السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3186. -- باب: من قال: لا يحرم من الرضاع إلا خمس رضعات
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک حرمت صرف پانچ مرتبہ دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 15635
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرٌ، ح قَالَ عَلِيٌّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْكَرْخِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا يُحَرِّمُ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ" ⦗٧٥٢⦘ وَقَالَ عُثْمَانُ: لَا يُحَرِّمُ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ مِنَ اللَّبَنِ، وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَهِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.
حجاج بن حجاج ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے حرمت کو ایک گھونٹ اور دو گھونٹ ثابت نہیں کرتے اور رضاعت حرمت کو ثابت نہیں کرتی مگر جو انتڑیوں کو بھر دے۔“ اور عثمان نے کہا: ”نہیں حرام کرتی مگر جو دودھ انتڑیوں کو بھر دے۔“ اور اس کو زہری اور ہشام نے عروہ سے موقوف روایت کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر اس کے ہم معنیٰ منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15635]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15636
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، نا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، نا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُحَرِّمُ الْفِيقَةُ" قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْفِيقَةُ؟ قَالَ:" الْمَرْأَةُ تَلِدُ فَتَحْصُرُ اللَّبَنَ فِي ثَدْيِهَا فَتُرْضِعُ لَهَا جَارَتَهَا الْمَزَّةَ وَالْمَزَّتَيْنِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْفَیْقَةُ» ”فیقہ“ حرام نہیں کرتا۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! فیقہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت بچہ جنے اور اس کے پستانوں میں دودھ آ جائے، پھر وہ اپنی ہمسائی کو ایک مرتبہ یا دو بار دودھ پلائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15636]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 15637
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، نا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّغَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَا: قَرَأْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: سُئِلَ سَالِمٌ عَنِ الرَّضْعَةِ تُحَرِّمُ؟ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ" أَنَّ الرَّضْعَةَ وَالرَّضْعَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ لَا تُحَرِّمُ".
حنظلہ بن ابی سفیان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سالم رحمہ اللہ سے رضاعت کے بارے میں سوال کیا گیا جو حرمت کو ثابت کرتی ہے تو انہوں نے فرمایا: ہمیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ”ایک رضاعت یا دو رضاعتیں یا تین رضاعتیں حرام نہیں کرتیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15637]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله والثلاث لا تحرم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15638
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ بِهِ وَهُوَ يَرْضَعُ إِلَى أُخْتِهَا أُمِّ كُلْثُومٍ فَأَرْضَعَتْهُ ثَلَاثَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ مَرِضَتْ فَلَمْ تُرْضِعْهُ غَيْرَ ثَلَاثِ رَضَعَاتٍ فَلَمْ أَكُنْ أَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ لَمْ تُكْمِلْ لِي عَشْرَ رَضَعَاتٍ".
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بھیجا اور وہ دودھ پیتا تھا اپنی بہن ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی طرف۔ اس نے اس کو تین بار دودھ پلایا، پھر وہ بیمار ہو گئیں۔ اس نے اس کو تین رضاعتوں کے علاوہ دودھ نہیں پلایا۔ میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر اس وجہ سے داخل نہیں ہوتا تھا کہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے میرے لیے یعنی میری دس رضاعتیں پوری نہیں کیں، یعنی دس بار دودھ نہیں پلایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15638]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15639
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ ⦗٧٥٣⦘ الشَّافِعِيُّ: أُمِرَتْ بِهِ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَرْضَعُ عَشْرًا لِأَنَّهَا أَكْثَرُ الرَّضَاعِ وَلَمْ تُتِمَّ لَهُ خَمْسًا فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا وَلَعَلَّ سَالِمًا أَنْ يَكُونَ ذَهَبَ عَلَيْهِ قَوْلُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْعَشْرِ الرَّضَعَاتِ فَنُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ.
ہمیں ربیع نے خبر دی کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے ساتھ حکم دیا کہ دس رضاعتیں کی جائیں، کیونکہ یہ اکثر رضاعتیں ہیں اور اس کے لیے پانچ مکمل نہیں کی گئیں، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر داخل نہیں ہوتے تھے اور شاید کہ سالم سے عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ قول اوجھل رہ گیا جو دس رضاعات کے بارے میں ہے کہ وہ منسوخ کر دی گئیں پانچ معلوم کے ساتھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15639]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15640
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" أَرْسَلَتْ بِعَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ إِلَى أُخْتِهَا فَاطِمَةَ بِنْتِ عُمَرَ تُرْضِعُهُ عَشْرَ رَضَعَاتٍ لِيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَهُوَ صَغِيرٌ يَرْضَعُ فَفَعَلَتْ وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا".
سیدہ صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عاصم بن عبداللہ بن سعد کو اپنی بہن سیدہ فاطمہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا کہ وہ اس کو دس رضاعتیں دودھ پلائے (یعنی دس بار) تاکہ وہ ان پر داخل ہو سکے۔ اور وہ چھوٹا تھا، دودھ پیتا، اس نے یہ کیا اور وہ ان پر داخل ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15640]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3187. -- باب: من قال: يحرم قليل الرضاع وكثيره
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک تھوڑا دودھ پینا ہو یا زیادہ، ہر صورت میں حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 15641
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كَتَبْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ سَعِيدٌ: شَكَكْنَا هُوَ النَّخَعِيُّ أَوِ التَّيْمِيُّ قَالَ مَطَرٌ هُوَ النَّخَعِيُّ فِي الرَّضَاعِ وَكَتَبَ إِلَيْنَا، أَنَّ شُرَيْحًا حَدَّثَ، أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا:" يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ"، وَقَالَ وكَانَ فِي كِتَابِهِ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيَّ حَدَّثَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَا تُحَرِّمُ الْخَطْفَةُ وَلَا الْخَطْفَتَانِ.
سعید، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم بن یزید کی طرف (خط) لکھا۔ سعید کہتے ہیں: ہم نے اس میں شک کیا کہ وہ (یعنی ابراہیم) نخعی ہیں یا تیمی؟ مطر کہتے ہیں: وہ نخعی ہیں۔ (ہم نے لکھا) رضاعت کے بارے میں اور انہوں نے ہماری طرف لکھا کہ شریح نے حدیث بیان کی کہ سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ وہ حرمت کو ثابت کرتی ہے، اور کہا اور ان کی کتاب میں تھا: بیشک ابوالشعثاء محاربی نے حدیث بیان کی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”نہیں حرام کرتے ایک مرتبہ جلدی سے ماں کا دودھ پینا یا دو مرتبہ جلدی سے دودھ پینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15641]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15642
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الرَّضَاعِ فَقَالَ:" لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ الْأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ"، فَقُلْتُ: إِنَّ ⦗٧٥٤⦘ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ:" لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلَا الرَّضْعَتَانِ وَلَا الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" قَضَاءُ اللهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ وَقَضَاءُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَكَ".
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رضاعت کے معاملے میں کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نہیں جانتا مگر بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعی یعنی دودھ شریک بہن کو حرام کیا ہے۔ میں نے کہا: بیشک امیر المؤمنین سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک رضاعت اور نہ ہی دو رضاعتیں اور نہ ایک گھونٹ اور نہ دو گھونٹ حرمت کو ثابت نہیں کرتے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کا فیصلہ تیرے فیصلے سے اور تیرے ساتھ امیر المؤمنین کے فیصلے سے بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15642]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15643
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، نا أَبِي، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ:" لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَصْدَقُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ} [النساء: ٢٣] قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} [النساء: ٢٣] ".
ہمیں شعبہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے (یعنی عمرو بن دینار نے) ایک شخص کو سنا، اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: امیر المؤمنین عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اور دو رضاعتیں حرمت کو ثابت نہیں کرتیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی کتاب امیر المؤمنین سے زیادہ سچی ہے، پھر انہوں نے ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ﴾ تلاوت کی یہاں تک کہ اس کو یہاں تک پہنچایا: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾ [سورة النساء: 23] ”حرام کی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور تمہاری رضاعی بہنیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15643]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15644
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا أَبُو النَّضْرِ، نا أَبُو خَيْثَمَةَ، نا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَطَاءٌ وَرَجُلًا مَعِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تُرْضِعُ الصَّبِيَّ فِي الْمَهْدِ أَوِ الْجَارِيَةَ رَضْعَةً وَاحِدَةً قَالَ:" هِيَ عَلَيْهِ حَرَامٌ" قَالَ: قُلْتُ فَإِنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ الزُّبَيْرِ يَزْعُمَانِ أَنَّهُ" لَا يُحَرِّمُهَا رَضْعَتَانِ وَلَا ثَلَاثٌ" قَالَ:" كِتَابُ اللهِ أَصْدَقُ مِنْ قَوْلِهِمَا وَقَرَأَ آيَةَ الرَّضَاعَةِ".
ابو زبیر نے ہمیں حدیث بیان کی کہ مجھے اور ایک شخص کو عطاء نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا۔ ہم نے ان سے ایک عورت کے بارے میں سوال کیا، وہ گود میں بچے کو یا بچی کو ایک مرتبہ دودھ پلاتی ہے، انہوں نے فرمایا: وہ اس پر حرام ہے۔ میں نے کہا: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور عائشہ رضی اللہ عنہا خیال کرتے ہیں کہ اس کو دو رضاعتیں یا تین رضاعتیں حرام نہیں کرتیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کی کتاب ان دونوں کے قول سے زیادہ سچی ہے، اور آپ نے آیتِ رضاعت [سورة النساء: 23] کی تلاوت فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15644]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح