قرآن مجيد
سورة العنكبوت
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
الم۔
|
|
2 |
کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
حالانکہ بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کی آزمائش کی جو ان سے پہلے تھے، سو اللہ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا اور ان لوگوں کو بھی ہر صورت جان لے گا جو جھوٹے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
یا ان لوگوں نے جو برے کام کرتے ہیں، یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو تو بے شک اللہ کا مقرر وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
|
|
6 |
اور جو جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے جہاد کرتا ہے، یقینا اللہ تو سارے جہانوں سے بہت بے پروا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
اور جو لو گ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے یقینا ہم ان سے ان کی برائیاں ضرور دور کر دیں گے اور یقینا انھیں اس عمل کی بہترین جزا ضرور دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید کی ہے اور اگر وہ تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان، تمھیں میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر میں تمھیں بتائوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔
|
|
9 |
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اچھے کام کیے ہم انھیں ضرور ہی نیک لوگوں میں داخل کریں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو کہتا ہے ہم اللہ پر ایمان لائے، پھر جب اسے اللہ (کے معاملہ) میں تکلیف دی جائے تو لوگوں کے ستانے کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے اور یقینا اگر تیرے رب کی طرف سے کوئی مدد آجائے تو یقینا ضرور کہیں گے ہم تو تمھارے ساتھ تھے، اور کیا اللہ اسے زیادہ جاننے والا نہیں جو سارے جہانوں کے سینوں میں ہے۔
|
|
11 |
اور یقینا اللہ ان لوگوں کو ضرور جان لے گاجو ایمان لائے اور یقینا انھیں بھی ضرور جان لے گا جو منافق ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
اور جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے ان لوگوں سے کہا جو ایمان لائے کہ تم ہمارے راستے پر چلو اور لازم ہے کہ ہم تمھارے گناہ اٹھا لیں، حالانکہ وہ ہرگز ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں، بے شک وہ یقینا جھوٹے ہیں۔
|
|
13 |
اور یقینا وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کئی اور بوجھ بھی۔ اور یقینا وہ قیامت کے دن اس کے متعلق ضرور پوچھے جائیں گے جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس کم ہزار برس رہا، پھر انھیں طوفان نے پکڑ لیا، اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔
|
|
15 |
پھر ہم نے اسے بچا لیا اور کشتی والوں کو بھی اور اسے جہانوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
اور ابراہیم کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
|
|
17 |
تم اللہ کے سوا چند بتوں ہی کی تو عبادت کرتے ہو اور تم سراسر جھوٹ گھڑتے ہو۔ بلاشبہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو تمھارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں ہیں، سو تم اللہ کے ہاں ہی رزق تلاش کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
18 |
اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کئی امتیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول کے ذمے تو کھلم کھلا پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دہرائے گا، بے شک یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
|
|
20 |
کہہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی، پھر اللہ ہی دوسری پیدائش پیدا کرے گا، یقینا اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
وہ عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور رحم کرتا ہے جس پر چاہتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
اور نہ تم کسی طرح زمین میں عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہو چکے اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
پھر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا اسے قتل کر دو، یا اسے جلادو، تو اللہ نے اسے آگ سے بچالیا۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔
|
|
25 |
اور اس نے کہا بات یہی ہے کہ تم نے اللہ کے سوا بت بنائے ہیں، دنیا کی زندگی میں آپس کی دوستی کی وجہ سے، پھر قیامت کے دن تم میں سے بعض بعض کا انکار کرے گا اور تم میں سے بعض بعض پر لعنت کرے گا اور تمھارا ٹھکانا آگ ہی ہے اور تمھارے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
تو لوط اس پر ایمان لے آیا اور اس نے کہا بے شک میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، یقینا وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
|
|
27 |
اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی اور ہم نے اسے اس کا اجر دنیا میں دیا اور بے شک وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں سے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
اور لوط کو (بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا بے شک تم یقینا اس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔
|
|
29 |
کیا بے شک تم واقعی مردوں کے پاس آتے ہو اور راستہ کاٹتے ہو اور اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو؟ تو اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا ہم پر اللہ کا عذاب لے آ، اگر تو سچوں سے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
اس نے کہا اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے خلاف میری مدد فرما۔
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر آئے تو انھوں نے کہا یقینا ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں، بے شک اس کے رہنے والے ظالم چلے آئے ہیں۔
|
|
32 |
اس نے کہا اس میں تو لوط ہے۔ انھوں نے کہا ہم اسے زیادہ جاننے والے ہیں جو اس میں ہے، یقینا ہم اسے اور اس کے گھر والوں کو ضرور بچالیں گے، مگر اس کی بیوی، وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
اور جیسے ہی ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان کے سبب دل میں تنگ ہوا اور انھوں نے کہا نہ ڈر اور نہ غم کر، بے شک ہم تجھے اور تیرے گھر والوں کو بچانے والے ہیں مگر تیری بیوی، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
بے شک ہم اس بستی والوں پر آسمان سے ایک عذاب اتارنے والے ہیں، اس وجہ سے جو وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس سے ان لوگوں کے لیے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی جو عقل رکھتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور یوم آخر کی امید رکھو اور زمین میں فساد کرنے والے بن کر دنگا نہ مچاؤ۔
|
|
37 |
تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس انھیں زلزلے نے پکڑ لیا تو وہ صبح کو اپنے گھر میں پڑے کے پڑے رہ گئے۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
اور عاد اور ثمود کو (ہم نے ہلاک کیا) اور یقینا ان کے رہنے کی کچھ جگہیں تمھارے سامنے آچکی ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے کام مزین کر دیے، پس انھیں اصل راستے سے روک دیا، حالانکہ وہ بہت سمجھ دار تھے۔
|
|
39 |
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو، اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آیا، تو وہ زمین میں بڑے بن بیٹھے اور وہ بچ نکلنے والے نہ تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھرائو والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اللہ کے سوا اور مددگار بنا رکھے ہیں مکڑی کی مثال جیسی ہے، جس نے ایک گھر بنایا، حالانکہ بے شک سب گھروں سے کمزور تو مکڑی کا گھر ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔
|
|
42 |
یقینا اللہ جانتا ہے جسے وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کوئی بھی چیز ہو اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
|
|
43 |
اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، بلاشبہ اس میں ایمان والوں کے لیے یقینا بڑی نشانی ہے۔
|
|
45 |
اس کی تلاوت کر جو کتاب میں سے تیری طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کر، بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور یقینا اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
|
|
46 |
اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، مگر وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا اور کہو ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور تمھاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا معبود اور تمھارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔
|
|
47 |
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف یہ کتاب نازل کی، پھروہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان (مشرکین) میں سے بھی کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر جو کافر ہیں۔
|
|
48 |
اور تو اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا، اس وقت باطل والے لوگ ضرور شک کرتے۔
|
|
49 |
بلکہ یہ تو واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنھیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر جو ظالم ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
50 |
اور انھوں نے کہا اس پر اس کے رب کی طرف سے کسی قسم کی نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں، کہہ دے نشانیاں تو سب اللہ ہی کے پاس ہیں اورمیں تو صرف ایک کھلم کھلا ڈرانے والاہوں۔
|