تو کیا تم طمع رکھتے ہو کہ وہ تمھارے لیے ایمان لے آئیں گے، حالانکہ یقینا ان میں سے کچھ لوگ ہمیشہ ایسے چلے آئے ہیں جو اللہ کا کلام سنتے ہیں، پھر اسے بدل ڈالتے ہیں، اس کے بعد کہ اسے سمجھ چکے ہوتے ہیں اور وہ جانتے ہیں۔[75]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اَفَتَطۡمَعُوۡنَ
اَنۡ
یُّؤۡمِنُوۡا
لَکُمۡ
وَقَدۡ
کَانَ
فَرِیۡقٌ
مِّنۡہُمۡ
یَسۡمَعُوۡنَ
کَلٰمَ
اللّٰہِ
ثُمَّ
یُحَرِّفُوۡنَہٗ
مِنۡۢ بَعۡدِ
مَا
عَقَلُوۡہُ
وَہُمۡ
یَعۡلَمُوۡنَ
کیا پھر تم طمع رکھتے ہو
کہ
وہ ایمان لائیں گے
تمہارے لئے
حالانکہ تحقیق
ہے
ایک گروہ (کے لوگ)
ان میں سے
وہ سنتے ہیں
کلام
اللہ کا
پھر
وہ تحریف کر ڈالتے ہیں اس میں
بعد کے
جو
انہوں نے سمجھ لیا اسے
جبکہ وہ
وہ علم رکھتے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اَفَتَطۡمَعُوۡنَ
اَنۡ
یُّؤۡمِنُوۡا
لَکُمۡ
وَقَدۡ
کَانَ
فَرِیۡقٌ
مِّنۡہُمۡ
یَسۡمَعُوۡنَ
کَلٰمَ
اللّٰہِ
ثُمَّ
یُحَرِّفُوۡنَہٗ
مِنۡۢ بَعۡدِ
مَا
عَقَلُوۡہُ
وَہُمۡ
یَعۡلَمُوۡنَ
توکیا تم طمع رکھتے ہو
کہ
وہ ایمان لائیں گے
تمہارے لئے
حالانکہ یقیناً
ہمیشہ سےہے
ایک گروہ
ان میں سے
وہ سنتے ہیں
کلام
اللہ تعالیٰ کا
پھر
بدل دیتے ہیں اس کو
اس کےبعد
جو
وہ اس کو سمجھ لیتے ہیں
اور وہ
جانتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
اَفَتَطْمَعُوْنَ
اَنْ
يُؤْمِنُوْا
لَكُمْ
وَقَدْ کَانَ
فَرِیْقٌ
مِنْهُمْ
يَسْمَعُوْنَ
کَلَامَ اللہِ
ثُمَّ
يُحَرِّفُوْنَهُ
مِنْ بَعْدِ
مَا
عَقَلُوْهُ
وَهُمْ
يَعْلَمُوْنَ
کیا پھر تم توقع رکھتے ہو
کہ
مان لیں گے
تمہاری لئے
اور تھا
ایک فریق
ان سے
وہ سنتے تھے
اللہ کا کلام
پھر
وہ بدل ڈالتے ہیں اس کو
بعد
جو
انہوں نے سمجھ لیا
اور وہ
جانتے ہیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]