یہ اس لیے کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے تھے تو انھوں نے کہا کیا کوئی بشرہماری رہنمائی کریں گے؟ پس انھوں نے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا اور اللہ نے پروا نہ کی اور اللہ بے پروا ہے، تمام خوبیوں والا ہے۔[6]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
ذٰلِکَ
بِاَنَّہٗ
کَانَتۡ
تَّاۡتِیۡہِمۡ
رُسُلُہُمۡ
بِالۡبَیِّنٰتِ
فَقَالُوۡۤا
اَبَشَرٌ
یَّہۡدُوۡنَنَا
فَکَفَرُوۡا
وَتَوَلَّوۡا
وَّاسۡتَغۡنَی
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ
غَنِیٌّ
حَمِیۡدٌ
یہ
بوجہ اس کے کہ وہ
تھے
آتے ان کے پاس
رسول ان کے
ساتھ واضح آیات کے
تو وہ کہتے
کیا انسان
راہ نمائی کریں گے ہماری
تو انہوں نے کفر کیا
اور وہ منہ موڑ گئے
اور پرواہ نہ کی
اللہ نے
اور اللہ
بہت بے نیاز ہے
خوب تعریف والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
ذٰلِکَ
بِاَنَّہٗ
کَانَتۡ
تَّاۡتِیۡہِمۡ
رُسُلُہُمۡ
بِالۡبَیِّنٰتِ
فَقَالُوۡۤا
اَبَشَرٌ
یَّہۡدُوۡنَنَا
فَکَفَرُوۡا
وَتَوَلَّوۡا
وَّاسۡتَغۡنَی
اللّٰہُ
وَاللّٰہُ
غَنِیٌّ
حَمِیۡدٌ
یہ
اس لیے ہے کہ یقیناً
تھے
آتے رہے ان کے پاس
رسول ان کے
واضح دلائل کے ساتھ
توانہوں نے کہا
کیاانسان
ہماری راہ نمائی کریں گے
چنانچہ انہوں نے کفرکیا
اورمنہ پھیرلیا
اوربے پرواہ ہوگیا
اﷲتعالیٰ (ان سے)
اوراﷲتعالیٰ
بے پرواہ ہے
تمام خوبیوں والاہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ
كَانَتْ
تَّاْتِيْهِمْ
رُسُلُهُمْ
بِالْبَيِّنٰتِ
فَقَالُوْٓا
اَبَشَرٌ
يَّهْدُوْنَنَا
فَكَفَرُوْا
وَ
تَوَلَّوْا
وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ
وَاللّٰهُ غَنِيٌّ
حَمِيْدٌ
یہ بوجہ اس کے کہ بیشک وہ
تھے
آتے ان کے پاس
ان کے رسول
ساتھ واضح آیات کے
تو وہ کہتے
کیا انسان
ہدایت دیں گے کہ ہم کو
تو انہوں نے کفر کیا
اور
منہ موڑ گئے
اور بےپرواہ ہوگیا اللہ
اور اللہ بےنیاز ہے
تعریف والا ہے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]