یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے، کہہ دے اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے توتم میرے لیے اللہ کے مقابلے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، وہ ان باتوں کو زیادہ جاننے والا ہے جن میں تم مشغول ہوتے ہو، وہی میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کے طور پر کافی ہے اور وہی بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔[8]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اَمۡ
یَقُوۡلُوۡنَ
افۡتَرٰىہُ
قُلۡ
اِنِ
افۡتَرَیۡتُہٗ
فَلَا
تَمۡلِکُوۡنَ
لِیۡ
مِنَ اللّٰہِ
شَیۡئًا
ہُوَ
اَعۡلَمُ
بِمَا
تُفِیۡضُوۡنَ
فِیۡہِ
کَفٰی
بِہٖ
شَہِیۡدًۢا
بَیۡنِیۡ
وَبَیۡنَکُمۡ
وَہُوَ
الۡغَفُوۡرُ
الرَّحِیۡمُ
یا
وہ کہتے ہیں
اس نے گھڑ لیا ہے اسے
کہہ دیجیے
اگر
گھڑ لیا ہے میں نے اسے
تو نہیں
تم مالک ہو سکتے
میرے لیے
اللہ سے
کسی چیز کے
وہ
زیادہ جاننے والا ہے
اسے جو
تم مشغول ہوتے ہو
جس میں
کافی ہے
اس کا
گواہ ہونا
درمیان میرے
اور درمیان تمہارے
اور وہی ہے
بہت بخشنے والا
نہایت رحم کرنے والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اَمۡ
یَقُوۡلُوۡنَ
افۡتَرٰىہُ
قُلۡ
اِنِ
افۡتَرَیۡتُہٗ
فَلَا
تَمۡلِکُوۡنَ
لِیۡ
مِنَ اللّٰہِ
شَیۡئًا
ہُوَ
اَعۡلَمُ
بِمَا
تُفِیۡضُوۡنَ
فِیۡہِ
کَفٰی بِہٖ
شَہِیۡدًۢا
بَیۡنِیۡ
وَبَیۡنَکُمۡ
وَہُوَ
الۡغَفُوۡرُ
الرَّحِیۡمُ
یا
وہ کہتے ہیں
اس نے خود ہی گھڑا ہے اسے
آپ کہہ دو
اگر
میں نے گھڑ لیا ہے اسے
پھر نہیں
تم اختیار رکھتے
میرے لیے
اللہ تعالیٰ سے
کچھ بھی
وہ
زیادہ جانتا ہے
اس کو جو
تم باتیں بنا رہے ہو
اس کے بارے میں
کافی ہے وہ
گواہ
میرے درمیان
اور تمہارے درمیان
اور وہ
بے حد بخشنے والا
نہایت رحم والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
اَمْ يَقُوْلُوْنَ
افْتَرٰىهُ ۭ
قُلْ
اِنِ افْتَرَيْتُهٗ
فَلَا تَمْلِكُوْنَ
لِيْ
مِنَ اللّٰهِ
شَيْئًا ۭ
هُوَ اَعْلَمُ
بِمَا
تُفِيْضُوْنَ
فِيْهِ ۭ
كَفٰى
بِهٖ
شَهِيْدًۢا
بَيْنِيْ
وَبَيْنَكُمْ ۭ
وَهُوَ
الْغَفُوْرُ
الرَّحِيْمُ
کیا وہ کہتے ہیں
اس نے خود بنالیا ہے اسے
فرمادیں
اگر میں نے خود بنالیا ہے اسے
تو تم اختیار نہیں رکھتے
میرے لئے
اللہ سے
کچھ بھی
وہ خوب جانتا ہے
وہ جو
تم باتیں بناتے ہو
اس میں
وہ کافی ہے
اس کا
گواہ
میرے درمیان
اور تمہارے درمیان
اور وہ
بخشنے والا
رحم کرنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]