سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب : من اقتص وأخذ حقه دون السلطان
باب: سلطان (حکمراں) کو بتائے بغیر جو شخص اپنا بدلہ خود لے لے؟
حدیث نمبر: 4865
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَخَذَفْتَهُ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ حَرَجٌ"، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى:" جُنَاحٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی بلا اجازت تمہارے یہاں جھانکے پھر تم اسے پتھر پھینک کر مارو اور اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا“۔ اور ایک بار آپ نے فرمایا: ”کوئی گناہ نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4865]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص تجھے بغیر اجازت جھانکنے لگے اور تو کنکری وغیرہ مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تجھ پر کوئی تاوان و گناہ عائد نہیں ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 15 (6902)، صحیح مسلم/الأدب 9 (2158)، (تحفة الأشراف: 13676)، مسند احمد (2/243) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4864
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ، فَلَا دِيَةَ لَهُ وَلَا قِصَاصَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے، پھر وہ اس کی آنکھ پھوڑ دے، تو جھانکنے والا نہ دیت لے سکے گا نہ بدلہ“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4864]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کے گھر میں بغیر اجازت لیے جھانکنے لگے اور وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کو دیت ملے گی نہ قصاص۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12219)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأدب 9 (2563)، سنن ابی داود/الأدب 136 (5172)، مسند احمد (2/266، 414، 527) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح