الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: مساجد کے فضائل و مسائل
The Book of the Masjids
33. بَابُ : الرُّخْصَةِ لِلْمُصَلِّي أَنْ يَبْصُقَ خَلْفَهُ أَوْ تِلْقَاءَ شِمَالِهِ
33. باب: نمازی کو اپنے پیچھے یا بائیں جانب تھوکنے کی رخصت کا بیان۔
Chapter: The Concession Allowing A Worshipper To Spit Behind Him Or To His Left
حدیث نمبر: 727
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال: حدثنا يحيى، عن سفيان، قال: حدثني منصور، عن ربعي، عن طارق بن عبد الله المحاربي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا كنت تصلي، فلا تبزقن بين يديك ولا عن يمينك، وابصق خلفك او تلقاء شمالك إن كان فارغا، وإلا فهكذا: وبزق تحت رجله ودلكه".
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي، فَلَا تَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَمِينِكَ، وَابْصُقْ خَلْفَكَ أَوْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا، وَإِلَّا فَهَكَذَا: وَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ وَدَلَكَهُ".
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اپنے سامنے اور اپنے داہنے ہرگز نہ تھوکو، بلکہ اپنے پیچھے تھوکو، یا اپنے بائیں تھوکو، بشرطیکہ بائیں طرف کوئی نہ ہو، ورنہ اس طرح کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیر کے نیچے تھوک کر اسے مل دیا۔

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الصلاة22 (478)، سنن الترمذی/الصلاة 284، الجمعة 49 (571) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة 61 (1021) مختصراً، (تحفة الأشراف: 4987)، مسند احمد 6/396 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 309
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
اخبرنا علي بن حجر، قال: حدثنا إسماعيل، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم" اخذ طرف ردائه فبصق فيه فرد بعضه على بعض".
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ فَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا، اور اسے مل دیا ۱؎۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 591)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 33 (405)، 39 (417)، سنن ابی داود/الطھارة 143 (390)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 61 (1024) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ تھوک پاک ہے، ورنہ آپ صلی الله علیہ وسلم ایسا نہ کرتے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 310
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن بشار، عن محمد، قال: حدثنا شعبة، قال: سمعت القاسم بن مهران، يحدث عن ابي رافع، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إذا صلى احدكم فلا يبزق بين يديه ولا عن يمينه، ولكن عن يساره او تحت قدمه، وإلا فبزق النبي صلى الله عليه وسلم هكذا في ثوبه ودلكه".
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مِهْرَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، وَإِلَّا فَبَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے، یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں اس طرح تھوکا ہے اور اسے مل دیا۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/المساجد 13 (550)، سنن ابن ماجہ/إقامة 61 (1022)، (تحفة الأشراف 14669)، مسند احمد 2/250، 415 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 725
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى بصاقا في جدار القبلة فحكه ثم اقبل على الناس، فقال:" إذا كان احدكم يصلي فلا يبصقن قبل وجهه، فإن الله عز وجل قبل وجهه إذا صلى".
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ والی دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے رگڑ دیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرہ کی جانب ہرگز نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے چہرہ کے سامنے ہوتا ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الصلاة 33 (406)، الأذان 94 (753)، العمل في الصلاة 12 (1213)، الأدب 75 (6111)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 8366)، موطا امام مالک/القبلة 3 (4)، مسند احمد 2/32، 66، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1437) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 726
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، قال: حدثنا سفيان، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى نخامة في قبلة المسجد فحكها بحصاة ونهى ان يبصق الرجل بين يديه او عن يمينه، وقال:" يبصق عن يساره او تحت قدمه اليسرى".
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ وَنَهَى أَنْ يَبْصُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ:" يَبْصُقُ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ (والی دیوار پر) بلغم دیکھا تو اسے کنکری سے کھرچ دیا، اور لوگوں کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے روکا، اور فرمایا: (جنہیں ضرورت ہو) وہ اپنے بائیں تھوکے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الصلاة 34 (408)، 35 (410)، 36 (414)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد 10 (761)، (تحفة الأشراف: 3997)، مسند احمد 3/6، 24، 58، 88، 93، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1438) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 728
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
اخبرنا سويد بن نصر، قال: انبانا عبد الله، عن سعيد الجريري، عن ابي العلاء بن الشخير، عن ابيه، قال: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم" تنخع فدلكه برجله اليسرى".
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَنَخَّعَ فَدَلَكَهُ بِرِجْلِهِ الْيُسْرَى".
شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے کھکھار کر تھوکا، پھر اسے اپنے بائیں پیر سے رگڑ دیا۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/المساجد 13 (554)، سنن ابی داود/الصلاة 22 (482، 483)، مسند احمد 4/25، 26، (تحفة الأشراف: 5348) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 729
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
اخبرنا إسحاق بن إبراهيم، قال: حدثنا عائذ بن حبيب، قال: حدثنا حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال: راى رسول الله صلى الله عليه وسلم نخامة في قبلة المسجد فغضب حتى احمر وجهه، فقامت امراة من الانصار فحكتها وجعلت مكانها خلوقا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ما احسن هذا".
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحْسَنَ هَذَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کر دیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کیا ہی اچھا کیا۔

تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/المساجد 10 (762)، (تحفة الأشراف: 698)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 39 (417)، مسند احمد 3/188، 199، 200 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.