو اس پر ہمیشگی کو پسند فرماتے تھے۔ یہ روایت مختصر ہے۔ ہشام دستوائی نے اس روایت میں شعبہ کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1719]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16115) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 763
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرَةٌ يَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهَا، فَفَطَنَ لَهُ النَّاسُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمُ الْحَصِيرَةُ، فَقَالَ:" اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ"، ثُمَّ تَرَكَ مُصَلَّاهُ ذَلِكَ فَمَا عَادَ لَهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی جسے آپ دن میں بچھایا کرتے تھے، اور رات میں اس کو حجرہ نما بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے، لوگوں کو اس کا علم ہوا تو آپ کے ساتھ وہ بھی نماز پڑھنے لگے، آپ کے اور ان کے درمیان وہی چٹائی حائل ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اتنا ہی) عمل کرو جتنا کہ تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں تھکے گا البتہ تم (عمل سے) تھک جاؤ گے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر مداومت ہو گرچہ وہ کم ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جگہ چھوڑ دی، اور وہاں دوبارہ نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ جب کوئی کام کرتے تو اسے جاری رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 763]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی جسے آپ دن کو بچھا لیتے تھے اور رات کو اس سے حجرہ سا بنا لیتے تھے اور اس میں نماز پڑھتے۔ لوگوں کو آپ کی نماز کا پتہ چل گیا تو وہ آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے جب کہ ان کے اور آپ کے درمیان وہ چٹائی حائل تھی۔ آپ نے فرمایا: ”اتنے عمل کے شائق بنو جس کی آسانی کے ساتھ طاقت رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم ہی اکتا جاؤ گے (اور وہ نیک کام چھوڑ دو گے۔) اللہ تعالیٰ کا سب سے پسندیدہ کام وہ ہے جس پر ہمیشگی ہو اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔“ پھر آپ نے اس جگہ نماز پڑھنی چھوڑ دی۔ دوبارہ نہیں پڑھی (پھر گھر میں پڑھنے لگے) حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کر لی۔ اور آپ جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر ہمیشگی کرتے۔ (یہ نہیں کہ چار دن کیا، پھر چھوڑ دیا۔) [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 81 (730) مختصراً، اللباس 43 (5861)، صحیح مسلم/المسافرین 30 (782)، سنن ابی داود/الصلاة 317 (1368) (من قولہ: اکلفوا من العمل الخ)، سنن ابن ماجہ/إقامة 36 (942) مختصراً، (تحفة الأشراف: 17720)، مسند احمد 6/40، 61، 241، (ولیس قولہ: ”ثم ترک م صلاة۔۔۔حتی قبضہ اللہ‘‘ عند أحد سوی المؤلف (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1643
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ , فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَتْ: فُلَانَةُ، لَا تَنَامُ فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا , فَقَالَ:" مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ , فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَلَكِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اور ان کے پاس ایک عورت (بیٹھی ہوئی) تھی تو آپ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں (عورت) ہے جو سوتی نہیں ہے، پھر انہوں نے اس کی نماز کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چپ رہو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تمہیں طاقت ہو، قسم اللہ کی، اللہ نہیں تھکتا ہے یہاں تک کہ تم تھک جاؤ، پسندیدہ دین (عمل) اس کے نزدیک وہی ہے جس پر آدمی مداومت کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1643]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے جبکہ ان کے پاس ایک عورت بیٹھی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: فلاں عورت ہے جو رات کو سوتی نہیں۔ میں نے اس کی نماز کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: ”رہنے دو۔ اتنا کام اختیار کرو جس کی تم (ہمیشہ) طاقت رکھ سکتی ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتائے گا۔ تم ہی (نیکی کرنے سے) اکتا جاؤ گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دینی کام زیادہ اچھا لگتا تھا جس پر اس کام والا ہمیشگی کرے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 32 (43)، التھجد 18 (1151)، صحیح مسلم/المسافرین 32 (785)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزھد 28 (4238)، (تحفة الأشراف: 17307)، مسند احمد 6/51، ویأتی عند المؤلف فی الإیمان 29 برقم: 5038 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1722
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ لَمَّا أَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا أَخْبَرَنَا، أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ أَوْ أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: مَنْ؟ قَالَ: عَائِشَةُ، فَأَتَيْنَاهَا فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا وَدَخَلْنَا فَسَأَلْنَاهَا , فَقُلْتُ: أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ:" كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَجْلِسُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعًا أَيْ بُنَيَّ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا".
سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں اس ہستی کو نہ بتاؤں یا اس ہستی کی خبر نہ دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کو زمین والوں میں سب سے زیادہ جانتی ہے؟ میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، تو ہم ان کے پاس آئے، اور ہم نے انہیں سلام کیا، اور ہم اندر گئے، اور اس بارے میں میں نے ان سے پوچھا، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے آپ کی مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے، پھر رات کو جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا آپ کو جگا دیتا، آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، سوائے آٹھویں کے ان میں سے کسی میں قعدہ نہیں کرتے، اللہ کی حمد کرتے اس کا ذکر کرتے، اور دعا مانگتے، پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے، پھر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے تو اللہ کی حمد اور اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جسے آپ ہمیں سناتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوتی تھیں، لیکن جب آپ بوڑھے ہو گئے اور آپ کے جسم پر گوشت چڑھ گیا تو آپ وتر سات رکعت پڑھنے لگے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، اس طرح میرے بیٹے! یہ کل نو رکعتیں ہوتی تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو چاہتے کہ اس پر مداومت کریں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1722]
حضرت زرارہ بن اوفیٰ رحمہ اللہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں: جب حضرت سعد بن ہشام بن عامر رحمہ اللہ ہمارے پاس آئے تو انہوں نے ہمیں بتایا: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر نماز کے بارے میں پوچھا۔ وہ فرمانے لگے: کیا میں تمہیں ایسی شخصیت نہ بتاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر نماز کو روئے ارض پر بسنے والے تمام لوگوں سے زیادہ جانتی ہیں؟ میں نے کہا: کون؟ فرمایا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (کیونکہ وہ آپ کی بیوی تھیں اور آپ کی خلوت کی ساتھی تھیں۔) ہم وہاں گئے، انہیں سلام کیا، ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے سوال کیا۔ میں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کی نماز کے بارے میں بتائیے۔ فرمانے لگیں: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے۔ رات کو جس وقت اللہ تعالیٰ چاہتا، آپ کو جگا دیتا۔ آپ مسواک اور وضو فرماتے، پھر نو رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ آٹھویں رکعت کے علاوہ کسی رکعت میں تشہد کے لیے نہ بیٹھتے۔ (آٹھویں رکعت میں بیٹھ کر) اللہ تعالیٰ کی حمد و ذکر فرماتے اور دعائیں پڑھتے، پھر بغیر سلام کے اٹھ کھڑے ہوتے اور نویں رکعت پڑھ کر بیٹھتے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ذکر فرماتے اور دعائیں پڑھتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہمیں سنائی دیتا، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے۔ تو یہ گیارہ رکعات ہو گئیں، اے بیٹے! پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے اور آپ کو گوشت نے پکڑ لیا (آپ فربہ ہو گئے) تو سات رکعات پڑھ کر سلام پھیرتے اور بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے۔ تو اے بیٹا! یہ نو ہو گئیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز شروع فرما لیتے تو اس پر ہمیشگی اور پابندی کو پسند فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1316، 1602 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5038
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا , وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" , قَالَتْ: فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ:" مَهْ , عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا , وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ان کے پاس ایک عورت تھی، آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ کہا: فلانی ہے، یہ سوتی نہیں، اور وہ اس کی نماز کا تذکرہ کرنے لگیں، آپ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تم میں سکت اور طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا، لیکن تم (عمل کرتے کرتے) تھک جاؤ گے اسے تو وہ دینی عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے آدمی پابندی سے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 5038]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے پاس ایک عورت بیٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں عورت ہے، یہ (رات کو) بالکل نہیں سوتی اور اس کی (نفل) نماز کا ذکر کرنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس کرو، اتنا کام کیا کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم اکتا جاؤ گے۔ دین کے کاموں میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی کر سکے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 5038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1643 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن