🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
149. باب : كيف يطوف أول ما يقدم وعلى أى شقيه يأخذ إذا استلم الحجر
باب: آنے والا طواف کہاں سے شروع کرے؟ اور حجر اسود کو بوسہ لے کر کدھر جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2942
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ مَضَى عَلَى يَمِينِهِ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى الْمَقَامَ، فَقَالَ:" وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125" , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَالْمَقَامُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو مسجد الحرام میں گئے، اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اس کے داہنے جانب (باب کعبہ کی طرف) چلے، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں معمول کی چال چلے، پھر مقام ابراہیم پر آئے اور آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی پھر دو رکعت نماز پڑھی، اور مقام ابراہیم آپ کے اور کعبہ کے بیچ میں تھا۔ پھر دونوں رکعت پڑھ کر بیت اللہ کے پاس آئے، اور حجر اسود کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکل گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2942]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مسجد میں داخل ہوئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر دائیں طرف کو چلے۔ تین چکر دوڑ کر (کندھے ہلاتے ہوئے) چلے اور چار چکر آہستہ چلے، پھر مقام ابراہیم کے پاس آئے اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ۔ اور دو رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ مقام ابراہیم آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان تھا۔ دو رکعتیں پڑھنے کے بعد پھر بیت اللہ کے پاس گئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر صفا کی طرف نکل گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 19 (1218)، سنن الترمذی/الحج 33 (856)، (تحفة الأشراف: 2597)، 38 (862)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 57 (1905)، سنن ابن ماجہ/الحج 29 (2951)، 84 (3074)، مسند احمد (3/340، 373، 388، 397)، سنن الدارمی/المناسک 27 (1882) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2943
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ" يَرْمُلُ الثَّلَاثَ، وَيَمْشِي الْأَرْبَعَ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے تین پھیروں میں رمل ۱؎ کرتے اور چار پھیرے عام چال چلتے، اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2943]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پہلے تین چکروں میں رمل کرتے تھے اور آخری چار چکروں میں آرام سے چلتے تھے اور وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8218)، مسند احمد (2/13) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اکڑ کر مونڈھے ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لیے چلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2944
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ، فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَيَمْشِي أَرْبَعًا، ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آتے ہی جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو تین پھیرے دوڑ کر چلتے اور چار پھیرے عام چال سے چلتے، پھر دو رکعت پڑھتے، پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2944]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حج اور عمرے میں پہلا طواف کرتے تو تین چکروں میں تیز چلتے اور چار چکروں میں آہستہ چلتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے، پھر صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگاتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 63 (1616)، صحیح مسلم/الحج 39 (1261)، سنن ابی داود/الحج 51 (1893)، (تحفة الأشراف: 8453)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/ المناسک 29 (2950)، مسند احمد (2/114، 155) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2946
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ" يَخُبُّ فِي طَوَافِهِ حِينَ يَقْدَمُ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ثَلَاثًا، وَيَمْشِي أَرْبَعًا، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ میں آتے تو پہلے تین پھیروں میں کندھے ہلاتے ہوئے دوڑتے اور باقی چار پھیروں میں عام رفتار سے چلتے، اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2946]
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب حج یا عمرہ میں آتے تو اپنے (پہلے) طواف میں تین چکروں میں بھاگتے تھے اور چار چکروں میں چلتے تھے، نیز انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 57 (1604) تعلیقًا (تحفة الأشراف: 8262) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2947
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحِجْرِ إِلَى الْحِجْرِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرتے یہاں تک آپ نے تین پھیرے پورے کئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2947]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حجرِ اسود سے حجرِ اسود تک رمل فرمایا حتیٰ کہ تین چکر پورے ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 39 (1263)، سنن الترمذی/الحج 34 (857)، سنن ابن ماجہ/الحج 29 (2951)، (تحفة الأشراف: 2594)، مسند احمد (3/373، 394)، سنن الدارمی/المناسک 27 (1882) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2948
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ، قَالَ الْمُشْرِكُونَ: وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا، فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى ذَلِكَ،" فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ نَاحِيَةِ الْحِجْرِ، فَقَالُوا: لَهَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب (فتح کے موقع پر) مکہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے: انہیں یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے لاغر و کمزور کر دیا ہے، اور انہیں وہاں شر پہنچا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دی تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے تیز چلیں، اور دونوں رکنوں (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان عام چال چلیں، اور مشرکین اس وقت حطیم کی جانب ہوتے تو انہوں نے (ان کو اکڑ کر کندھے اچکاتے ہوئے تیز چلتے ہوئے دیکھ کر) کہا: یہ تو یہاں سے بھی زیادہ مضبوط اور قوی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2948]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ (عمرۃ القضاء میں) مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے: انھیں یثرب کے بخار نے کمزور کر دیا ہے اور ان کی حالت بہت پتلی ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع فرما دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ رمل کریں، البتہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان آہستہ چلیں کیونکہ مشرکین حطیم کی جانب (شمالی جانب) تھے۔ تو مشرکین (انھیں رمل کرتے دیکھ کر) کہنے لگے: یہ تو بہت زیادہ قوی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 55 (1602)، المغازی 43 (4256)، صحیح مسلم/الحج 39 (1266)، سنن ابی داود/الحج 51 (1886)، (تحفة الأشراف: 5438)، سنن الترمذی/الحج 39 (863) مسند احمد (1/290، 294، 295، 273، 306) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2966
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا انْتَهَى إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَرَأَ: فَاتِحَةَ الْكِتَابِ , وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ , وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , ثُمَّ عَادَ إِلَى الرُّكْنِ، فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام ابراہیم پر پہنچے تو آپ نے آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، تو اس میں آپ نے سورۃ فاتحہ اور «قل يا أيها الكافرون»، اور «قل هو اللہ أحد» پڑھی پھر آپ حجر اسود کے پاس آئے، اور آپ نے اس کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکلے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2966]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مقامِ ابراہیم کے پاس پہنچے تو آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] تم مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔ پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں اور (ان میں) سورۃ الفاتحہ (کے ساتھ) سورہ ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور سورہ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھیں، پھر آپ حجرِ اسود کی طرف گئے، اسے بوسہ دیا، پھر کوہِ صفا کی طرف نکل گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2964 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2981
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَأَلُوا ابْنَ عُمَرَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ فَقَالَ:" كَانَ فِي جَمَاعَةٍ مِنَ النَّاسِ، فَرَمَلُوا فَلَا أُرَاهُمْ رَمَلُوا إِلَّا بِرَمَلِهِ".
زہری کہتے ہیں کہ لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا و مروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے (میں خود تو آپ کو دیکھ نہ سکا) لیکن لوگوں نے رمل کیا تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ سے ہی لوگوں نے رمل کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2981]
امام زہری بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان رمل کرتے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت میں تھے اور وہ لوگ رمل کر رہے تھے۔ میرا خیال ہے وہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ ہی سے رمل کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7446) (ضعیف الإسناد) (زہری کا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الزهري لم يسمع من ابن عمر رضي الله عنهما فالسند منقطع. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 343

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2982
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِنَّمَا سَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں (تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم مدینے جا کر کمزور و لاغر ہو گئے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2982]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا و مروہ کے درمیان اس لیے دوڑے تھے کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 80 (1649)، المغازي 43 (4257)، صحیح مسلم/الحج 39 (1266)، (تحفة الأشراف: 5943)، سنن الترمذی/الحج 39 (863)، مسند احمد (1/221، 255، 306، 310، 311، 373) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں