سو آج تمھارا کوئی کسی کے لیے نہ نفع کا مالک ہے اور نہ نقصان کا اور ہم ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے ظلم کیا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔[42]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَالۡیَوۡمَ
لَایَمۡلِکُ
بَعۡضُکُمۡ
لِبَعۡضٍ
نَّفۡعًا
وَّلَا
وَّضَرًّا
وَنَقُوۡلُ
لِلَّذِیۡنَ
ظَلَمُوۡا
ذُوۡقُوۡا
عَذَابَ
النَّارِ
الَّتِیۡ
کُنۡتُمۡ
بِہَا
تُکَذِّبُوۡنَ
تو آج کے دن
نہ مالک ہو گا
بعض تمہارا
بعض کے لیے
کسی نفع کا
اور نہ
کسی نقصان کا
اور ہم کہیں گے
ان کو جنہوں نے
ظلم کیا
چکھو
عذاب
آگ کا
وہ جو
تھے تم
جسے
تم جھٹلایا کرتے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَالۡیَوۡمَ
لَایَمۡلِکُ
بَعۡضُکُمۡ
لِبَعۡضٍ
نَّفۡعًا
وَّلَا ضَرًّا
وَنَقُوۡلُ
لِلَّذِیۡنَ
ظَلَمُوۡا
ذُوۡقُوۡا
عَذَابَ
النَّارِ
الَّتِیۡ
کُنۡتُمۡ
بِہَا
تُکَذِّبُوۡنَ
چنانچہ آج کے دن
نہیں اختیار رکھتا
تم میں سے بعض
دوسرے کے لیے
نفع کا
اور نہ نقصان کا
اور ہم کہیں گے
ان لوگوں سے
جنہوں نے ظلم کیا
چکھو
عذاب
آگ کا
جسے
تھے تم
اس کو
جھٹلاتے
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَالْيَوْمَ
لَا يَمْلِكُ
بَعْضُكُمْ
لِبَعْضٍ
نَّفْعًا
وَّلَا ضَرًّا ۭ
وَنَقُوْلُ
لِلَّذِيْنَ
ظَلَمُوْا
ذُوْقُوْا
عَذَابَ النَّارِ
الَّتِيْ
كُنْتُمْ
بِهَا
تُكَذِّبُوْنَ
سو آج
اختیار نہیں رکھتا
تم میں سے بعض (ایک)
بعض (دوسرے) کے لیے
نفع کا
اور نہ نقصان کا
اور ہم کہیں گے
ان لوگوں کو
جنہوں نے ظلم کیا
تم چکھو
آگ (جہنم) کا عذاب
وہ جس
تم تھے
اس کو
تم جھٹلاتے تھے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]