🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : صيد الكلب المعلم
باب: سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4270
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُرْسِلُ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ فَيَأْخُذُ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَأَخَذَ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ، قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ"، قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ، قَالَ:" إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں (شکار پر) سدھایا ہوا کتا چھوڑتا ہوں اور وہ جانور پکڑ لیتا ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تم سدھایا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ شکار پکڑے تو تم اسے کھاؤ میں نے عرض کیا: اگر وہ اسے مار ڈالے؟ تو آپ نے فرمایا: اگرچہ وہ اسے مار ڈالے۔ میں نے عرض کیا: میں معراض پھینکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: اگر نوک لگے تو کھاؤ اور اگر آڑا لگے تو نہ کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4270]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں، وہ اسے پکڑ لے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑے اور «بِسْمِ اللّٰهِ» بسم اللہ بھی پڑھے، پھر وہ پکڑ لے تو تو کھا سکتا ہے۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ قتل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ قتل کر دے۔ میں نے کہا: میں معراض تیر چلاتا ہوں تو پھر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ نوک کے بل لگے تو تو کھا سکتا ہے اور اگر وہ کسی اور جانب سے لگے تو پھر نہ کھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 3 (5477)، التوحید 13 (7397)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2827)، سنن الترمذی/الصید 1 (1465)، سنن ابن ماجہ/الصید 6 (3215)، (تحفة الأشراف: 9878)، مسند احمد (4/256، 258، 377، 380) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4268
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ لَمْ يَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَقَدْ أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَطْعَمْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَ كَلْبُكَ كِلَابًا، فَقَتَلْنَ: فَلَمْ يَأْكُلْنَ فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو شکار کے لیے بھیجو تو اس پر بسم اللہ پڑھ لو، اب اگر تمہیں وہ شکار مل جائے اور مرا ہوا نہ ہو تو اسے ذبح کرو اور اس پر اللہ کا نام لو ۱؎ اور اگر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ اور اس (کتے) نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو تو اس کو کھاؤ، اس لیے کہ اس نے تمہارے لیے ہی اس کا شکار کیا ہے۔ البتہ اگر تم دیکھو کہ اس نے اس میں سے کچھ کھا لیا ہے تو تم اس میں سے نہ کھاؤ۔ اس لیے کہ اب اس نے اسے اپنے لیے شکار کیا ہے۔ اور اگر تمہارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل گئے ہوں اور انہوں نے اس (شکار) کو قتل کر دیا ہو اور اسے کھایا نہ ہو تب بھی تم اس میں سے کچھ مت کھاؤ، اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4268]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: جب تو اپنا کتا (شکار کے پیچھے) چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر چھوڑ، پھر اگر تو شکار کو اس حال میں پا لے کہ کتے نے اسے قتل نہیں کیا تو اللہ کا نام لے کر اسے ذبح کر لے۔ اور اگر شکار کو اس حال میں پائے کہ کتا اسے قتل کر چکا ہے لیکن اس نے کچھ نہیں کھایا تو وہ شکار تو کھا سکتا ہے کیونکہ اس نے اسے تیرے لیے پکڑا ہے اور اگر تو دیکھے کہ کتے نے اس میں سے کچھ کھا لیا ہے تو تو اس میں سے کچھ بھی نہ کھا کیونکہ کتے نے تو اسے اپنے لیے پکڑا ہے۔ اور اگر تیرے کتے کے ساتھ اور کتے بھی مل جائیں، پھر وہ مل کر کسی جانور کو قتل کر دیں، پھر خواہ وہ اسے نہ بھی کھائیں تو بھی تو اس سے کچھ نہ کھا کیونکہ تجھے علم نہیں کہ ان میں سے کس کتے نے اسے قتل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 33 (175)، البیوع 3 (2054)، الصید 2 (5476)، 7(5483)، 8(5484)، 9(5486)، 10(5487)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2848، 2849)، سنن الترمذی/الصید 5 (1469)، سنن ابن ماجہ/الصید 6 (3213)، (تحفة الأشراف: 9862)، مسند احمد (4/256، 257، 258، 378، 379، 380)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4273، 4279، 4303، 4304) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: اللہ کا نام لے کر ذبح کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4269
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ، فَهُوَ وَقِيذٌ"، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْكَلْبِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَأَخَذَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ كَانَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبٌ آخَرُ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَ مَعَهُ فَقَتَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» (بے پر کے تیر) کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اگر اسے نوک لگی ہو تو کھاؤ اور اگر اسے آڑی لگی ہو تو وہ «موقوذہ» ہے ۱؎ میں نے آپ سے کتے کے (شکار کے) بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تم (شکار پر) کتا دوڑاؤ پھر وہ اسے پکڑے اور اس میں سے کھایا نہ ہو تو تم اسے کھاؤ اس لیے کہ اس کا پکڑ لینا ہی گویا شکار کو ذبح کرنا ہے۔ لیکن اگر تمہارے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا ہو اور تمہیں اندیشہ ہو کہ تمہارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے نے بھی پکڑا ہو اور وہ شکار مر گیا ہو تو مت کھاؤ۔ اس لیے کہ تم نے بسم اللہ صرف اپنے کتے پر پڑھی تھی دوسرے کتے پہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4269]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض (تیر) کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جانور تو تیر کی نوک سے شکار کرے، وہ تو کھا لے اور جو جانور اس کے پہلو سے شکار کرے (وہ نہ کھا کیونکہ) وہ چوٹ سے مرا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے (کے شکار) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا کتا چھوڑے اور وہ جانور کو جا پکڑے لیکن خود نہ کھائے تو تو اسے کھا سکتا ہے کیونکہ کتے کا پکڑنا بھی ذبح ہی ہے۔ اور اگر تیرے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا مل جائے اور تجھے خطرہ ہو کہ شاید اس کے ساتھ اس نے بھی پکڑا ہے اور مار دیا ہے تو تو نہ کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھی ہے، دوسرے کتے پر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4269]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 1 (5475)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن الترمذی/الصید 7 (1471)، سنن ابن ماجہ/الصید 6 (3214)، (تحفة الأشراف: 9860)، مسند احمد (4/256)، سنن الدارمی/الصید 1 (2045)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4274، 4279، 4313) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جو شکار کسی بھاری چیز سے مارا گیا ہو جیسے لاٹھی یا پتھر وغیرہ سے، یا کوئی جانور چھت وغیرہ سے گر کر مر جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4272
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ أَبُو صَالِحٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أُرْسِلُ كِلَابِي الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ فَآكُلُ، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ , فَأَمْسَكْنَ عَلَيْكَ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟، قَالَ:" وَإِنْ قَتَلْنَ"، قَالَ:" مَا لَمْ يَشْرَكْهُنَّ كَلْبٌ مِنْ سِوَاهُنَّ"، قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَيَخْزِقُ؟ قَالَ:" إِنْ خَزَقَ فَكُلْ، وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے ہوئے کتے چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتے ہیں، کیا میں اسے کھا سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو (اور وہ تمہارے لیے شکار پکڑ کر لائیں) تو اسے کھا لو، میں نے عرض کیا: اگر وہ اسے مار ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: اگرچہ وہ اسے مار ڈالیں، مگر یہ اسی وقت جب کہ اس کے ساتھ کوئی اور کتا شریک نہ ہوا ہو ۱؎ میں نے عرض کیا: میں معراض پھینکتا ہوں اور وہ (جانور کے جسم میں) گھس جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر وہ گھس جائے تو تم کھا لو اور اگر وہ آڑا پڑے تو نہ کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4272]
حضرت عدی بن حاتم (طائی) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے سدھائے ہوئے کتے شکار پر چھوڑتا ہوں، وہ شکار کو میرے لیے پکڑ کر رکھتے ہیں تو کیا میں کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو سدھائے ہوئے کتے چھوڑے اور وہ تیرے لیے شکار پکڑے رکھیں (خود نہ کھائیں) تو کھا لے۔ میں نے کہا: اگر وہ قتل کر دیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواہ قتل کر دیں، البتہ ان کے ساتھ کوئی اور کتا شریک نہ ہو۔ میں نے عرض کیا کہ میں «الْمِعْرَاضَ» (تیر) پھینکتا ہوں جو شکار کو پھاڑ دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو تیر پھاڑ دے تو کھا لے لیکن اگر وہ جانور کو نوک کی بجائے کسی اور جگہ سے لگے تو نہ کھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4270 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے: ۱- سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے۔ ۲- کتا سدھایا ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو۔ ۳- اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے بھیجا گیا ہو، پس اگر وہ خود سے بلا بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں، یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ ۴- کتے کو شکار پر بھیجتے وقت بسم اللہ کہا گیا ہو۔ ۵- سدھائے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہو گا اور یہ شکار حلال نہ ہو گا۔ ۶- کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لیے محفوظ رکھے تب یہ شکار حلال ہو گا ورنہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4273
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَخَالَطَتْهُ أَكْلُبٌ لَمْ تُسَمِّ عَلَيْهَا، فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيَّهَا قَتَلَهُ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: جب تم (شکار پر) اپنا کتا چھوڑو پھر اس کے ساتھ کچھ ایسے کتے بھی شریک ہو جائیں جن پر تم نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے تو تم اسے مت کھاؤ۔ اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ اسے کس کتے نے قتل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4273]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے (سدھائے ہوئے) کتے کو چھوڑے، پھر اس کے ساتھ اور کتے مل جائیں جن پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو تو اسے نہ کھا کیونکہ تو نہیں جانتا کہ ان میں سے کس کتے نے قتل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4274
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ كَلْبًا آخَرَ مَعَ كَلْبِكَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اسے (شکار کو) کھاؤ اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا پاؤ تو مت کھاؤ اس لیے کہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی تھی، دوسرے کتے پر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4274]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا کتا چھوڑے اور «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھے تو اس کا شکار کھا لے۔ اور اگر تو اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پائے تو پھر نہ کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھی تھی نہ کہ دوسرے پر۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4277
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْغَيْلَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي؟، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَوَجَدْتَ مَعَهُ غَيْرَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو تو اسے (شکار کو) کھاؤ اور اگر اس نے اس (شکار) میں سے کچھ کھایا ہو تو تم اسے نہ کھاؤ، اس لیے کہ اسے اس کتے نے اپنے لیے شکار کیا ہے، اور جب تم اپنے کتے کو چھوڑو پھر اس کے ساتھ اس کے علاوہ (کوئی کتا) پاؤ تو اس شکار کو مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے «بسم اللہ» صرف اپنے کتے پر پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4277]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں شکار کے لیے اپنا کتا چھوڑتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا کتا چھوڑے اور «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھے تو اس کا شکار کھا سکتا ہے۔ اگر کتا اس میں سے کچھ کھا لے تو پھر تو نہ کھا کیونکہ اس نے وہ شکار اپنے لیے پکڑا ہے۔ اور جب تو اپنا کتا چھوڑے، پھر اس کے ساتھ کوئی اور کتا پائے تو اس کا شکار نہ کھا کیونکہ تو نے صرف اپنے کتے پر «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھی ہے نہ کہ دوسرے پر۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 33 (175)، البیوع 3 (2054)، الصید 2 (5476)، (5486)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2854)، (تحفة الأشراف: 9863)، مسند احمد (4/380) سنن الدارمی/الصید 1 (2045)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4311) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4279
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا زَكَرِيَّا، وَعَاصِمٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ"، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ كَلْبِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟، قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تَذْكُرْ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ نوک سے مارا جائے تو کھا لو اور اگر وہ آڑے سے مارا جائے تو وہ «موقوذہ» ہے (جو حرام ہے)۔ میں نے آپ سے شکاری کتے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو تو اسے (شکار کو) کھاؤ، میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ اسے مار ڈالے؟ آپ نے فرمایا: اگرچہ وہ اسے مار ڈالے، ہاں اگر اس میں سے اس نے بھی کھا لیا تو تم مت کھاؤ اور اگر تم اس کے ساتھ اپنے کتے کے علاوہ کوئی کتا دیکھو اور اس نے شکار مار ڈالا ہو تو مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے اللہ کا نام صرف اپنے کتے پر لیا تھا کسی اور کتے پر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4279]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے تیر کے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: جسے تیر نوک کے بل لگا ہو، اسے کھا لے اور جسے عرض کے بل (یا کسی اور طرف سے) لگا ہو، وہ چوٹ سے مرنے والا جانور ہے۔ میں نے آپ سے شکاری کتے کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: جب تو کتا چھوڑے اور اللہ کا نام لے تو اس کا شکار کھا لے۔ میں نے کہا: اگر وہ قتل کر دے؟ آپ نے فرمایا: خواہ وہ قتل کر دے۔ لیکن اگر وہ اس میں سے کھانے لگے تو پھر نہ کھا۔ اور اگر تو اس کے ساتھ کوئی اور کتا پائے جبکہ جانور ختم ہو چکا ہو تو اسے نہ کھا کیونکہ تو نے اللہ کا نام صرف اپنے کتے پر لیا ہے نہ کہ دوسرے کتے پر۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4669 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4280
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْهِ، وَلَمْ يُمْسِكْ عَلَيْكَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ اسے مار ڈالے اور اس نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو تو تم کھاؤ، اور اگر اس نے اس میں سے کچھ کھایا ہو تو مت کھاؤ اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے نہ کہ تمہارے لیے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4280]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تو اپنا کتا چھوڑے اور اس پر «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھے، پھر وہ قتل بھی کر دے لیکن خود نہ کھائے تو وہ شکار تو کھا لے۔ اور اگر وہ کھانا شروع کر دے تو پھر نہ کھا کیونکہ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ) اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے نہ کہ تیرے لیے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4304
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ سَهْمَكَ، وَكَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ سَهْمُكَ فَكُلْ"، قَالَ: فَإِنْ بَاتَ عَنِّي لَيْلَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" إِنْ وَجَدْتَ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ شَيْءٍ غَيْرَهُ فَكُلْ، وَإِنْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: جب تم اپنا تیر چلاؤ یا کتا دوڑاؤ اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ تمہارے تیر سے مر جائے تو اسے کھاؤ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر وہ ایک رات میری پہنچ سے باہر رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنا تیر پاؤ اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کا اثر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ اور اگر وہ پانی میں گر جائے تو نہ کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4304]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تو «بِسْمِ اللّٰهِ» پڑھ کر اپنا تیر چلائے یا کتا چھوڑے اور تیرا تیر (شکار کو) قتل کر دے تو تو شکار کھا سکتا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ شکار مجھ سے ایک رات تک غائب رہا تو؟ آپ نے فرمایا: اگر تو اس جانور میں اپنا تیر پالے اور اس کے علاوہ کسی اور زخم کا نشان نہ ہو تو اسے کھا سکتا ہے، البتہ اگر وہ پانی میں گر گیا (اور مر گیا) ہو تو اسے مت کھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4305
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا أَهْلُ الصَّيْدِ، وَإِنَّ أَحَدَنَا يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ اللَّيْلَةَ وَاللَّيْلَتَيْنِ , فَيَبْتَغِي الْأَثَرَ فَيَجِدُهُ مَيِّتًا وَسَهْمُهُ فِيهِ؟، قَالَ:" إِذَا وَجَدْتَ السَّهْمَ فِيهِ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ سَبُعٍ , وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ فَكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ شکاری ہیں، ہم میں سے ایک شخص شکار کو تیر مارتا ہے تو وہ ایک رات یا دو رات غائب ہو جاتا ہے، وہ اس کا پتا لگاتا ہے یہاں تک کہ اسے مردہ پاتا ہے اور اس کا تیر اس کے اندر ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: جب تم اس میں تیر پاؤ اور اس میں کسی درندے کا نشان نہ ہو اور تمہیں یقین ہو جائے کہ وہ تمہارے تیر سے مرا ہے تو اسے کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4305]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم شکاری لوگ ہیں۔ کبھی ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیر چلاتا ہے اور وہ (شکار) اس سے ایک دو راتیں غائب رہتا ہے۔ شکاری اس کی کھوج لگاتا ہوا پہنچتا ہے تو اسے بے جان پاتا ہے جبکہ اس کا تیر اس میں پیوست ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا تیر اس میں لگا ہوا پہچان لے اور جانور میں کسی درندے کے زخم لگانے کا کوئی نشان نہ ہو اور تجھے یقین ہو کہ تیرے تیر ہی نے اسے قتل کیا ہے تو تو اسے کھا سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصید 4 (1468)، (تحفة الأشراف: 9854)، مسند احمد (4/377) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4307
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ؟، قَالَ:" إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر میں ایک رات کے بعد اس کے نشانات ڈھونڈتا ہوں، آپ نے فرمایا: جب تم اس کے اندر اپنا تیر پاؤ اور اس میں سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو تم کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4307]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں شکار کو تیر مارتا ہوں، پھر اس کا کھوج لگاتے ہوئے ایک رات کے بعد اسے پاتا ہوں (تو کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اس میں اپنا تیر پہچان لے، تو اسے کھا سکتا ہے بشرطیکہ کسی درندے نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4305 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4310
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ , فَتُمْسِكُ عَلَيَّ فَآكُلُ مِنْهُ؟، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ الْكِلَابَ يَعْنِي الْمُعَلَّمَةَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَأَمْسَكْنَ عَلَيْكَ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟، قَالَ:" وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مِنْهَا"، قُلْتُ: وَإِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ بِالْمِعْرَاضِ فَأُصِيبُ فَآكُلُ؟، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، وَسَمَّيْتَ فَخَزَقَ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے ہوئے کتے چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتے ہیں، کیا میں اس سے کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کتے دوڑاؤ یا چھوڑو، (یعنی سدھائے ہوئے) اور اللہ کا نام لے لو اور وہ تمہارے لیے شکار پکڑ لائیں تو تم کھاؤ۔ میں نے عرض کیا: اور اگر وہ اسے مار ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ اسے مار ڈالیں جب تک کہ اس میں کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جو ان کتوں میں سے نہیں تھا۔ میں نے عرض کیا: میں «معراض» (بے پر کے تیر) سے شکار کرتا ہوں اور مجھے شکار مل جاتا ہے تو کیا میں کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم «معراض» (بغیر پر والا تیر) پھینکو اور «بسم اللہ» پڑھ لو اور وہ (شکار کو) چھید ڈالے تو کھاؤ اور اگر وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4310]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سدھائے ہوئے کتے شکار پر چھوڑتا ہوں اور وہ اسے میرے لیے پکڑ رکھتے ہیں تو کیا میں اسے کھا لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو سدھائے ہوئے کتے اللہ کا نام لے کر چھوڑے اور وہ شکار کو تیرے لیے پکڑ رکھیں (خود نہ کھائیں) تو تو اسے کھا سکتا ہے۔ میں نے کہا: خواہ اسے قتل کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواہ قتل کر دیں بشرطیکہ ان کے ساتھ کوئی اور کتا شریک نہ ہو۔ میں نے کہا: میں معراض تیر پھینکتا ہوں اور کوئی جانور شکار کرتا ہوں تو کیا اسے کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو معراض تیر پھینکے اور «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھے، پھر وہ تیر شکار کو نوک کے ساتھ پھاڑے تو اسے کھا سکتا ہے۔ اور اگر وہ تیر چوڑائی کے بل جا کر لگے تو پھر اسے نہ کھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4270 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شکار کو چھید ڈالنے کی صورت میں اس سے خون بہے گا جو ذبح کا اصل مقصود ہے، اور آڑا لگنے کی صورت میں صرف چوٹ لگے گی اور خون بہے بغیر شکار مر جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4311
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقُتِلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» (آڑے نیزہ اور تیر) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب (شکار میں) «معراض» کی نوک لگے تو اسے کھاؤ اور جب آڑا «معراض» پڑے اور وہ (شکار) مر جائے تو وہ «موقوذہ» ۱؎ ہے، اسے مت کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4311]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْمِعْرَاضِ» تیر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ جانور کو نوک کے بل لگے تو اسے کھا سکتا ہے اور جب وہ عرض کے بل لگے اور جانور کو قتل کر دے تو وہ چوٹ سے مرا ہے، اسے مت کھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4277 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «موقوذہ» : چوٹ کھایا ہوا جانور، اس کا کھانا حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4312
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّرَّاعُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحْصَنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» (آڑے نیزہ اور تیر) کے شکار کے پوچھا سوال کیا تو آپ نے فرمایا: جب (شکار میں) «معراض» (آڑے نیزہ اور تیر) کی نوک لگے تو کھاؤ اور جب وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4312]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب وہ نوک کے بل لگے تو شکار کھا لے اور جب عرض کے بل لگے تو مت کھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9857) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4313
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَغَيْرُهُ عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» (آڑے نیزہ اور تیر) کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب اس (شکار) میں «معراض» کی نوک لگے تو کھاؤ اور جب وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ کیونکہ وہ «موقوذہ» (چوٹ کھایا ہوا شکار) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4313]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جس جانور کو تو اس کی نوک سے شکار کرے، اسے تو کھا لے اور جس جانور کو وہ عرض کے بل لگے، وہ چوٹ سے مرنے والا جانور ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4269 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں