اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ فرمایا اور کیا تو نے یقین نہیں کیا؟ کہا کیوں نہیں اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے۔ فرمایا پھر چار پرندے پکڑ اور انھیں اپنے ساتھ مانوس کر لے، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دے، پھر انھیں بلا، دوڑتے ہوئے تیرے پاس آجائیں گے اور جان لے کہ اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔[260]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذۡ
قَالَ
اِبۡرٰہٖمُ
رَبِّ
اَرِنِیۡ
کَیۡفَ
تُحۡیِ
الۡمَوۡتٰی
قَالَ
اَوَلَمۡ
تُؤۡمِنۡ
قَالَ
بَلٰی
وَلٰکِنۡ
لِّیَطۡمَئِنَّ
قَلۡبِیۡ
قَالَ
فَخُذۡ
اَرۡبَعَۃً
مِّنَ الطَّیۡرِ
فَصُرۡہُنَّ
اِلَیۡکَ
ثُمَّ
اجۡعَلۡ
عَلٰی
کُلِّ
جَبَلٍ
مِّنۡہُنَّ
جُزۡءًا
ثُمَّ
ادۡعُہُنَّ
یَاۡتِیۡنَکَ
سَعۡیًا
وَاعۡلَمۡ
اَنَّ
اللّٰہَ
عَزِیۡزٌ
حَکِیۡمٌ
اور جب
کہا
ابراہیم نے
اے میرے رب
دکھا مجھے
کس طرح
تو زندہ کرے گا
مردوں کو
فرمایا
کیا بھلا نہیں
تم ایمان رکھتے
اس نے کہا
کیوں نہیں
اور لیکن
تاکہ مطمئن ہو جائے
میرا دل
فرمایا
پس لے لو
چار
پرندوں میں سے
پھر مائل کرو انہیں
طرف اپنی
پھر
رکھ دو
اوپر
ہر
پہاڑ کے
ان میں سے
ایک حصہ
پھر
بلاؤ انہیں
وہ آجائیں گے تیرے پاس
دوڑتے ہوئے
اور جان لو
بےشک
اللہ تعالی
بہت زبر دست ہے
خوب حکمت والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذۡ
قَالَ
اِبۡرٰہٖمُ
رَبِّ
اَرِنِیۡ
کَیۡفَ
تُحۡیِ
الۡمَوۡتٰی
قَالَ
اَوَلَمۡ
تُؤۡمِنۡ
قَالَ
بَلٰی
وَلٰکِنۡ
لِّیَطۡمَئِنَّ
قَلۡبِیۡ
قَالَ
فَخُذۡ
اَرۡبَعَۃً
مِّنَ الطَّیۡرِ
فَصُرۡہُنَّ
اِلَیۡکَ
ثُمَّ
اجۡعَلۡ
عَلٰی
کُلِّ
جَبَلٍ
مِّنۡہُنَّ
جُزۡءًا
ثُمَّ
ادۡعُہُنَّ
یَاۡتِیۡنَکَ
سَعۡیًا
وَاعۡلَمۡ
اَنَّ
اللّٰہَ
عَزِیۡزٌ
حَکِیۡمٌ
اور جب
کہا
ابراہیمؑ نے
اے میرے رب
تو دکھا مجھے
کیسے
تو زندہ کرے گا
مردوں کو
۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا
اور کیا نہیں
تُو یقین رکھتا
اُس نے کہا
کیوں نہیں
لیکن
تاکہ مطمئن ہو جائے
دل میرا
۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا
توتم لے لو
چار
پرندوں میں سے
پھر مانوس کرلو انہیں
اپنی طرف
پھر
تم رکھ دو
اوپر
ہر
پہاڑ کے
ان میں سے
ایک ٹکڑا
پھر
تم بلاؤ انہیں
وہ چلے آئیں گے تمہارے پاس
بھاگتے ہوئے
اور تم جان لو
یقیناً
اللہ تعالیٰ
سب پر غالب
کمال حکمت والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِذْ
قَالَ
اِبْرٰھٖمُ
رَبِّ
اَرِنِيْ
كَيْفَ
تُحْيِ
الْمَوْتٰى
قَالَ
اَوَلَمْ
تُؤْمِنْ
قَالَ
بَلٰي
وَلٰكِنْ
لِّيَطْمَئِنَّ
قَلْبِىْ
قَالَ
فَخُذْ
اَرْبَعَةً
مِّنَ
الطَّيْرِ
فَصُرْھُنَّ
اِلَيْكَ
ثُمَّ
اجْعَلْ
عَلٰي
كُلِّ
جَبَلٍ
مِّنْهُنَّ
جُزْءًا
ثُمَّ
ادْعُهُنَّ
يَاْتِيْنَكَ
سَعْيًا
وَاعْلَمْ
اَنَّ
اللّٰهَ
عَزِيْزٌ
حَكِيْمٌ
اور جب
کہا
ابراہیم
میرے رب
مجھے دکھا
کیونکر
تو زندہ کرتا ہے
مردہ
اس نے کہا
کیا نہیں
یقین کیا
اس نے کہا
کیوں نہیں
بلکہ
تاکہ اطمینان ہوجائے
میرا دل
اس نے کہا
پس پکڑ لے
چار
سے
پرندے
پھر ان کو ہلا
اپنے ساتھ
پھر
رکھ دے
پر
ہر
پہاڑ
ان سے (انکے)
ٹکڑے
پھر
انہیں بلا
وہ تیرے پاس آئینگے
دوڑتے ہوئے
اور جان لے
کہ
اللہ
غالب
حکمت والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]