🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب : المعدن
باب: کان کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2499
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" جُرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنویں میں گر کر مر جانا رائیگاں ہے، اور کان میں دب کر مر جانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینہ میں پانچواں حصہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2499]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کا لگایا ہوا زخم رائیگاں ہے اور کنویں کی وجہ سے ہونے والا نقصان رائیگاں ہے، اور معدنی کان کی وجہ سے ہونے والا نقصان بھی رائیگاں ہے اور مدفون خزانہ (ملنے کی صورت) میں پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2499]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 66 (1499)، صحیح مسلم/الحدود 11 (1710)، (تحفة الأشراف: 13236)، موطا امام مالک/الزکاة 4 (9)، العقول 18 (12) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2497
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ , وأَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنوئیں میں گر کر کوئی مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے، کان میں کوئی دب کر مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے ۱؎ اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2497]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کا کیا ہوا نقصان رائیگاں ہے، کنویں کا نقصان رائیگاں ہے اور معدنی کان کا نقصان بھی رائیگاں ہے اور مدفون خزانے میں پانچواں حصہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2497]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 11 (1710)، سنن ابی داود/الخراج40 (3085)، سنن الترمذی/الأحکام37 (1377)، سنن ابن ماجہ/الدیات27 (2673)، (تحفة الأشراف: 13128، 13310)، موطا امام مالک/الزکاة4 (9)، العقول 18 (12)، مسند احمد 2/228، 229، 254، 274، 285، 319، 382، 386، 406، 411، 414، 454، 456، 467، 475، 482، 492، 495، 499، 501، 507، سنن الدارمی/الزکاة30 (1710) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة66 (1499)، المساقاة3 (2355)، الدیات28 (6912)، 29 (6913) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان چیزوں کے مالکوں سے دیت نہیں لی جائے گی۔ ۲؎: اور باقی چار حصے پانے والے کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2500
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، وَهِشَامٌ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنویں میں گر کر مر جانا لغو و رائیگاں ہے۔ جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے۔ کان میں دب کر مر جانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2500]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنویں کی وجہ سے ہونے والا نقصان رائیگاں ہے، جانور کا لگایا ہوا زخم رائیگاں ہے اور کان (معدنی) کی وجہ سے ہونے والا نقصان بھی رائیگاں ہے، اور مدفون شدہ خزانہ (مل جائے تو اس) میں سے پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہوگا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14506، 14550)، مسند احمد (2/499) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں