الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
The Book of As-Salat (The Prayer)
70. بَابُ ذِكْرِ الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي الْمَسْجِدِ:
70. باب: مسجد کے منبر پر مسائل خرید و فروخت کا ذکر کرنا درست ہے۔
(70) Chapter. Mentioning about sales and purchases on the pulpit in the mosque.
حدیث نمبر: 456
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا علي بن عبد الله، قال: حدثنا سفيان، عن يحيى، عن عمرة، عن عائشة، قالت: اتتها بريرة تسالها في كتابتها، فقالت: إن شئت اعطيت اهلك ويكون الولاء لي، وقال اهلها: إن شئت اعطيتها ما بقي، وقال سفيان مرة: إن شئت اعتقتها ويكون الولاء لنا، فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرته ذلك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" ابتاعيها فاعتقيها، فإن الولاء لمن اعتق، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر، وقال سفيان مرة: فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر، فقال: ما بال اقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، من اشترط شرطا ليس في كتاب الله فليس له وإن اشترط مائة مرة"، قال علي: قال يحيى، وعبد الوهاب، عن يحيى، عن عمرة نحوه، وقال جعفر بن عون: عن يحيى، قال: سمعت عمرة، قالت: سمعت عائشة، ورواه مالك، عن يحيى، عن عمرة، ان بريرة، ولم يذكر صعد المنبر.حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَتْهَا بَرِيرَةُ تَسْأَلُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتُ أَهْلَكِ وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي، وَقَالَ أَهْلُهَا: إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتِهَا مَا بَقِيَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: إِنْ شِئْتِ أَعْتَقْتِهَا وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لَنَا، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَّرَتْهُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ"، قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ يَحْيَى، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ نَحْوَهُ، وَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ: عَنْ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ صَعِدَ الْمِنْبَرَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ نے فرمایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہ (لونڈی) ان سے اپنی کتابت کے بارے میں مدد لینے آئیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم چاہو تو میں تمہارے مالکوں کو یہ رقم دے دوں (اور تمہیں آزاد کرا دوں) اور تمہارا ولاء کا تعلق مجھ سے قائم ہو۔ اور بریرہ کے آقاؤں نے کہا (عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہ اگر آپ چاہیں تو جو قیمت باقی رہ گئی ہے وہ دے دیں اور ولاء کا تعلق ہم سے قائم رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بریرہ کو خرید کر آزاد کرو اور ولاء کا تعلق تو اسی کو حاصل ہو سکتا ہے جو آزاد کرائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ سفیان نے (اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے) ایک مرتبہ یوں کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا۔ ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو ایسی شرائط کرتے ہیں جن کا تعلق کتاب اللہ سے نہیں ہے۔ جو شخص بھی کوئی ایسی شرط کرے جو کتاب اللہ میں نہ ہو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی، اگرچہ وہ سو مرتبہ کر لے۔ اس حدیث کی روایت مالک نے یحییٰ کے واسطہ سے کی، وہ عمرہ سے کہ بریرہ اور انہوں نے منبر پر چڑھنے کا ذکر نہیں کیا الخ۔

Narrated `Aisha: Barira came to seek my help regarding her manumission. I told herself you like I would pay your price to your masters but your Wala' (allegiance) would be for me." Her masters said, "If you like, you can pay what remains (of the price of her manumission), (Sufyan the sub-narrator once said), or if you like you can manumit her, but her (inheritance) Al-Wala would be for us. "When Allah's Apostle came, I spoke to him about it. He said, "Buy her and manumit her. No doubt Al-Wala' is for the manumitted." Then Allah's Apostle stood on the pulpit (or Allah's Apostle ascended the pulpit as Sufyan once said), and said, "What about some people who impose conditions which are not present in Allah's Book (Laws)? Whoever imposes conditions which are not in Allah's Book (Laws), his conditions will be invalid even if he imposed them a hundred times."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 1, Book 8, Number 446

حدیث نمبر: 1493
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا آدم، حدثنا شعبة، حدثنا الحكم، عن إبراهيم، عن الاسود، عن عائشة رضي الله عنها" انها ارادت ان تشتري بريرة للعتق، واراد مواليها ان يشترطوا ولاءها , فذكرت عائشة للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم: اشتريها، فإنما الولاء لمن اعتق، قالت: واتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم، فقلت: هذا ما تصدق به على بريرة، فقال: هو لها صدقة، ولنا هدية".حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، وَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا , فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَتْ: وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقُلْتُ: هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ان کا ارادہ ہوا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو (جو باندی تھیں) آزاد کر دینے کے لیے خرید لیں۔ لیکن اس کے اصل مالک یہ چاہتے تھے کہ ولاء انہیں کے لیے رہے۔ اس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم خرید کر آزاد کر دو ‘ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے ‘ جو آزاد کرے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا۔ میں نے کہا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے صدقہ کے طور پر دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھا۔ لیکن اب ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے۔

Narrated Al-Aswad: `Aisha intended to buy Barira (a slave-girl) in order to manumit her and her masters intended to put the condition that her Al-wala would be for them. `Aisha mentioned that to the Prophet who said to her, "Buy her, as the "Wala" is for the manumitted." Once some meat was presented to the Prophet and `Aisha said to him, "This (meat) was given in charity to Barira." He said, "It is an object of charity for Barira but a gift for us."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 2, Book 24, Number 570

حدیث نمبر: 2155
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال عروة بن الزبير، قالت عائشة رضي الله عنها: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت له، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اشتري واعتقي، فإنما الولاء لمن اعتق"، ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم من العشي، فاثنى على الله بما هو اهله، ثم قال: ما بال اناس يشترطون شروطا ليس في كتاب الله، من اشترط شرطا ليس في كتاب الله فهو باطل، وإن اشترط مائة شرط شرط الله احق واوثق.حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بریرہ رضی اللہ عنہا کے خریدنے کا) ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ (خرید و فروخت میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب اللہ میں نہیں ہے جو شخص بھی کوئی ایسی شرط لگائے گا جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ شرط باطل ہو گی۔ خواہ سو شرطیں ہی کیوں نہ لگا لے کیونکہ اللہ ہی کی شرط حق اور مضبوط ہے (اور اسی کا اعتبار ہے)۔

Narrated `Aisha: Allah's Apostle came to me and I told him about the slave-girl (Buraira) Allah's Apostle said, "Buy and manumit her, for the Wala is for the one who manumits." In the evening the Prophet got up and glorified Allah as He deserved and then said, "Why do some people impose conditions which are not present in Allah's Book (Laws)? Whoever imposes such a condition as is not in Allah's Laws, then that condition is invalid even if he imposes one hundred conditions, for Allah's conditions are more binding and reliable."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 34, Number 364

حدیث نمبر: 2168
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: جاءتني بريرة، فقالت: كاتبت اهلي على تسع اواق في كل عام وقية فاعينيني، فقلت: إن احب اهلك ان اعدها لهم ويكون ولاؤك لي، فعلت، فذهبت بريرة إلى اهلها، فقالت لهم: فابوا ذلك عليها، فجاءت من عندهم ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس، فقالت: إني قد عرضت ذلك عليهم فابوا، إلا ان يكون الولاء لهم، فسمع النبي صلى الله عليه وسلم، فاخبرت عائشة النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: خذيها واشترطي لهم الولاء، فإنما الولاء لمن اعتق، ففعلت عائشة، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال: اما بعد، ما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل، وإن كان مائة شرط، قضاء الله احق، وشرط الله اوثق،" وإنما الولاء لمن اعتق".حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ وَقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقُلْتُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُمْ: فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِهِمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ،" وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ عروہ نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا (جو اس وقت تک باندی تھیں) آئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ چاندی پر کتابت کر لی ہے۔ شرط یہ ہوئی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ چاندی انہیں دیا کروں۔ اب آپ بھی میری کچھ مدد کیجئے۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ اگر تمہارے مالک یہ پسند کریں کہ یک مشت ان کا سب روپیہ میں ان کے لیے (ابھی) مہیا کر دوں اور تمہارا ترکہ میرے لیے ہو تو میں ایسا بھی کر سکتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی تجویز ان کے سامنے رکھی۔ لیکن انہوں نے اس سے انکار کیا، پھر بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے یہاں واپس آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں) بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تو آپ کی صورت ان کے سامنے رکھی تھی مگر وہ نہیں مانتے بلکہ کہتے ہیں کہ ترکہ تو ہمارا ہی رہے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کو حقیقت حال سے خبر کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ کو تم لے لو اور انہیں ترکہ کی شرط لگانے دو۔ ترکہ تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر لوگوں کے مجمع میں تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد! کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ (خرید و فروخت میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کتاب اللہ میں کوئی اصل نہیں ہے۔ جو کوئی شرط ایسی لگائی جائے جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہو گی۔ خواہ ایسی سو شرطیں کوئی کیوں نہ لگائے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر مقدم ہے اور اللہ کی شرط ہی بہت مضبوط ہے اور ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔

Narrated `Urwa: Aisha said, "Buraira came to me and said, 'I have agreed with my masters to pay them nine Uqiyas (of gold) (in installments) one Uqiya per year; please help me.' I said, 'I am ready to pay the whole amount now provided your masters agree that your Wala will be for me.' So, Buraira went to her masters and told them about that offer but they refused to accept it. She returned, and at that time, Allah's Apostle was sitting (present). Buraira said, 'I told them of the offer but they did not accept it and insisted on having the Wala.'.' The Prophet heard that." `Aisha narrated the whole story to the Prophet . He said to her, "Buy her and stipulate that her Wala' would be yours as the Wala' is for the manumitted." `Aisha did so. Then Allah's Apostle stood up in front of the people, and after glorifying Allah he said, "Amma Badu (i.e. then after)! What about the people who impose conditions which are not in Allah's Book (Laws)? Any condition that is not in Allah's Book (Laws) is invalid even if they were one hundred conditions, for Allah's decisions are the right ones and His conditions are the strong ones (firmer) and the Wala' will be for the manumitted."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 34, Number 377

حدیث نمبر: 2536
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن إبراهيم، عن الاسود، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: اشتريت بريرة فاشترط اهلها ولاءها، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" اعتقيها، فإن الولاء لمن اعطى الورق"، فاعتقتها، فدعاها النبي صلى الله عليه وسلم، فخيرها من زوجها، فقالت: لو اعطاني كذا وكذا ما ثبت عنده، فاختارت نفسها.حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتِ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ"، فَأَعْتَقْتُهَا، فَدَعَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا ثَبَتُّ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو میں نے خریدا تو ان کے مالکوں نے ولاء کی شرط لگائی (کہ آزادی کے بعد وہ انہیں کے حق میں قائم رہے گی) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں آزاد کر دو، ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو قیمت دے کر کسی غلام کو آزاد کر دے۔ پھر میں نے انہیں آزاد کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کے شوہر کے سلسلے میں انہیں اختیار دیا۔ بریرہ نے کہا کہ اگر وہ مجھے فلاں فلاں چیز بھی دیں تب بھی میں اس کے پاس نہ رہوں گی۔ چنانچہ وہ اپنے شوہر سے جدا ہو گئیں۔

Narrated `Aisha: I bought Buraira but her masters put the condition that her Wala' would be for them. I told the Prophet about it. He said (to me), "Manumit her as her Wala' will be for the one who pays the price." So, I manumitted her. The Prophet called Buraira and gave her the option of either staying with her husband or leaving him. She said, "Even if he gave me so much money, I would not stay with him," and so she preferred her freedom to her husband.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 46, Number 713

حدیث نمبر: 2560
Save to word مکررات اعراب English
وقال الليث: حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال عروة: قالت عائشة رضي الله عنها:" إن بريرة دخلت عليها تستعينها في كتابتها وعليها خمسة اواق نجمت عليها في خمس سنين، فقالت لها عائشة: ونفست فيها، ارايت إن عددت لهم عدة واحدة ايبيعك اهلك فاعتقك فيكون ولاؤك لي، فذهبت بريرة إلى اهلها، فعرضت ذلك عليهم، فقالوا: لا، إلا ان يكون لنا الولاء، قالت عائشة: فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكرت ذلك له، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: اشتريها فاعتقيها، فإنما الولاء لمن اعتق، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، من اشترط شرطا ليس في كتاب الله فهو باطل، شرط الله احق واوثق".وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" إِنَّ بَرِيرَةَ دَخَلَتْ عَلَيْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَعَلَيْهَا خَمْسَةُ أَوَاقٍ نُجِّمَتْ عَلَيْهَا فِي خَمْسِ سِنِينَ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: وَنَفِسَتْ فِيهَا، أَرَأَيْتِ إِنْ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ فَأُعْتِقَكِ فَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَنَا الْوَلَاءُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ".
لیث نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اپنے مکاتبت کے معاملہ میں ان کی مدد حاصل کرنے کے لیے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا کو پانچ اوقیہ چاندی پانچ سال کے اندر پانچ قسطوں میں ادا کرنی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، انہیں خود بریرہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کرانے میں دلچسپی ہو گئی تھی،(عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا) کہ یہ بتاؤ اگر میں انہیں ایک ہی مرتبہ (چاندی کے یہ پانچ اوقیہ) ادا کر دوں تو کیا تمہارے مالک تمہیں میرے ہاتھ بیچ دیں گے؟ پھر میں تمہیں آزاد کر دوں گی اور تمہاری ولاء میرے ساتھ قائم ہو جائے گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے ہاں گئیں اور ان کے آگے یہ صورت رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ صورت اس وقت منظور کر سکتے ہیں کہ رشتہ ولاء ہمارے ساتھ رہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو خرید کر بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دے، ولاء تو اس کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو (معاملات میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی جڑ (دلیل) بنیاد کتاب اللہ میں نہیں ہے۔ پس جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی کوئی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہ ہو تو وہ شرط غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حق اور زیادہ مضبوط ہے۔

Narrated 'Aishah (ra) that Barira came to seek her help writing of emancipation and she had to pay five Uqiya (of gold) by five yearly installments. 'Aishah said to her, "Do you think that if I pay the whole sum at once, your masters will sell you to me, and I will free you and your Wala' will be for me." Barira went to her masters and told them about that offer. They said that they would not agree to it unless her Wala' would be for them. 'Aishah further said, "I went to Allah's Messenger (saws) and told him about it." Allah Messenger (saws) said to her, "Buy Barira and manumit her and the Wala' will be for the liberator." Allah's Messenger (saws) then got up and said, "What about those people who stipulate conditions that are not present in Allah's Laws? If anybody stipulates a condition which is not in Allah's Laws, then what he stipulates is invalid. Allah's Condition (Laws) are the truth and are more solid."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 46, Number 735

حدیث نمبر: 2561
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عائشة رضي الله عنها اخبرته،" ان بريرة جاءت تستعينها في كتابتها ولم تكن قضت من كتابتها شيئا، قالت لها عائشة: ارجعي إلى اهلك، فإن احبوا ان اقضي عنك كتابتك ويكون ولاؤك لي، فعلت، فذكرت ذلك بريرة لاهلها، فابوا، وقالوا: إن شاءت ان تحتسب عليك فلتفعل، ويكون ولاؤك لنا، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: ابتاعي، فاعتقي، فإنما الولاء لمن اعتق، قال: ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال:" ما بال اناس يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، من اشترط شرطا ليس في كتاب الله فليس له، وإن شرط مائة مرة، شرط الله احق واوثق".حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنٍ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِي، فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ، شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس اپنے معاملہ مکاتبت میں مدد لینے آئیں، ابھی انہوں نے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ تو اپنے مالکوں کے پاس جا، اگر وہ یہ پسند کریں کہ تیرے معاملہ مکاتبت کی پوری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے ساتھ قائم ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ صورت اپنے مالکوں کے سامنے رکھی لیکن انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ اگر وہ (عائشہ رضی اللہ عنہا) تمہارے ساتھ ثواب کی نیت سے یہ کام کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اختیار ہے، لیکن تمہاری ولاء تو ہمارے ہی ساتھ رہے گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو خرید کر انہیں آزاد کر دے۔ ولاء تو اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہیں ہے۔ پس جو بھی کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہیں ہے تو اس کو ایسی شرطیں لگانا لائق نہیں خواہ وہ ایسی سو شرطیں کیوں نہ لگا لے۔ اللہ تعالیٰ کی شرط ہی سب سے زیادہ معقول اور مضبوط ہے۔

Narrated `Urwa: That `Aisha told him that Buraira came to seek her help in her writing of emancipation (for a certain sum) and that time she had not paid anything of it. `Aisha said to her, "Go back to your masters, and if they agree that I will pay the amount of your writing of emancipation and get your Wala', I will do so." Buraira informed her masters of that but they refused and said, "If she (i.e. `Aisha) is seeking Allah's reward, then she can do so, but your Wala' will be for us." `Aisha mentioned that to Allah's Apostle who said to her, "Buy and manumit her, as the Wala' is for the liberator." Allah's Apostle then got up and said, "What about the people who stipulate conditions which are not present in Allah's Laws? Whoever imposes conditions which are not present in Allah's Laws, then those conditions will be invalid, even if he imposed these conditions a hundred times. Allah's conditions (Laws) are the truth and are more solid."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 46, Number 735

حدیث نمبر: 2563
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا عبيد بن إسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: جاءت بريرة، فقالت: إني كاتبت اهلي على تسع اواق في كل عام وقية، فاعينيني، فقالت عائشة: إن احب اهلك ان اعدها لهم عدة واحدة واعتقك فعلت، ويكون ولاؤك لي، فذهبت إلى اهلها، فابوا ذلك عليها، فقالت: إني قد عرضت ذلك عليهم فابوا إلا ان يكون الولاء لهم، فسمع بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالني فاخبرته، فقال: خذيها فاعتقيها واشترطي لهم الولاء، فإنما الولاء لمن اعتق، قالت عائشة: فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال: اما بعد،" فما بال رجال منكم يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، فايما شرط ليس في كتاب الله فهو باطل، وإن كان مائة شرط فقضاء الله احق وشرط الله اوثق، ما بال رجال منكم يقول احدهم اعتق يا فلان ولي الولاء، إنما الولاء لمن اعتق".حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ وَقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا، فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: خُذِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ،" فَمَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَأَيُّمَا شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ فَقَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَلِيَ الْوَلَاءُ، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے والد سے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ چاندی پر مکاتبت کا معاملہ کیا ہے۔ ہر سال ایک اوقیہ مجھے ادا کرنا پڑے گا۔ آپ بھی میری مدد کریں۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تمہارے مالک پسند کریں تو میں انہیں (یہ ساری رقم) ایک ہی مرتبہ دے دوں اور پھر تمہیں آزاد کر دوں، تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ لیکن تمہاری ولاء میرے ساتھ ہو جائے گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں تو انہوں نے اس صورت سے انکار کیا (واپس آ کر) انہوں نے بتایا کہ میں نے آپ کی یہ صورت ان کے سامنے رکھی تھی لیکن وہ اسے صرف اس صورت میں قبول کرنے کو تیار ہیں کہ ولاء ان کے ساتھ قائم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو انہیں لے کر آزاد کر دے اور انہیں ولاء کی شرط لگانے دے۔ ولاء تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کیا۔ اللہ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا، تم میں سے کچھ لوگوں کو یہ کیا ہو گیا ہے کہ (معاملات میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہیں ہے۔ پس جو بھی شرط ایسی ہو جس کی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہے۔ خواہ ایسی سو شرطیں کیوں نہ لگالی جائیں۔ اللہ کا فیصلہ ہی حق ہے اور اللہ کی شرط ہی مضبوط ہے کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں، اے فلاں! آزاد تم کرو اور ولاء میرے ساتھ قائم رہے گی۔ ولاء تو صرف اسی کے ساتھ قائم ہو گی جو آزاد کرے۔

Narrated Aisha: Buraira came (to `Aisha) and said, "I have made a contract of emancipation with my masters for nine Uqiyas (of gold) to be paid in yearly installments. Therefore, I seek your help." `Aisha said, "If your masters agree, I will pay them the sum at once and free you on condition that your Wala' will be for me." Buraira went to her masters but they refused that offer. She (came back) and said, "I presented to them the offer but they refused, unless the Wala' was for them." Allah's Apostle heard of that and asked me about it, and I told him about it. On that he said, "Buy and manumit her and stipulate that the Wala' should be for you, as Wala' is for the liberator." `Aisha added, "Allah's Apostle then got up amongst the people, Glorified and Praised Allah, and said, 'Then after: What about some people who impose conditions which are not present in Allah's Laws? So, any condition which is not present in Allah's Laws is invalid even if they were one-hundred conditions. Allah's ordinance is the truth, and Allah's condition is stronger and more solid. Why do some men from you say, O so-and-so! manumit the slave but the Wala will be for me? Verily, the Wala is for the liberator."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 46, Number 737

حدیث نمبر: 2564
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن،" ان بريرة جاءت تستعين عائشة ام المؤمنين رضي الله عنها، فقالت لها: إن احب اهلك ان اصب لهم ثمنك صبة واحدة فاعتقك فعلت، فذكرت بريرة ذلك لاهلها، فقالوا: لا، إلا ان يكون ولاؤك لنا". قال مالك: قال يحيى: فزعمت عمرة ان عائشة ذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: اشتريها واعتقيها، فإنما الولاء لمن اعتق.حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،" أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ لَهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً فَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ بَرِيرَةُ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا". قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی یحییٰ بن سعید سے، وہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد لینے آئیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا کہ اگر تمہارے مالک یہ صورت پسند کریں کہ میں (مکاتبت کی ساری رقم) انہیں ایک ہی مرتبہ ادا کر دوں اور پھر تمہیں آزاد کر دوں تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر اپنے مالک سے کیا تو انہوں نے کہا کہ (ہمیں اس صورت میں یہ منظور ہے کہ) تیری ولاء ہمارے ساتھ ہی قائم رہے۔ مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا کہ عمرہ کو یقین تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔

Narrated `Amra bint `Abdur-Rahman: Buraira went to Aisha, the mother of the faithful believers to seek her help in her emancipation Aisha said to her, "If your masters agree, I will pay them your price in a lump sum and manumit you." Buraira mentioned that offer to her masters but they refused to sell her unless the Wala' was for them. `Aisha told Allah's Apostle about it. He said, "Buy and manumit her as the Wala' is for the liberator."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 46, Number 738

حدیث نمبر: 2565
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد الواحد بن ايمن، قال: حدثني ابي ايمن، قال: دخلت على عائشة رضي الله عنها، فقلت: كنت غلاما لعتبة بن ابي لهب، ومات وورثني بنوه، وإنهم باعوني من عبد الله بن ابي عمرو بن عمر بن عبد الله المخزومي، فاعتقني ابن ابي عمرو واشترط بنو عتبة الولاء، فقالت: دخلت بريرة وهي مكاتبة، فقالت: اشتريني واعتقيني، قالت: نعم، قالت: لا، يبيعوني حتى يشترطوا ولائي، فقالت: لا حاجة لي بذلك، فسمع بذلك النبي صلى الله عليه وسلم او بلغه، فذكر لعائشة، فذكرت عائشة ما قالت لها، فقال: اشتريها واعتقيها، ودعيهم يشترطون ما شاءوا، فاشترتها عائشة، فاعتقتها، واشترط اهلها الولاء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" الولاء لمن اعتق، وإن اشترطوا مائة شرط".حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَيْمَنُ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: كُنْتُ غُلَامًا لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، وَمَاتَ وَوَرِثَنِي بَنُوهُ، وَإِنَّهُمْ بَاعُونِي مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرِو بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ المَخْزُومِيِّ، فَأَعْتَقَنِي ابْنُ أَبِي عَمْرٍو وَاشْتَرَطَ بَنُو عُتْبَةَ الْوَلَاءَ، فَقَالَتْ: دَخَلَتْ بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ، فَقَالَتِ: اشْتَرِينِي وَأَعْتِقِينِي، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: لَا، يَبِيعُونِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلَائِي، فَقَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي بِذَلِكَ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَهُ، فَذَكَرَ لِعَائِشَةَ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ مَا قَالَتْ لَهَا، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، وَدَعِيهِمْ يَشْتَرِطُونَ مَا شَاءُوا، فَاشْتَرَتْهَا عَائِشَةُ، فَأَعْتَقَتْهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ شَرْطٍ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں پہلے عتبہ بن ابی لہب کا غلام تھا۔ ان کا جب انتقال ہوا تو ان کی اولاد میری وارث ہوئی۔ ان لوگوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی عمرو کو بیچ دیا اور ابن ابی عمرو نے مجھے آزاد کر دیا۔ لیکن (بیچتے وقت) عتبہ کے وارثوں نے ولاء کی شرط اپنے لیے لگالی تھی (تو کیا یہ شرط صحیح ہے؟) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا میرے یہاں آئی تھیں اور انہوں نے کتابت کا معاملہ کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آپ خرید کر آزاد کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں ایسا کر دوں گی (لیکن مالکوں سے بات چیت کے بعد) انہوں نے بتایا کہ وہ مجھے بیچنے پر صرف اس شرط کے ساتھ راضی ہیں کہ ولاء انہیں کے پاس رہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے سنایا (عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا کہ) آپ کو اس کی اطلاع ملی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا، انہوں نے صورت حال کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ کو خرید کر آزاد کر دے اور مالکوں کو جو بھی شرط چاہیں لگانے دو۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔ مالکوں نے چونکہ ولاء کی شرط رکھی تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک مجمع سے) خطاب فرمایا، ولاء تو اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ (اور جو آزاد نہ کریں) اگرچہ وہ سو شرطیں بھی لگا لیں (ولاء پھر بھی ان کے ساتھ قائم نہیں ہو سکتی)۔

Narrated `Abdul Wahid bin Aiman: I went to `Aisha and said, "I was the slave of `Utba bin Abu Lahab. "Utba died and his sons became my masters who sold me to Ibn Abu `Amr who manumitted me. The sons of `Utba stipulated that my Wala' should be for them." `Aisha said, "Buraira came to me and she was given the writing of emancipation by her masters and she asked me to buy and manumit her. I agreed to it, but Buraira told me that her masters would not sell her unless her Wala' was for them." `Aisha said, "I am not in need of that." When the Prophet heard that, or he was told about it, he asked `Aisha about it. `Aisha mentioned what Buraira had told her. The Prophet said, "Buy and manumit her and let them stipulate whatever they like." So, `Aisha bought and manumitted her and her masters stipulated that her Wala' should be for them." The Prophet;, said, "The Wala' will be for the liberator even if they stipulated a hundred conditions."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 46, Number 739

حدیث نمبر: 2578
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، قال: سمعته منه عن القاسم، عن عائشة رضي الله عنها، انها ارادت ان تشتري بريرة، وانهم اشترطوا ولاءها، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" اشتريها فاعتقيها، فإنما الولاء لمن اعتق، واهدي لها لحم، فقيل للنبي صلى الله عليه وسلم: هذا تصدق على بريرة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هو لها صدقة ولنا هدية وخيرت". قال عبد الرحمن: زوجها حر او عبد، قال شعبة: سالت عبد الرحمن عن زوجها، قال: لا ادري احر ام عبد.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، وَأَنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ وَخُيِّرَتْ". قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: زَوْجُهَا حُرٌّ أَوْ عَبْدٌ، قَالَ شُعْبَةُ: سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ عَنْ زَوْجِهَا، قَالَ: لَا أَدْرِي أَحُرٌّ أَمْ عَبْدٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا عبدالرحمٰن بن قاسم سے، شعبہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبدالرحمٰن سے سنی تھی اور انہوں نے قاسم سے روایت کی، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو (آزاد کرنے کے لیے) خریدنا چاہا۔ لیکن ان کے مالکوں نے ولاء کی شرط اپنے لیے لگائی۔ جب اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو انہیں خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ اور بریرہ رضی اللہ عنہا کے یہاں (صدقہ کا) گوشت آیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا یہ وہی ہے جو بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے۔ یہ ان کے لیے تو صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے (چونکہ ان کے گھر سے بطور ہدیہ ملا ہے) ہدیہ ہے اور (آزادی کے بعد بریرہ کو) اختیار دیا گیا تھا (کہ اگر چاہیں تو اپنے نکاح کو فسخ کر سکتی ہیں) عبدالرحمٰن نے پوچھا بریرہ رضی اللہ عنہ کے خاوند (مغیث رضی اللہ عنہ) غلام تھے یا آزاد؟ شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن سے ان کے خاوند کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں وہ غلام تھے یا آزاد۔

Narrated `Aisha: I intended to buy Buraira but her masters stipulated that her Wala should be for them. When the Prophet was told about it, he said to me, "Buy and manumit her, as the Wala' is for the liberator." Once Buraira was given some meat, and the Prophet asked, "What is this?" I said, "It has been given to Buraira in charity." He said, "It is sadaqa for her but a gift for us." Buraira was given the option (to stay with her husband or to part with him). `Abdur-Rahman (a sub-narrator) wondered, "Was her husband a slave or a free man?" Shu`ba (another sub-narrator) said, "I asked `Abdur-Rahman whether her husband was a slave or a free man. He replied that he did not know whether he was a slave or a free man."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 47, Number 752

حدیث نمبر: 2717
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عائشة رضي الله عنها اخبرته، ان بريرة جاءت عائشة تستعينها في كتابتها، ولم تكن قضت من كتابتها شيئا، قالت لها عائشة: ارجعي إلى اهلك فإن احبوا ان اقضي عنك كتابتك ويكون ولاؤك لي، فعلت، فذكرت ذلك بريرة إلى اهلها فابوا، وقالوا: إن شاءت ان تحتسب عليك، فلتفعل ويكون لنا ولاؤك، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لها" ابتاعي، فاعتقي، فإنما الولاء لمن اعتق".حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ، فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا" ابْتَاعِي، فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ بریرہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی مکاتبت کے بارے میں ان سے مدد لینے کے لیے آئیں، انہوں نے ابھی تک اس معاملے میں (اپنے مالکوں کو) کچھ دیا نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کہ اپنے مالکوں کے یہاں جا کر (ان سے دریافت کرو) اگر وہ یہ صورت پسند کریں کہ تمہاری مکاتبت کی ساری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے لیے ہو جائے تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ بریرہ نے اس کا تذکرہ جب اپنے مالکوں کے سامنے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ وہ (عائشہ رضی اللہ عنہا) اگر چاہیں تو یہ کار ثواب تمہارے ساتھ کر سکتی ہیں لیکن ولاء تو ہمارے ہی رہے گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔

Narrated `Urwa: Aisha told me that Buraira came to seek her help in writing for emancipation and at that time she had not paid any part of her price. `Aisha said to her, "Go to your masters and if they agree that I will pay your price (and free you) on condition that your Wala' will be for me, I will pay the money." Buraira told her masters about that, but they refused, and said, "If `Aisha wants to do a favor she could, but your Wala will be for us." Aisha informed Allah's Apostle of that and he said to her, "Buy and manumit Buraira as the Wala' will go to the manumitted."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 50, Number 878

حدیث نمبر: 2726
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا عبد الواحد بن ايمن المكي، عن ابيه، قال: دخلت على عائشة رضي الله عنها، قالت: دخلت علي بريرة وهي مكاتبة، فقالت: يا ام المؤمنين، اشتريني، فإن اهلي يبيعوني فاعتقيني، قالت: نعم، قالت: إن اهلي لا يبيعوني حتى يشترطوا ولائي، قالت: لا حاجة لي فيك، فسمع ذلك النبي صلى الله عليه وسلم او بلغه، فقال: ما شان بريرة؟ فقال: اشتريها فاعتقيها، وليشترطوا ما شاءوا، قالت: فاشتريتها فاعتقتها، واشترط اهلها ولاءها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" الولاء لمن اعتق، وإن اشترطوا مائة شرط".حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ الْمَكِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، اشْتَرِينِي، فَإِنَّ أَهْلِي يَبِيعُونِي فَأَعْتِقِينِي، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي لَا يَبِيعُونِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلَائِي، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيكِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَهُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُ بَرِيرَةَ؟ فَقَالَ: اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، وَلْيَشْتَرِطُوا مَا شَاءُوا، قَالَتْ: فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ شَرْطٍ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن مکی نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے بتلایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہ میرے یہاں آئیں، انہوں نے کتابت کا معاملہ کر لیا تھا۔ مجھ سے کہنے لگیں کہ اے ام المؤمنین! مجھے آپ خرید لیں، کیونکہ میرے مالک مجھے بیچنے پر آمادہ ہیں، پھر آپ مجھے آزاد کر دینا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہاں (میں ایسا کر لوں گی) لیکن بریرہ رضی اللہ عنہا نے پھر کہا کہ میرے مالک مجھے اسی وقت بیچیں گے جب وہ ولاء کی شرط اپنے لیے لگا لیں۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر مجھے ضرورت نہیں ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا (راوی کو شبہ تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ (رضی اللہ عنہا) کا کیا معاملہ ہے؟ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو، وہ لوگ جو چاہیں شرط لگا لیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے بریرہ کو خرید کر آزاد کر دیا اور اس کے مالک نے ولاء کی شرط اپنے لیے محفوظ رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ولاء اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے (دوسرے) جو چاہیں شرط لگاتے رہیں۔

Narrated Aiman Al-Makki: When I visited Aisha she said, "Buraira who had a written contract for her emancipation for a certain amount came to me and said, "O mother of the believers! Buy me and manumit me, as my masters will sell me." Aisha agreed to it. Buraira said, 'My masters will sell me on the condition that my Wala will go to them." Aisha said to her, 'Then I am not in need of you.' The Prophet heard of that or was told about it and so he asked Aisha, 'What is the problem of Buraira?' He said, 'Buy her and manumit her, no matter what they stipulate.' Aisha added, 'I bought and manumitted her, though her masters had stipulated that her Wala would be for them.' The Prophet said, The Wala is for the liberator, even if the other stipulated a hundred conditions."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 50, Number 886

حدیث نمبر: 2729
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا إسماعيل، حدثنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، قالت: جاءتني بريرة، فقالت: كاتبت اهلي على تسع اواق في كل عام اوقية، فاعينيني، فقالت: إن احبوا ان اعدها لهم ويكون ولاؤك لي، فعلت، فذهبت بريرة إلى اهلها، فقالت لهم، فابوا عليها، فجاءت من عندهم ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس، فقالت: إني قد عرضت ذلك عليهم، فابوا إلا ان يكون الولاء لهم، فسمع النبي صلى الله عليه وسلم، فاخبرت عائشة النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: خذيها واشترطي لهم الولاء، فإنما الولاء لمن اعتق، ففعلت عائشة، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال:" ما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل، وإن كان مائة شرط قضاء الله احق وشرط الله اوثق، وإنما الولاء لمن اعتق".حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُمْ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِهِمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكِ عَلَيْهِمْ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے اپنے مالک سے نو اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ دینا ہو گا۔ آپ بھی میری مدد کیجئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر تمہارے مالک چاہیں تو میں ایک دم انہیں اتنی قیمت ادا کر سکتی ہوں۔ لیکن تمہاری ولاء میری ہو گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے یہاں گئیں اور ان سے اس صورت کا ذکر کیا لیکن انہوں نے ولاء کے لیے انکار کیا۔ جب وہ ان کے یہاں سے واپس ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مالکوں کے سامنے یہ صورت رکھی تھی، لیکن وہ کہتے تھے کہ ولاء انہیں کی ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ بات سنی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو انہیں خرید لے اور انہیں ولاء کی شرط لگانے دے۔ ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ میں گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا کوئی پتہ (سند، دلیل) کتاب اللہ میں نہیں ہے ایسی کوئی بھی شرط جس کا پتہ (سند، دلیل) کتاب اللہ میں نہ ہو باطل ہے خواہ سو شرطیں کیوں نہ لگالی جائیں۔ اللہ کا فیصلہ ہی حق ہے اور اللہ کی شرطیں ہی پائیدار ہیں اور ولاء تو اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا۔

Narrated `Urwa: Aisha said, "Buraira came to me and said, 'My people (masters) have written the contract for my emancipation for nine Awaq ) of gold) to be paid in yearly installments, one Uqiyya per year; so help me." Aisha said (to her), "If your masters agree, I will pay them the whole sum provided the Wala will be for me." Buraira went to her masters and told them about it, but they refused the offer and she returned from them while Allah's Apostles was sitting. She said, "I presented the offer to them, but they refused unless the Wala' would be for them." When the Prophet heard that and `Aisha told him about It, he said to her, "Buy Buraira and let them stipulate that her Wala' will be for them, as the Wala' is for the manumitted." `Aisha did so. After that Allah's Apostle got up amidst the people, Glorified and Praised Allah and said, "What is wrong with some people who stipulate things which are not in Allah's Laws? Any condition which is not in Allah's Laws is invalid even if there were a hundred such conditions. Allah's Rules are the most valid and Allah's Conditions are the most solid. The Wala is for the manumitted."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 50, Number 889

حدیث نمبر: 2735
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن يحيى، عن عمرة، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: اتتها بريرة تسالها في كتابتها، فقالت: إن شئت اعطيت اهلك ويكون الولاء لي، فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرته ذلك، قال النبي صلى الله عليه وسلم: ابتاعيها فاعتقيها، فإنما الولاء لمن اعتق، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر، فقال:" ما بال اقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، من اشترط شرطا ليس في كتاب الله فليس له وإن اشترط مائة شرط".حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَتَتْهَا بَرِيرَةُ تَسْأَلُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتُ أَهْلَكِ وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَّرْتُهُ ذَلِكَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ یحییٰ بن سعید انصاری سے ‘ ان سے عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مکاتبت کے سلسلے میں ان سے مدد مانگنے آئیں تو انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو تمہارے مالکوں کو (پوری قیمت) دے دوں اور تمہاری ولاء میرے ہو گی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں تو خرید لے اور آزاد کر دے۔ ولاء تو بہرحال اسی کی ہو گی جو آزاد کر دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا کوئی پتہ (دلیل، سند) کتاب اللہ میں نہیں ہے ‘ جس نے بھی کوئی ایسی شرط لگائی جس کا پتہ (دلیل، سند) کتاب اللہ میں نہ ہو تو خواہ ایسی سو شرطیں لگا لے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھائے گا۔

Narrated `Amra: Aisha said that Buraira came to seek her help in the writing of her emancipation. `Aisha said to her, "If you wish, I will pay your masters (your price) and the wala' will be for me." When Allah's Apostle came, she told him about it. The Prophet said to her, "Buy her (i.e. Buraira) and manumit her, for the Wala is for the one who manumits." Then Allah's Apostle ascended the pulpit and said, "What about those people who stipulate conditions which are not in Allah's Laws? Whoever stipulates such conditions as are not in Allah's Laws, then those conditions are invalid even if he stipulated a hundred such conditions."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 50, Number 893

حدیث نمبر: 5097
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن القاسم بن محمد، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: كان في بريرة ثلاث سنن عتقت فخيرت، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" الولاء لمن اعتق"، ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وبرمة على النار فقرب إليه خبز وادم من ادم البيت، فقال:" لم ار البرمة؟" فقيل: لحم تصدق به على بريرة وانت لا تاكل الصدقة، قال:" هو عليها صدقة ولنا هدية".حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ عَتَقَتْ فَخُيِّرَتْ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبُرْمَةٌ عَلَى النَّارِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" لَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ؟" فَقِيلَ: لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، قَالَ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہیں ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نے انہیں قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ کے ساتھ تین سنت قائم ہوتی ہیں، انہیں آزاد کیا اور پھر اختیار دیا گیا (کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر سابقہ سے اپنا نکاح فسخ کر سکتی ہیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں) فرمایا کہ ولاء آزاد کرانے والے کے ساتھ قائم ہوئی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ایک ہانڈی (گوشت کی) چولہے پر تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (چولہے پر) ہانڈی (گوشت کی) بھی تو میں نے دیکھی تھی۔ عرض کیا گیا کہ وہ ہانڈی اس گوشت کی تھی جو بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور اب ہمارے لیے ان کی طرف سے تحفہ ہے۔ ہم اسے کھا سکتے ہیں۔

Narrated `Aisha: Three principles were established because of Barira: (i) When Banra was manumitted she was given the option (to remain with her slave husband or not). (ii) Allah's Apostle said "The Wala of the slave) is for the one who manumits (the slave). (iii) When Allah's Apostle entered (the house), he saw a cooking pot on the fire but he was given bread and meat soup from the soup of the home. The Prophet said, "Didn't I see the cooking pot (on the fire)?" It was said, "That is the meat given in charity to Barira, and you do not eat the (things given in) charity." The Prophet said, "It is an object of charity for Barira, and it is a present for us."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 62, Number 34

حدیث نمبر: 5279
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا إسماعيل بن عبد الله، قال: حدثني مالك، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن القاسم بن محمد، عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت:" كان في بريرة ثلاث سنن، إحدى السنن انها اعتقت، فخيرت في زوجها، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الولاء لمن اعتق، ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم والبرمة تفور بلحم، فقرب إليه خبز وادم من ادم البيت، فقال: الم ار البرمة فيها لحم؟ قالوا: بلى، ولكن ذلك لحم تصدق به على بريرة، وانت لا تاكل الصدقة، قال: عليها صدقة ولنا هدية".حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ، إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ؟ قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، قَالَ: عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے دین کے تین مسئلے معلوم ہو گئے۔ اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا (کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہو جائیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں کے بارے میں) فرمایا کہ ولاء اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا، پھر کھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو دیکھا کہ ہانڈی میں گوشت بھی پک رہا ہے؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے۔

Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) Three traditions were established concerning situations in which Barra was involved: When she was manumitted, she was given the option to keep her husband or leave him; Allah's Apostle said, "The wala is for the one who manumits, Once Allah's Apostle entered the house while some meat was being cooked in a pot, but only bread and some soup of the house were placed before, him. He said, "Don't I see the pot containing meat?" They said, "Yes, but that meat was given to Barira in charity (by someone), and you do not eat what it given in charity."The Prophet said "That meat is alms for her, but for us it is a present."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 63, Number 202

حدیث نمبر: 5284
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا عبد الله بن رجاء، اخبرنا شعبة، عن الحكم، عن إبراهيم، عن الاسود،" ان عائشة ارادت ان تشتري بريرة، فابى مواليها إلا ان يشترطوا الولاء، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: اشتريها واعتقيها، فإنما الولاء لمن اعتق، واتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم، فقيل: إن هذا ما تصدق به على بريرة، فقال: هو لها صدقة ولنا هدية". حدثنا آدم، حدثنا شعبة، وزاد: فخيرت من زوجها.حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ،" أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَأَبَى مَوَالِيهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: إِنَّ هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ". حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَزَادَ: فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا.
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں حکم نے، انہیں ابراہیم نخعی سے اور وہ اسود سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ وہ اسی شرط پر انہیں بیچ سکتے ہیں کہ بریرہ کا ترکہ ہم لیں اور ان کے ساتھ ولاء (آزادی کے بعد) انہیں سے قائم ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خرید کر آزاد کر دو۔ ترکہ تو اسی کو ملے گا جو لونڈی غلام کو آزاد کرے اور ولاء بھی اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت لایا گیا پھر کہا کہ یہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ان کا تحفہ ہے۔ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا اور اس روایت میں یہ اضافہ کیا کہ پھر (آزادی کے بعد) انہیں ان کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا (کہ چاہیں ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں ان سے اپنا نکاح توڑ لیں)۔

Narrated Al-Aswad: Aisha intended to buy Barira, but her masters stipulated that her wala wound be for them. Aisha mentioned that to the Prophet who said (to `Aisha), "Buy and manumit her, for the wala is for the one who manumits." Once some me; was brought to the Prophet and was said, "This meat was given in charity to Barira. " The Prophet said, "It an object of charity for Barira and present for us." Narrated Adam: Shu`ba relate the same Hadith and added: Barira was given the option regarding her husband.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 63, Number 207

حدیث نمبر: 5430
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن ربيعة، انه سمع القاسم بن محمد، يقول:" كان في بريرة ثلاث سنن ارادت عائشة ان تشتريها، فتعتقها، فقال اهلها: ولنا الولاء، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: لو شئت شرطتيه لهم فإنما الولاء لمن اعتق، قال: واعتقت فخيرت في ان تقر تحت زوجها او تفارقه، ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما بيت عائشة وعلى النار برمة تفور، فدعا بالغداء، فاتي بخبز وادم من ادم البيت، فقال: الم ار لحما؟ قالوا: بلى يا رسول الله، ولكنه لحم تصدق به على بريرة فاهدته لنا، فقال: هو صدقة عليها وهدية لنا".حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ:" كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَهَا، فَتُعْتِقَهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: وَلَنَا الْوَلَاءُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ شِئْتِ شَرَطْتِيهِ لَهُمْ فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَ: وَأُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي أَنْ تَقِرَّ تَحْتَ زَوْجِهَا أَوْ تُفَارِقَهُ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْتَ عَائِشَةَ وَعَلَى النَّارِ بُرْمَةٌ تَفُورُ، فَدَعَا بِالْغَدَاءِ، فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأُدْمٍ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: أَلَمْ أَرَ لَحْمًا؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنَّهُ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْهُ لَنَا، فَقَالَ: هُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا وَهَدِيَّةٌ لَنَا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے، ان سے ربیعہ نے، انہوں نے قاسم بن محمد سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شریعت کی تین سنتیں قائم ہوئیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں (ان کے مالکوں سے) خرید کر آزاد کرنا چاہا تو ان کے مالکوں نے کہا کہ ولاء کا تعلق ہم سے ہی قائم ہو گا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم یہ شرط لگا بھی لو جب بھی ولاء اسی کے ساتھ قائم ہو گا جو آزاد کرے گا۔ پھر بیان کیا کہ بریرہ آزاد کی گئیں اور انہیں اختیار دیا گیا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے شوہر کے ساتھ رہیں یا ان سے الگ ہو جائیں اور تیسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے، چولھے پر ہانڈی پک رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کا کھانا طلب فرمایا تو روٹی اور گھر میں موجود سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا میں نے گوشت (پکتے ہوئے) نہیں دیکھا ہے؟ عرض کیا کہ دیکھا ہے یا رسول اللہ! لیکن وہ گوشت تو بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے، انہوں نے ہمیں ہدیہ کے طور پر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے وہ صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔

Narrated Qasim bin Muhammad: Three traditions have been established because of Barira: `Aisha intended to buy her and set her free, but Barira's masters said, "Her wala' will be for us." `Aisha mentioned that to Allah's Apostle who said, "You could accept their condition if you wished, for the wala is for the one who manumits the slave." Barira was manumitted, then she was given the choice either to stay with her husband or leave him; One day Allah's Apostle entered `Aisha's house while there was a cooking pot of food boiling on the fire. The Prophet asked for lunch, and he was presented with bread and some extra food from the home-made Udm (e.g. soup). He asked, "Don't I see meat (being cooked)?" They said, "Yes, O Allah's Apostle! But it is the meat that has been given to Barira in charity and she has given it to us as a present." He said, "For Barira it is alms, but for us it is a present."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 65, Number 341

حدیث نمبر: 6717
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن إبراهيم، عن الاسود، عن عائشة، انها ارادت ان تشتري بريرة فاشترطوا عليها الولاء، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" اشتريها، فإنما الولاء لمن اعتق".حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا الْوَلَاءَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کے، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو (آزاد کرنے کے لیے) خریدنا چاہا، تو ان کے پہلے مالکوں نے اپنے لیے ولاء کی شرط لگائی۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید لو، ولاء تو اسی سے ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے۔

Narrated `Aisha: that she intended to buy Barira (a slave girl) and her masters stipulated that they would have her Wala'. When `Aisha mentioned that to the Prophet ; he said, "Buy her, for the Wala' is for the one who manumits."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 8, Book 79, Number 708

حدیث نمبر: 6751
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن إبراهيم، عن الاسود، عن عائشة، قالت: اشتريت بريرة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" اشتريها فإن الولاء لمن اعتق، واهدي لها شاة , فقال: هو لها صدقة ولنا هدية"، قال الحكم: وكان زوجها حرا وقول الحكم: مرسل، وقال ابن عباس: رايته عبدا.حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَأُهْدِيَ لَهَا شَاةٌ , فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ"، قَالَ الْحَكَمُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا وَقَوْلُ الْحَكَمِ: مُرْسَلٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو خریدنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خرید لے، ولاء تو اس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے اور بریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک بکری ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھی لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ حکم نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ حکم کا قول مرسل منقول ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔

Narrated `Aisha: I bought Barira (a female slave). The Prophet said (to me), "Buy her as the Wala' is for the manumitted." Once she was given a sheep (in charity). The Prophet said, "It (the sheep) is a charitable gift for her (Barira) and a gift for us." Al-Hakam said, "Barira's husband was a free man." Ibn `Abbas said, 'When I saw him, he was a slave."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 8, Book 80, Number 743

حدیث نمبر: 6754
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن إبراهيم، عن الاسود" ان عائشة رضي الله عنها، اشترت بريرة لتعتقها، واشترط اهلها ولاءها، فقالت: يا رسول الله، إني اشتريت بريرة لاعتقها، وإن اهلها يشترطون ولاءها، فقال: اعتقيها فإنما الولاء لمن اعتق، او قال اعطى الثمن، قال: فاشترتها فاعتقتها، قال وخيرت، فاختارت نفسها، وقالت: لو اعطيت كذا وكذا ما كنت معه"، قال الاسود: وكان زوجها حرا". قول الاسود: منقطع، وقول ابن عباس: رايته عبدا: اصح.حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ" أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ لِأُعْتِقَهَا، وَإِنَّ أَهْلَهَا يَشْتَرِطُونَ وَلَاءَهَا، فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، أَوْ قَالَ أَعْطَى الثَّمَنَ، قَالَ: فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا، قَالَ وَخُيِّرَتْ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَقَالَتْ: لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ"، قَالَ الْأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا". قَوْلُ الْأَسْوَدِ: مُنْقَطِعٌ، وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا: أَصَحُّ.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن ان کے نائکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دے، ولاء تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کر دیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا (کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا۔

Narrated Al-Aswad: `Aisha bought Barira in order to manumit her, but her masters stipulated that her Wala' (after her death) would be for them. `Aisha said, "O Allah's Apostle! I have bought Barira in order to manumit her, but her masters stipulated that her Wala' will be for them." The Prophet said, "Manumit her as the Wala is for the one who manumits (the slave)," or said, "The one who pays her price." Then `Aisha bought and manumitted her. After that, Barira was given the choice (by the Prophet) (to stay with her husband or leave him). She said, "If he gave me so much and so much (money) I would not stay with him." (Al-Aswad added: Her husband was a free man.) The sub-narrator added: The series of the narrators of Al-Aswad's statement is incomplete. The statement of Ibn `Abbas, i.e., when I saw him he was a slave, is more authentic.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 8, Book 80, Number 746

حدیث نمبر: 6758
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا محمد، اخبرنا جرير، عن منصور، عن إبراهيم، عن الاسود، عن عائشة رضي الله عنها، قالت:" اشتريت بريرة، فاشترط اهلها ولاءها، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: اعتقيها فإن الولاء لمن اعطى الورق، قالت: فاعتقتها، قالت: فدعاها رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخيرها من زوجها، فقالت: لو اعطاني كذا وكذا ما بت عنده، فاختارت نفسها، قال: وكان زوجها حرا".حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا بِتُّ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا".
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے ساتھ قائم ہو گی۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو، ولاء قیمت ادا کرنے والے ہی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے آزاد کر دیا۔ پھر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ان کے شوہر کے معاملہ میں اختیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یہ یہ چیزیں بھی وہ دیدے تو میں اس کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ اس نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا۔

Narrated Al-Aswad: Aisha said, "I bought Barira and her masters stipulated that the Wala would be for them." Aisha mentioned that to the Prophet and he said, "Manumit her, as the Wala is for the one who gives the silver (i.e. pays the price for freeing the slave)." Aisha added, "So I manumitted her. After that, the Prophet caller her (Barira) and gave her the choice to go back to her husband or not. She said, "If he gave me so much and so much (money) I would not stay with him." So she selected her ownself (i.e. refused to go back to her husband)."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 8, Book 80, Number 750

حدیث نمبر: 6760
Save to word مکررات اعراب English
حدثنا ابن سلام، اخبرنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، عن الاسود، عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" الولاء لمن اعطى الورق، وولي النعمة".حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ".
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اس کے ساتھ قائم ہو گی جو قیمت دے اور احسان کرے (آزاد کر کے)۔

Narrated Aisha: Allah's Apostle said, "The wala is for the one who gives the silver (pays the price) and does the favor (of manumission after paying the price).
USC-MSA web (English) Reference: Volume 8, Book 80, Number 752


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.