کہہ دے میں اپنی ذات کے لیے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی نفع کا، مگر جو اللہ چاہے۔ ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، جب ان کا وقت آپہنچتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں۔[49]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قُلۡ
لَّاۤاَمۡلِکُ
لِنَفۡسِیۡ
ضَرًّا
وَّلَا
نَفۡعًا
اِلَّا
مَا
شَآءَ
اللّٰہُ
لِکُلِّ
اُمَّۃٍ
اَجَلٌ
اِذَا
جَآءَ
اَجَلُہُمۡ
فَلَا
یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ
سَاعَۃً
وَّلَا
یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ
کہہ دیجیے
نہیں میں مالک
اپنی جان کے لیے
کسی نقصان کا
اور نہ
کسی نفع کا
مگر
جو
چاہے
اللہ
واسطے ہر
امت کے
ایک مقرر مدت ہے
جب
آجائے گی
مقرر مدت ان کی
تو نہیں
وہ پیچھے رہ سکیں گے
ایک گھڑی
اور نہ
وہ آگے بڑھ سکیں گے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قُلۡ
لَّاۤاَمۡلِکُ
لِنَفۡسِیۡ
ضَرًّا
وَّلَا نَفۡعًا
اِلَّا
مَا
شَآءَ
اللّٰہُ
لِکُلِّ
اُمَّۃٍ
اَجَلٌ
اِذَا
جَآءَ
اَجَلُہُمۡ
فَلَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ
سَاعَۃً
وَّلَا
یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ
کہہ دو
نہیں میں مالک
اپنی جان کے لیے
نقصان کا
اور نہ نفع کا
مگر
جو
چاہے
اللہ تعالیٰ
ہر ایک کےلیے
امت(کے لیے)
ایک وقت ہے
جب
آ جاتا ہے
وقت ان کا
تو نہیں وہ پیچھے رہتے
ایک گھڑی
اور نہ
وہ آگے بڑھتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
قُلْ
لَّآ اَمْلِكُ
لِنَفْسِيْ
ضَرًّا
وَّلَا نَفْعًا
اِلَّا
مَا
شَآءَ اللّٰهُ
لِكُلِّ اُمَّةٍ
اَجَلٌ
اِذَا
جَآءَ
اَجَلُھُمْ
فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ
سَاعَةً
وَّلَا
يَسْتَقْدِمُوْنَ
آپ کہ دیں
نہیں مالک ہوں میں
اپنی جان کے لیے
کسی نقصان
اور نہ نفع
مگر
جو
چاہے اللہ
ہر ایک امت کے لیے ہر ایک امت کے لیے
ایک وقت مقررہر ایک امت کے لیے
جب
آجائے گا
ان کا وقت
پس نہ تاخیر کریں گے وہ
ایک گھڑی
اور نہ
جلدی کریں گے وہ
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔