اور ہم نے انھیں بارہ قبیلوں میں تقسیم کر دیا، جو کئی گروہ تھے اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی، جب اس کی قوم نے اس سے پانی مانگا کہ اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، بلاشبہ سب لوگوں نے اپنی پانی پینے کی جگہ معلوم کر لی اور ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور ان پر من اور سلویٰ اتارا، کھائو ان پاک چیزوں میں سے جو ہم نے تمھیں عطا کیں اور انھوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ اپنے آپ ہی پر ظلم کرتے تھے۔[160]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَقَطَّعۡنٰہُمُ
اثۡنَتَیۡ عَشۡرَۃَ
اَسۡبَاطًا
اُمَمًا
وَاَوۡحَیۡنَاۤ
اِلٰی مُوۡسٰۤی
اِذِ
اسۡتَسۡقٰىہُ
قَوۡمُہٗۤ
اَنِ
اضۡرِبۡ
بِّعَصَاکَ
الۡحَجَرَ
فَانۡۢبَجَسَتۡ
مِنۡہُ
اثۡنَتَا عَشۡرَۃَ
عَیۡنًا
قَدۡ
عَلِمَ
کُلُّ
اُنَاسٍ
مَّشۡرَبَہُمۡ
وَظَلَّلۡنَا
عَلَیۡہِمُ
الۡغَمَامَ
وَاَنۡزَلۡنَا
عَلَیۡہِمُ
الۡمَنَّ
وَالسَّلۡوٰی
کُلُوۡا
مِنۡ طَیِّبٰتِ
مَا
رَزَقۡنٰکُمۡ
وَمَا
ظَلَمُوۡنَا
وَلٰکِنۡ
کَانُوۡۤا
اَنۡفُسَہُمۡ
یَظۡلِمُوۡنَ
اور الگ الگ کردیا ہم نے انہیں
بارہ
قبیلوں میں
جماعتیں بنا کر
اور وحی کی ہم نے
طرف موسیٰ کے
جب
پانی مانگا اس سے
اس کی قوم نے
کہ
مار
عصا اپنا
پتھر پر
پس پھوٹ نکلے
اس سے
بارہ
چشمے
تحقیق
جان لیا
ہر
گروہ نے
گھاٹ اپنا
اور سایہ کیا ہم نے
ان پر
بادلوں کا
اور نازل کیا ہم نے
ان پر
من
اور سلوی
کھاؤ
پاکیزہ چیزوں میں سے
جو
عطا کیں ہم نے تمہیں
اور نہیں
انہوں نے ظلم کیا ہم پر
اور لیکن
تھے وہ
اپنی ہی جانوں پر
ظلم کرتے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَقَطَّعۡنٰہُمُ
اثۡنَتَیۡ عَشۡرَۃَ
اَسۡبَاطًا
اُمَمًا
وَاَوۡحَیۡنَاۤ
اِلٰی مُوۡسٰۤی
اِذِ
اسۡتَسۡقٰىہُ
قَوۡمُہٗۤ
اَنِ
اضۡرِبۡ
بِّعَصَاکَ
الۡحَجَرَ
فَانۡۢبَجَسَتۡ
مِنۡہُ
اثۡنَتَا عَشۡرَۃَ
عَیۡنًا
قَدۡ
عَلِمَ
کُلُّ
اُنَاسٍ
مَّشۡرَبَہُمۡ
وَظَلَّلۡنَا
عَلَیۡہِمُ
الۡغَمَامَ
وَاَنۡزَلۡنَا
عَلَیۡہِمُ
الۡمَنَّ
وَالسَّلۡوٰی
کُلُوۡا
مِنۡ طَیِّبٰتِ
مَا
رَزَقۡنٰکُمۡ
وَمَا
ظَلَمُوۡنَا
وَلٰکِنۡ
کَانُوۡۤا
اَنۡفُسَہُمۡ
یَظۡلِمُوۡنَ
اور تقسیم کردیا ہم نے انہیں
بارہ
قبیلے
کئی گروہ تھے
اور وحی کی ہم نے
طرف موسیٰ کی
جب
پانی مانگا اس سے
اس کی قو م نے
یہ کہ
تم مارو
عصا اپنا
پتھر پر
تو پھوٹ نکلے
اس سے
بارہ
چشمے
بلاشبہ
معلوم کر لی
سب
لوگوں نے
اپنی پانی پینے کی جگہ
اور سایہ کیا ہم نے
اُن پر
با دلوں کا
اور اتارا ہم نے
اُن پر
من
او ر سلویٰ
کھاؤ
پاک چیزوں میں سے
جو
رزق دیا ہم نے تمہیں
اور نہیں
انہوں نے ظلم کیا ہم پر
اور لیکن
تھے وہ
اپنی جانوں پر
ظلم کرتے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَقَطَّعْنٰهُمُ
اثْنَتَيْ
عَشْرَةَ
اَسْبَاطًا
اُمَمًا
وَاَوْحَيْنَآ
اِلٰي
مُوْسٰٓي
اِذِ
اسْتَسْقٰىهُ
قَوْمُهٗٓ
اَنِ
اضْرِبْ
بِّعَصَاكَ
الْحَجَرَ
فَانْۢبَجَسَتْ
مِنْهُ
اثْنَتَا عَشْرَةَ
عَيْنًا
قَدْ عَلِمَ
كُلُّ
اُنَاسٍ
مَّشْرَبَهُمْ
وَظَلَّلْنَا
عَلَيْهِمُ
الْغَمَامَ
وَاَنْزَلْنَا
عَلَيْهِمُ
الْمَنَّ
وَالسَّلْوٰى
كُلُوْا
مِنْ
طَيِّبٰتِ
مَا رَزَقْنٰكُمْ
وَ
مَا ظَلَمُوْنَا
وَلٰكِنْ
كَانُوْٓا
اَنْفُسَهُمْ
يَظْلِمُوْنَ
اور ہم نے جدا کردیا انہیں
دو
دس (بارہ)
باپ دادا کی اولاد (قبیلے)
گروہ در گرو
اور وحی بھیجی ہم نے
طرف
جب
اس سے پانی مانگا
اس کی قوم
کہ
مارو
اپنی لاٹھی
پتھر
تو پھوٹ نکلے
اس سے
بارہ
چشمے
جان لیا (پہچان لیا)
ہر
شخص
اپنا گھاٹ
اور ہم نے سایہ کیا
ان پر
ابر
اور ہم نے اتارا
ان پر
من
اور سلوی
تم کھاؤ
سے
پاکیزہ
جو ہم نے تمہں دیں
اور
ہمارا کچھ نہ بگاڑا انہوں نے
اور لیکن
وہ تھے
اپنی جانوں پر
ظلم کرتے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]