🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب : من كلم في سبيل الله عز وجل
باب: اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اللہ کے راستے میں گھائل ہو گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ۱؎ تو قیامت کے دن (اس طرح) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہو گا۔ رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 10 (2803)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، (تحفة الأشراف: 13690)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد 15 (2795)، موطا امام مالک/الجہاد 14 (29)، مسند احمد (3/2 24، 31، 398، 400، 512، 531، 537)، سنن الدارمی/الجہاد 15 (2450) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس جملہ معترضہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے شخص کے عمل کا دارومدار اس کے اخلاص پر ہے جس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2012
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْحَفْرُ عَلَيْنَا لِكُلِّ إِنْسَانٍ شَدِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ" , قَالُوا: فَمَنْ نُقَدِّمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , قَالَ: فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے (غزوہ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہر ایک آدمی کے لیے (الگ الگ) قبر کھودنا ہمارے لیے دشوار ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھودو اور گہرا کھودو اچھی طرح کھودو، اور دو دو تین تین (افراد) کو ایک ہی قبر میں دفن کر دو، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پہلے ہم کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: پہلے انہیں رکھو جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک ہی قبر میں رکھے جانے والے تین افراد میں سے میرے والد تیسرے فرد تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 2012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 71 (3215، 3216، 3217)، سنن الترمذی/الجھاد 33 (1713)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 41 (1560) مختصراً، (تحفة الأشراف: 11731)، مسند احمد 4/19، 20، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2013، 2017-2020 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2013
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قال: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أُصِيبَ مَنْ أُصِيبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَصَابَ النَّاسَ جِرَاحَاتٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس دن احد کی لڑائی ہوئی تو جن مسلمانوں کو مارا جانا تھا مارے گئے، اور جسے زخمی ہونا تھا زخمی ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قبریں) کھودو اور چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین لوگوں کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں (قبر میں) پہلے رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 2013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَنْ نُقَدِّمُ؟ قَالَ:" قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب (غزوہ) احد کا دن آیا، تو لوگوں کو سخت پریشانی ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبریں کھودو اور اسے چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین دفنا دو، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: پہلے اسے رکھو جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 2017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2018
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: اشْتَدَّ الْجِرَاحُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ) احد کے دن (لوگ) شدید زخمی ہوئے (اور جاں بحق ہو گئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی گئی ۱؎، آپ نے فرمایا: (قبریں) کھودو، انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور ایک (ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہوا سے آگے رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ سے اس پریشانی کا ذکر کیا گیا کہ اتنے لوگوں کے لیے قبریں کھودنا بہت مشکل امر ہے، انہیں کیسے دفنایا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2019
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" احْفِرُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قبریں) کھودو، اور انہیں خوبصورت بناؤ، اور دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 2019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2020
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ) احد کے دن میرے والد قتل کئے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قبریں) کھودو اور انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور (ایک ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو، چنانچہ میرے والد تین میں کے تیسرے تھے، اور انہیں قرآن زیادہ یاد تھا تو وہ پہلے رکھے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 2020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں