اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر، یا بیٹھا ہوا، یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کی طرف، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے لیے مزین بنا دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے۔[12]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَا
مَسَّ
الۡاِنۡسَانَ
الضُّرُّ
دَعَانَا
لِجَنۡۢبِہٖۤ
اَوۡ
قَاعِدًا
اَوۡ
قَآئِمًا
فَلَمَّا
کَشَفۡنَا
عَنۡہُ
ضُرَّہٗ
مَرَّ
کَاَنۡ
لَّمۡ
یَدۡعُنَاۤ
اِلٰی ضُرٍّ
مَّسَّہٗ
کَذٰلِکَ
زُیِّنَ
لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ
مَا
کَانُوۡا
یَعۡمَلُوۡنَ
اور جب
پہنچتی ہے
انسان کو
تکلیف
وہ پکارتا ہے ہمیں
اپنی کروٹ پر
یا
بیٹھے ہوئے
یا
کھڑے ہوئے
پھر جب
ہم ہٹا دیتے ہیں
اس سے
تکلیف اس کی
وہ چل دیتا ہے
گویا کہ
نہیں
پکارا تھا اس نے ہمیں
طرف کسی تکلیف کے
جو پہنچی اسے
اسی طرح
مزین کر دئیے گئے
حد سے بڑھنے والوں کے لیے
جو
تھے وہ
وہ عمل کرتے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَا
مَسَّ
الۡاِنۡسَانَ
الضُّرُّ
دَعَانَا
لِجَنۡۢبِہٖۤ
اَوۡقَاعِدًا
اَوۡقَآئِمًا
فَلَمَّا
کَشَفۡنَا
عَنۡہُ
ضُرَّہٗ
مَرَّ
کَاَنۡ
لَّمۡ یَدۡعُنَاۤ
اِلٰی ضُرٍّ
مَّسَّہٗ
کَذٰلِکَ
زُیِّنَ
لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ
مَا
کَانُوۡا
یَعۡمَلُوۡنَ
اور جب
پہنچتی ہے
انسان کو
تکلیف
وہ پکارتا ہے ہمیں
اپنے پہلو پر
یا بیٹھے ہوئے
یا کھڑے ہوئے
پھر جب
ہم دور کر دیتے ہیں
اس سے
تکلیف اس کی
وہ چل دیتا ہے
گویا کہ
اس نے ہمیں نہیں پکارا تھا
اس تکلیف میں
جو اسے پہنچی
ایسےہی
خوشنما بنا دیا گیا
حد سے گزر جانے والوں کے لیے
جو
تھے وہ
عمل کیا کرتے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِذَا
مَسَّ
الْاِنْسَانَ
الضُّرُّ
دَعَانَا
لِجَنْۢبِهٖٓ
اَوْ
قَاعِدًا
اَوْ
قَآئِمًا
فَلَمَّا
كَشَفْنَا
عَنْهُ
ضُرَّهٗ
مَرَّ
كَاَنْ
لَّمْ يَدْعُنَآ
اِلٰى
ضُرٍّ
مَّسَّهٗ
كَذٰلِكَ
زُيِّنَ
لِلْمُسْرِفِيْنَ
مَا
كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ
اور جب
پہنچتی ہے
انسان
کوئی تکلیف
وہ ہمیں پکارتا ہے
اپنے پہلو پر (لیٹا ہوا)
یا (اور)
بیٹھا ہوا
یا (اور)
کھڑا ہوا
پھر جب
ہم دور کردیں
اس سے
اس کی تکلیف
چل پڑا
گویا کہ
ہمیں پکارا نہ تھا
کسی
تکلیف
اسے پہنچی
اسی طرح
بھلا کردکھایا
حد سے بڑھنے والوں کو
جو
وہ کرتے تھے (ان کے کام)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]