پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھر جائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں، پس عنقریب اللہ تجھے ان سے کافی ہو جائے گا اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔[137]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَاِنۡ
اٰمَنُوۡا
بِمِثۡلِ مَاۤ
اٰمَنۡتُمۡ
بِہٖ
فَقَدِ
اہۡتَدَوۡا
وَاِنۡ
تَوَلَّوۡا
فَاِنَّمَا
ہُمۡ
فِیۡ شِقَاقٍ
فَسَیَکۡفِیۡکَہُمُ
اللّٰہُ
وَہُوَ
السَّمِیۡعُ
الۡعَلِیۡمُ
پھر اگر
وہ ایمان لے آئیں
جس طرح
ایمان لائے تم
ساتھ اس کے
پس تحقیق
وہ ہدایت پاگئے
اور اگر
وہ منہ پھیرلیں
تو بےشک
وہ
اختلاف میں ہیں
تو عنقریب کافی ہوگا آپ کو ان سے
اللہ
اور وہ
خوب سننے والا ہے
خوب جاننے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَاِنۡ
اٰمَنُوۡا
بِمِثۡلِ مَاۤ
اٰمَنۡتُمۡ
بِہٖ
فَقَدِ
اہۡتَدَوۡا
وَاِنۡ
تَوَلَّوۡا
فَاِنَّمَا
ہُمۡ
فِیۡ شِقَاقٍ
فَسَیَکۡفِیۡکَہُمُ
اللّٰہُ
وَہُوَ
السَّمِیۡعُ
الۡعَلِیۡمُ
پھر اگر
وہ ایمان لائیں
اس جیسی (چیز ) پر جو
ایمان لائے تم
جس پر
تو یقیناً
وہ ہدایت پاگئے
اور اگر
وہ پھر جائیں
تو یقیناً
وہ
مخالفت میں ہیں
چنانچہ عنقریب کافی ہوجائے گا آپ کو ان سے
اللہ تعالیٰ
اور وہ
سب کچھ سننے والا ہے
سب کچھ جاننے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَاِنْ
اٰمَنُوْا
بِمِثْلِ
مَا آمَنْتُمْ
بِهٖ
فَقَدِ اهْتَدَوْا
وَاِنْ
تَوَلَّوْا
فَاِنَّمَا هُمْ
فِي شِقَاقٍ
فَسَيَكْفِيکَهُمُ
اللّٰہُ
وَ
هُوْ
السَّمِيعُ
الْعَلِيمُ
پس اگر
وہ ایمان لائیں
جیسے
تم ایمان لائے
اس پر
تو وہ ہدایت پاگئے
اور اگر
انہوں نے منہ پھیرا
تو بیشک وہی
ضد میں
پس عنقریب آپ کیلئے ان کے مقابلے میں کافی ہوگا
اللہ
اور
وہ
سننے والا
جاننے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]