اور جن لوگوں نے کل اس کے مرتبے کی تمنا کی تھی انھوں نے اس حال میں صبح کی کہ کہہ رہے تھے افسوس! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہم پر احسان کیا تو وہ ضرور ہمیں دھنسا دیتا، افسوس! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پاتے۔[82]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاَصۡبَحَ
الَّذِیۡنَ
تَمَنَّوۡا
مَکَانَہٗ
بِالۡاَمۡسِ
یَقُوۡلُوۡنَ
وَیۡکَاَنَّ
اللّٰہَ
یَبۡسُطُ
الرِّزۡقَ
لِمَنۡ
یَّشَآءُ
مِنۡ عِبَادِہٖ
وَیَقۡدِرُ
لَوۡلَاۤ
اَنۡ
مَّنَّ
اللّٰہُ
عَلَیۡنَا
لَخَسَفَ
بِنَا
وَیۡکَاَنَّہٗ
لَایُفۡلِحُ
الۡکٰفِرُوۡنَ
اور صبح کی
ان لوگوں نے جو
تمنا کر رہے تھے
اس کے مقام کی
کل تک
وہ کہہ رہے تھے
افسوس،بےشک
اللہ
وہ پھیلا دیتا ہے
رزق
جس کے لیے
وہ چاہتا ہے
اپنے بندوں میں سے
اور وہ تنگ کر دیتا ہے
اگر نہ ہوتا
یہ کہ
احسان کرتا
اللہ
ہم پر
البتہ وہ دھنسا دیتا
ہمیں(بھی)
افسوس،بےشک
نہیں وہ فلاح پاتے
جو کافر ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاَصۡبَحَ
الَّذِیۡنَ
تَمَنَّوۡا
مَکَانَہٗ
بِالۡاَمۡسِ
یَقُوۡلُوۡنَ
وَیۡکَاَنَّ
اللّٰہَ
یَبۡسُطُ
الرِّزۡقَ
لِمَنۡ
یَّشَآءُ
مِنۡ عِبَادِہٖ
وَیَقۡدِرُ
لَوۡلَاۤ
اَنۡ
مَّنَّ
اللّٰہُ
عَلَیۡنَا
لَخَسَفَ
بِنَا
وَیۡکَاَنَّہٗ
لَایُفۡلِحُ
الۡکٰفِرُوۡنَ
اور ہوگئے
وہ لوگ
جنہوں نے تمنا کی تھی
اس کے مرتبے کی
کل
وہ کہنے لگے
افسوس کہ
اللہ تعالیٰ
کشادہ کر دیتا ہے
رزق
جس کے لیے
چاہتا ہے
اپنے بندوں میں سے
اور وہ تنگ کر دیتا ہے
اگر نہ ہوتا
یہ کہ
احسان کیا
اللہ تعالیٰ نے
ہم پر
ضرور دھنسا دیتا
ہمیں
افسوس کہ یقیناًوہ
نہیں کامیاب ہوں گے
کافر
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاَصْبَحَ
الَّذِيْنَ
تَمَنَّوْا
مَكَانَهٗ
بِالْاَمْسِ
يَقُوْلُوْنَ
وَيْكَاَنَّ
اللّٰهَ
يَبْسُطُ
الرِّزْقَ
لِمَنْ يَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ
وَيَقْدِرُ
لَوْلَآ
اَنْ
مَّنَّ اللّٰهُ
عَلَيْنَا
لَخَسَفَ بِنَا
وَيْكَاَنَّهٗ
لَا يُفْلِحُ
الْكٰفِرُوْنَ
اور صبح کے وقت
جو لوگ
تمنا کرتے تھے
اس کا مقام
کل
کہنے لگے
ہائے شامت
اللہ
فراخ کردیتا ہے
رزق
جس کے لیے چاہے
سے
اپنے بندے
اور تنگ کردیتا ہے
اگر نہ
یہ کہ
احسان کرتا اللہ
ہم پر
البتہ ہمیں دھنسا دیتا
ہائے شامت
فلاح نہیں پاتے
کافر (جمع)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔