اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام کی گئی ہیں) مگر وہ (لونڈیاں) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں، یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا ہے اور تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں جو ان کے سوا ہیں کہ اپنے مالوں کے بدلے طلب کرو، اس حال میں کہ نکاح میں لانے والے ہو، نہ کہ بدکاری کرنے والے۔ پھر وہ جن سے تم ان عورتوں میں سے فائدہ اٹھائو پس انھیں ان کے مہر دو، جو مقرر شدہ ہوں اور تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مقرر کر لینے کے بعد آپس میں راضی ہو جائو، بے شک اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا،کمال حکمت والا ہے۔[24]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَّالۡمُحۡصَنٰتُ
مِنَ النِّسَآءِ
اِلَّا
مَا
مَلَکَتۡ
اَیۡمَانُکُمۡ
کِتٰبَ
اللّٰہِ
عَلَیۡکُمۡ
وَاُحِلَّ
لَکُمۡ
مَّا
وَرَآءَ
ذٰلِکُمۡ
اَنۡ
تَبۡتَغُوۡا
بِاَمۡوَالِکُمۡ
مُّحۡصِنِیۡنَ
غَیۡرَ
مُسٰفِحِیۡنَ
فَمَا
اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ
بِہٖ
مِنۡہُنَّ
فَاٰتُوۡہُنَّ
اُجُوۡرَہُنَّ
فَرِیۡضَۃً
وَلَا
جُنَاحَ
عَلَیۡکُمۡ
فِیۡمَا
تَرٰضَیۡتُمۡ
بِہٖ
مِنۡۢ بَعۡدِ
الۡفَرِیۡضَۃِ
اِنَّ
اللّٰہَ
کَانَ
عَلِیۡمًا
حَکِیۡمًا
اور جو شادی شدہ ہیں
عورتوں میں سے
مگر
جن کے
مالک ہوئے
دائیں ہاتھ تمہارے
لکھا ہوا ہے
اللہ کا
تم پر
اور حلال کیا گیا ہے
تمہارے لیے
وہ جو
علاوہ ہے
ان کے
کہ
تم تلاش کرو
ساتھ اپنے مالوں کے
نکاح میں لانے والے ہو
نہ کہ
نہ بدکاری کرنے والے
تو جو
فائدہ اٹھایا تم نے
ساتھ اس (نکاح)کے
ان سے
تو دے دو انہیں
مہر ان کے
مقرر کیے ہوئے
اور نہیں
کوئی گناہ
تم پر
اس میں جو
تم باہم راضی ہو جاؤ
جس پر
بعد
مہر ) مقرر کرنے کے
بےشک
اللہ تعالی
ہے
بہت علم والا
بہت حکمت والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَّالۡمُحۡصَنٰتُ
مِنَ النِّسَآءِ
اِلَّا
مَا
مَلَکَتۡ
اَیۡمَانُکُمۡ
کِتٰبَ
اللّٰہِ
عَلَیۡکُمۡ
وَاُحِلَّ
لَکُمۡ
مَّا
وَرَآءَ
ذٰلِکُمۡ
اَنۡ
تَبۡتَغُوۡا
بِاَمۡوَالِکُمۡ
مُّحۡصِنِیۡنَ
غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ
فَمَا
اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ
بِہٖ
مِنۡہُنَّ
فَاٰتُوۡہُنَّ
اُجُوۡرَہُنَّ
فَرِیۡضَۃً
وَلَا
جُنَاحَ
عَلَیۡکُمۡ
فِیۡمَا
تَرٰضَیۡتُمۡ
بِہٖ
مِنۡۢ بَعۡدِ
الۡفَرِیۡضَۃِ
اِنَّ
اللّٰہَ
کَانَ
عَلِیۡمًا
حَکِیۡمًا
اور شوہر والی عورتیں
عورتوں میں سے
مگر
جن کے
مالک ہوئے
دائیں ہاتھ تمہارے
لکھ دیا ہے
اللہ تعالیٰ نے
تم پر
اور حلال کر دی گئیں
تمہارے لیے
جو
علاوہ ہیں
ان کے
یہ کہ
تم طلب کرو
بدلے اپنے مالوں کے
نکاح میں لانے والے
نہ بدکاری کرنے والے
پھر جو
فائدہ اٹھاؤ تم
جن سے
ان میں سے
تو تم دے دو ان کو
مہر ان کے
مقررہ
اور نہیں
کوئی گناہ
تم پر
اس میں جو
تم باہم رضامند ہو جاؤ
جس پر
بعد
۔(مہر) مقرر ہونے کے
یقیناً
اللہ تعالیٰ
۔(ہمیشہ سے)ہے
سب کچھ جاننے والا
کمال حکمت والا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَّ
الْمُحْصَنٰتُ
مِنَ
النِّسَآءِ
اِلَّا
مَا
مَلَكَتْ
اَيْمَانُكُمْ
كِتٰبَ اللّٰهِ
عَلَيْكُمْ
وَاُحِلَّ
لَكُمْ
مَّا وَرَآءَ
ذٰلِكُمْ
اَنْ
تَبْتَغُوْا
بِاَمْوَالِكُمْ
مُّحْصِنِيْنَ
غَيْرَ
مُسٰفِحِيْنَ
فَمَا
اسْتَمْتَعْتُمْ
بِهٖ
مِنْھُنَّ
فَاٰتُوْھُنَّ
اُجُوْرَھُنَّ فَرِيْضَةً
وَلَا
جُنَاحَ
عَلَيْكُمْ
فِيْمَا
تَرٰضَيْتُمْ
بِهٖ
مِنْۢ بَعْدِ
الْفَرِيْضَةِ
اِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
عَلِيْمًا
حَكِيْمًا
اور
خاوند والی عورتیں
سے
عورتیں
مگر
جو۔ جس
مالک ہوجائیں
تمہارے داہنے ہاتھ
اللہ کا حکم ہے
تم پر
اور حلال کی گئیں
تمہارے لیے
سوا
ان کے
کہ
تم چاہو
اپنے مالوں سے
قید (نکاح) میں لانے کو
نہ
ہوس رانی کو
پس جو
تم نفع (لذت) حاصل کرو
اس سے
ان میں سے
تو ان کو دو
ان کے مہر مقرر کیے ہوئے
اور نہیں
گناہ
تم پر
اس میں جو
تم باہم رضا مند ہوجاؤ
اس سے
اس کے بعد
مقرر کیا ہوا
بیشک
اللہ
ہے
جاننے والا
حکمت والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]