اور جب تم عورتوں کو طلاق دو، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرلیں، جب وہ آ پس میں اچھے طریقے سے راضی ہو جائیں۔ یہ بات ہے جس کی نصیحت تم میں سے اس کو کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمھارے لیے زیادہ ستھرا اور زیادہ پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔[232]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَا
طَلَّقۡتُمُ
النِّسَآءَ
فَبَلَغۡنَ
اَجَلَہُنَّ
فَلَا
تَعۡضُلُوۡہُنَّ
اَنۡ
یَّنۡکِحۡنَ
اَزۡوَاجَہُنَّ
اِذَا
تَرَاضَوۡا
بَیۡنَہُمۡ
بِالۡمَعۡرُوۡفِ
ذٰلِکَ
یُوۡعَظُ
بِہٖ
مَنۡ
کَانَ
مِنۡکُمۡ
یُؤۡمِنُ
بِاللّٰہِ
وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ
ذٰلِکُمۡ
اَزۡکٰی
لَکُمۡ
وَاَطۡہَرُ
وَاللّٰہُ
یَعۡلَمُ
وَاَنۡتُمۡ
لَاتَعۡلَمُوۡنَ
اور جب
طلاق دے دو تم
عورتوں کو
پھر وہ پہنچیں
اپنی مدت کو
تو نہ
تو روکو انہیں
کہ
وہ نکاح کرلیں
اپنے شوہروں سے
جب
وہ باہم رضا مند ہوجائیں
آپس میں
بھلےطریقے سے
یہ(بات)
نصیحت کی جاتی ہے
ساتھ اس کے
اس کو جو
ہو
تم میں سے
ایمان رکھتا
اللہ پر
اورآخری دن پر
یہ (بات)
زیادہ پاکیزہ ہے
تمہارے لیے
اور زیادہ پاک ہے
اور اللہ
جانتا ہے
اور تم
نہیں تم جانتے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَا
طَلَّقۡتُمُ
النِّسَآءَ
فَبَلَغۡنَ
اَجَلَہُنَّ
فَلَا
تَعۡضُلُوۡہُنَّ
اَنۡ
یَّنۡکِحۡنَ
اَزۡوَاجَہُنَّ
اِذَا
تَرَاضَوۡا
بَیۡنَہُمۡ
بِالۡمَعۡرُوۡفِ
ذٰلِکَ
یُوۡعَظُ
بِہٖ
مَنۡ
کَانَ
مِنۡکُمۡ
یُؤۡمِنُ
بِاللّٰہِ
وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ
ذٰلِکُمۡ
اَزۡکٰی
لَکُمۡ
وَاَطۡہَرُ
وَاللّٰہُ
یَعۡلَمُ
وَاَنۡتُمۡ
لَاتَعۡلَمُوۡنَ
اور جب
طلاق دو تم
عورتوں کو
پھر وہ پہنچ جا ئیں
اپنی عدت کو
تو نہ
تم روکو انہیں
یہ کہ
وہ نکاح کرلیں
اپنے شوہروں سے
جب
وہ راضی ہوجائیں
آپس میں
اچھے طریقے سے
یہ ہے
نصیحت کی جاتی ہے
اس کے سا تھ
اس شخص کو جو
ہے
تم میں سے
وہ ایمان رکھتا ہو
اللہ تعالیٰ پر
اورآخرت کے دن پر
یہی
زیادہ پاکیزہ ہے
تمہارے لیے
اور زیادہ صا ف ہے
اور اللہ تعا لیٰ
جانتا ہے
اور تم
نہیں تم جانتے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِذَا
طَلَّقْتُمُ
النِّسَآءَ
فَبَلَغْنَ
اَجَلَهُنَّ
فَلَا
تَعْضُلُوْھُنَّ
اَنْ
يَّنْكِحْنَ
اَزْوَاجَهُنَّ
اِذَا
تَرَاضَوْا
بَيْنَهُمْ
بِالْمَعْرُوْفِ
ذٰلِكَ
يُوْعَظُ
بِهٖ
مَنْ
كَانَ
مِنْكُمْ
يُؤْمِنُ
بِاللّٰهِ
وَ
لْيَوْمِ الْاٰخِرِ
ذٰلِكُمْ
اَزْكٰى
لَكُمْ
وَاَطْهَرُ
وَاللّٰهُ
يَعْلَمُ
وَاَنْتُمْ
لَا تَعْلَمُوْنَ
اور جب
تم طلاق دو
عورتیں
پھر وہ پوری کرلیں
اپنی مدت (عدت)
تو نہ
روکو انہیں
کہ
وہ نکاح کریں
خاوند اپنے
جب
وہ باہم رضامند ہو جائیں
آپس میں
دستور کے مطابق
یہ
نصیحت کی جاتی ہے
اس سے
جو
ہو
تم میں سے
ایمان رکھتا
اللہ پر
اور
یوم آخرت پر
یہی
زیادہ ستھرا
تمہارے لیے
اور زیادہ پاکیزہ
اور اللہ
جانتا ہے
اور تم
نہیں جانتے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔