اور ہم نے ان کے دلوں پر بند باندھ دیا، جب وہ کھڑے ہوئے تو انھوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہر گز نہ پکاریں گے، بلاشبہ یقینا ہم نے اس وقت حد سے گزری ہوئی بات کہی۔[14]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَّرَبَطۡنَا
عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ
اِذۡ
قَامُوۡا
فَقَالُوۡا
رَبُّنَا
رَبُّ
السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضِ
لَنۡ
نَّدۡعُوَا۠
مِنۡ دُوۡنِہٖۤ
اِلٰـہًا
لَّقَدۡ
قُلۡنَاۤ
اِذًا
شَطَطًا
اور مضبوط کر دیا ہم نے
ان کے دلوں کو
جب
وہ کھڑے ہوئے
پھر کہنے لگے
رب ہمارا
رب ہے
آسمانوں
اور زمین کا
ہر گز نہیں
ہم پکاریں گے
اس کے سوا
ـکسی کوـالٰہ
البتہ تحقیق
کہی ہم نے
تب
بات ناانصافی کی
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَّرَبَطۡنَا
عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ
اِذۡقَامُوۡا
فَقَالُوۡا
رَبُّنَا
رَبُّ
السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضِ
لَنۡ
نَّدۡعُوَا۠
مِنۡ دُوۡنِہٖۤ
اِلٰـہًا
لَّقَدۡ
قُلۡنَاۤ
اِذًا شَطَطًا
اور ہم نےبند باندھ دیا
اُن کے دلوں پر
جب وہ کھڑے ہوئے
تو انھوں نے کہا
اے ہمارے رب
رب
آسمانوں کے
اور زمین کے
ہر گز نہیں
ہم پکاریں گے
سوائے اس کے
کوئی معبود
بلاشہ یقیناً
ہم نے (بات) کہی
تب با لکل حد سے گزری ہوئی
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَّرَبَطْنَا
عَلٰي
قُلُوْبِهِمْ
اِذْ
قَامُوْا
فَقَالُوْا
رَبُّنَا
رَبُّ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
لَنْ نَّدْعُوَا
مِنْ دُوْنِهٖٓ
اِلٰهًا
لَّقَدْ قُلْنَآ
اِذًا
شَطَطًا
اور ہم نے گرہ لگا دی
پر
ان کے دل
جب
وہ کھڑے ہوئے
تو انہوں نے کہا
ہمارا رب
پروردگار
آسمانوں
اور زمین
ہم ہرگز نہ پکاریں گے
اس کے سوائے
کوئی معبود
البتہ ہم نے کہی
اس وقت
بےجا بات
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]