اور تم ہرگز نہ کر سکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری کرو، خواہ تم حرص بھی کرو، پس مت جھک جائو (ایک کی طرف) مکمل جھک جانا کہ اس(دوسری) کو لٹکائی ہوئی کی طرح چھوڑ دو اور اگر تم اصلاح کرو اور ڈرتے رہو تو بے شک اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔[129]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَلَنۡ
تَسۡتَطِیۡعُوۡۤا
اَنۡ
تَعۡدِلُوۡا
بَیۡنَ
النِّسَآءِ
وَلَوۡ
حَرَصۡتُمۡ
فَلَا
تَمِیۡلُوۡا
کُلَّ
الۡمَیۡلِ
فَتَذَرُوۡہَا
کَالۡمُعَلَّقَۃِ
وَاِنۡ
تُصۡلِحُوۡا
وَتَتَّقُوۡا
فَاِنَّ
اللّٰہَ
کَانَ
غَفُوۡرًا
رَّحِیۡمًا
اور ہر گز نہیں
تم استطاعت رکھ سکتے
یہ کہ
تم عدل کرو
درمیان
بیویوں کے
او راگر چہ
تم حرص کرو
تو نہ
تم مائل ہو جاؤ
مکمل
مائل ہوجانا
کہ تم چھوڑ دو اسے
مانند لٹکتی ہوئی (شے)کے
اور اگر
تم اصلاح / صلح کرو
اور تم تقوی کرو
تو بےشک
اللہ تعالی
ہے
بہت بخشنے والا
نہایت رحم کرنے والا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَلَنۡ
تَسۡتَطِیۡعُوۡۤا
اَنۡ
تَعۡدِلُوۡا
بَیۡنَ
النِّسَآءِ
وَلَوۡ
حَرَصۡتُمۡ
فَلَا تَمِیۡلُوۡا
کُلَّ الۡمَیۡلِ
فَتَذَرُوۡہَا
کَالۡمُعَلَّقَۃِ
وَاِنۡ
تُصۡلِحُوۡا
وَتَتَّقُوۡا
فَاِنَّ
اللّٰہَ
کَانَ
غَفُوۡرًا
رَّحِیۡمًا
اور ہر گز نہیں
تم استطاعت رکھتے
یہ کہ
تم عدل کرو
درمیان
بیویوں کے
اوراگرچہ
حرص رکھو تم
چنانچہ نہ تم جھک جاؤ
پوری طرح جھک جانا
پھر تم چھوڑ دو اس(دوسری)کو
لٹکی ہوئی کی طرح
اور اگر
تم اصلاح کرو
اور تم ڈرتے رہو
تو یقینا ً
اللہ تعالیٰ
۔(ہمیشہ سے)ہے
بے حد بخشنے والا
نہایت رحم والا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَلَنْ
تَسْتَطِيْعُوْٓا
اَنْ
تَعْدِلُوْا
بَيْنَ النِّسَآءِ
وَلَوْ
حَرَصْتُمْ
فَلَا تَمِيْلُوْا
كُلَّ الْمَيْلِ
فَتَذَرُوْھَا
كَالْمُعَلَّقَةِ
وَاِنْ
تُصْلِحُوْا
وَتَتَّقُوْا
فَاِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
غَفُوْرًا
رَّحِيْمًا
اور ہرگز نہ
کرسکو گے
کہ
برابری رکھو
عورتوں کے درمیان
اگرچہ
بہتیرا چاہو
پس نہ جھک پڑو
بلکل جھک جانا
کہ ایک کو ڈال رکھو
جیسے لٹکتی ہوئی
اور اگر
اصلاح کرتے رہو
اور پرہیزگاری کرو
تو بیشک
اللہ
ہے
بخشنے والا
مہربان
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
عَدْل:دوسرے کو اس کا پورا پورا حق یا اس کی مالیت کے برابر اس کا عوض دینا اور تناسب اور مساوات کو ملحوظ رکھنا اور اس کا استعمال ظاہری اور باطنی اموار میں عام ہیں۔