السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3187. -- باب: من قال: يحرم قليل الرضاع وكثيره
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک تھوڑا دودھ پینا ہو یا زیادہ، ہر صورت میں حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 15645
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ:" قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ يُحَرِّمُ فِي الْمَهْدِ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ يَقُولُ:" لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ گود میں حرمت کو ثابت کر دیتی ہے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دو مکمل سالوں کے بعد رضاعت نہیں ہے۔ اسی طرح اس بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15645]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15646
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا وُهَيْبٌ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمَصَّةِ وَالْمَصَّتَيْنِ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةَ وَلَا الْمَصَّتَيْنِ وَلَا تُحَرِّمُ إِلَّا عَشْرًا فَصَاعِدًا" قَالَ: فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّضْعَةِ وَالرَّضْعَتَيْنِ فَقَالَ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ فِيهَا كَمَا قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَا يَقُولَانِ؟ قَالَ: كَانَا يَقُولَانِ" لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا تُحَرِّمُ دُونَ عَشْرِ رَضَعَاتٍ فَصَاعِدًا" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ ⦗٧٥٥⦘ أَصَحُّ فِي مَذْهَبِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَرِوَايَةُ عُرْوَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي مَذْهَبِهِ أَصَحُّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے ایک بار چوسنے اور دو بار چوسنے کے بارے میں سوال کیا تو وہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ایک بار چوسنا اور دو بار چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا مگر دس گھونٹ یا اس سے زیادہ۔
فرماتے ہیں: میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس آیا، میں نے ان سے ایک گھونٹ یا دو گھونٹوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اس کے بارے میں وہ نہیں کہتا جو ابن زبیر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا: کیسے؟ وہ کہتے ہیں: فرمایا: وہ دونوں کہتے ہیں: ایک بار چوسنا اور دو چوسنے حرام نہیں کرتے اور نہ ہی دس گھونٹوں سے کم حرام کرتی ہیں اور اس کو عبدالعزیز بن محمد نے ابراہیم بن عقبہ سے روایت کیا ہے اور اس کو زہری نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذہب میں زیادہ صحیح ہے اور عروہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کے نظریے میں زیادہ صحیح ہے اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15646]
فرماتے ہیں: میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس آیا، میں نے ان سے ایک گھونٹ یا دو گھونٹوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اس کے بارے میں وہ نہیں کہتا جو ابن زبیر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا: کیسے؟ وہ کہتے ہیں: فرمایا: وہ دونوں کہتے ہیں: ایک بار چوسنا اور دو چوسنے حرام نہیں کرتے اور نہ ہی دس گھونٹوں سے کم حرام کرتی ہیں اور اس کو عبدالعزیز بن محمد نے ابراہیم بن عقبہ سے روایت کیا ہے اور اس کو زہری نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذہب میں زیادہ صحیح ہے اور عروہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کے نظریے میں زیادہ صحیح ہے اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15646]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3188. -- باب: رضاع الكبير
-- باب: بڑی عمر کے شخص کو دودھ پلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15647
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ قَالَ:" أَرْضِعِيهِ" قَالَتْ: وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟ فَضَحِكَ وَقَالَ:" أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟" قَالَتْ: فَأَتَتْهُ بَعْدُ وَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ شَيْئًا أَكْرَهُهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہل بن عمرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئیں، انہوں نے کہا: میں ابو حذیفہ کے چہرے میں دیکھتی ہوں سالم کے مجھ پر داخل ہونے کی وجہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کو دودھ پلا دے۔“ انہوں نے کہا: وہ بڑا آدمی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”کیا میں نہیں جانتا، وہ بڑا آدمی ہے۔“ فرماتی ہیں: وہ بعد میں بھی آئی اور وہ فرماتی ہیں: میں نے ابو حذیفہ کے چہرے میں اس کے بعد نہیں دیکھا کہ وہ اس کو ناپسند کرتے ہوں۔ اس کو مسلم نے عمرو ناقد اور ابن ابی عمر سے، ابن عیینہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15647]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15648
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا ابْنُ مِلْحَانَ وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ ⦗٧٥٦⦘ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ فِي ذَلِكَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: ٥] فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْعَامِرِيِّ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا وَكَانَ يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ وَيَرَانِي فَضْلًا وَقَدْ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا عَلِمْتَ فَكَيْفَ تَرَى فِيهِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْضِعِيهِ" فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلُ عَلَيْهَا خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَدْخُلُ عَلَيْهَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ مِنَ النَّاسِ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ حَتَّى يُرْضِعْنَ فِي الْمَهْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَاللهِ مَا نَرَى لَعَلَّهَا رُخْصَةٌ لِسَالِمٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ النَّاسِ.
ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدالشمس رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں [شریک ہوئے] ، انہوں نے سالم کو اپنا بیٹا بنایا اور انہوں نے اپنے بھائی کی بیٹی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے اس کی شادی کر دی اور وہ انصار کی ایک عورت کا غلام تھا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا، اور جاہلیت میں یہ قاعدہ تھا کہ جس شخص کو کوئی اپنا منہ بولا بیٹا بناتا، لوگ اسے اسی کا بیٹا کہتے اور وہ اس کی وراثت کا وارث بھی بنتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ”تم ان کو ان کے باپ کے نام سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔“ پس تم ان کو ان کے باپوں کی طرف لوٹا دو، اور جو اپنے باپ کو نہ جانتا ہو وہ دوست ہے یا دینی بھائی ہے۔ سہلہ بنت سہیل بن عمرو قریشی عامری جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سالم کو اپنا بیٹا ہی خیال کرتے تھے اور وہ میرے اور ابو حذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے اور وہ مجھے [ایسی حالت میں] دیکھ لیتا ہے [جو ایک نامحرم کے لیے درست نہیں] اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں جو حکم نازل فرمایا ہے وہ آپ جانتے ہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَرْضِعِيهِ» ”تو اس کو دودھ پلا دے۔“ چنانچہ انہوں نے اسے پانچ بار دودھ پلایا تو وہ ان کے رضاعی بیٹے کی جگہ ہو گیا۔ اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کی بیٹیوں کو حکم دیتی تھیں کہ وہ اس شخص کو پانچ بار دودھ پلائیں جس کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتیں کہ وہ ان کے پاس آئے اور انہیں دیکھے، پھر وہ ان کے پاس آ سکتا تھا، لیکن ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر تمام ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا کہ اس قسم کی رضاعت کی بنا پر کوئی ان کے پاس آئے، یہاں تک کہ وہ گود میں (بچپن میں) دودھ نہ پی چکا ہو، اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم! ہم یہی سمجھتی ہیں کہ یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سالم کے لیے ہی خاص طور پر عطا فرمائی تھی، کسی اور کے لیے نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15648]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15649
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَأْمُرُ بَنَاتِ إِخْوَتِهَا وَبَنَاتِ أَخَوَاتِهَا وَقَالَ وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَالْبَاقِي مِثْلُهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَعَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے عروہ رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے اسی کی طرح کی لمبی حدیث بیان کی مگر انہوں نے کہا: اس کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بہنوں کی بیٹیوں اور اپنے بھائیوں کی بیٹیوں کو حکم دیتی تھیں اور عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی تمام بیویوں نے انکار کیا ہے کہ اس رضاعت کی وجہ سے لوگوں میں سے کوئی ایک شخص بھی ان پر داخل ہو اور باقی اسی طرح ہے۔
اور اس کو بخاری نے یحییٰ بن بکیر اور ابو الیمان سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15649]
اور اس کو بخاری نے یحییٰ بن بکیر اور ابو الیمان سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15649]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15650
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ:" أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللهِ مَا نَرَى هَذِهِ إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا" ⦗٧٥٧⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، هَكَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ وَإِذَا كَانَ هَذَا لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَالْخَاصُّ لَا يَكُونُ إِلَّا مُخْرِجًا مِنْ حُكْمِ الْعَامَّةِ وَلَا يَجُوزُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَضَاعُ الْكَبِيرِ لَا يُحَرِّمُ.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ نے خبر دی کہ ان کی والدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ ان کی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ) فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں نے انکار کیا ہے کہ ان پر کوئی ایک رضاعت کے سبب داخل ہو اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم سمجھتی ہیں یہ رخصت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص سالم کو دی تھی۔ وہ کون ہوتا ہے جو ہمارے اوپر اس رضاعت کے ساتھ داخل ہو اور نہ ہی کوئی ہمیں دیکھے۔“ اس کو مسلم نے اسی طرح اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب یہ سالم کے لیے خاص ہے تو خاص بھی عام کے حکم سے نکالا ہوتا ہے اور جائز نہیں مگر یہ کہ کبیر کی رضاعت تو حرام نہ کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15650]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب یہ سالم کے لیے خاص ہے تو خاص بھی عام کے حکم سے نکالا ہوتا ہے اور جائز نہیں مگر یہ کہ کبیر کی رضاعت تو حرام نہ کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15650]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15651
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَا: نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ التَّمَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ مَنْ هَذَا؟" فَقُلْتُ: أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ سُفْيَانَ.
مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے اور میرے پاس ایک آدمی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو دیکھ لے جو تمہارے رضاعی بھائی ہیں، «إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ» ”رضاعت تو بھوک کو ختم کرنے سے ہوتی ہے۔““ اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن کثیر رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور امام مسلم رحمہ اللہ نے دوسری دو سندوں سے سفیان رحمہ اللہ سے صحیح میں اس کو نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15651]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15652
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالُوا: أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ فَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوا مَنْ تُرَاضِعُونَ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ" وَقَالَ: فَقَالَ بِشْرٌ فِي حَدِيثِهِ:" انْظُرُوا مَا إِخْوَانُكُمْ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
اشعث بن ابو شعثاء اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے مسروق کو کہتے ہوئے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرما رہی تھیں: مجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے اور میرے پاس ایک شخص تھا اور میں نے ناپسندیدگی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دیکھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بیشک یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دیکھو جس نے تم کو دودھ پلایا ہے، «إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ» ”رضاعت تو بھوک کو ختم کرنے سے ثابت ہوتی ہے۔““ اور کہتے ہیں: بشر نے اپنی حدیث میں کہا: ”تم دیکھو کیا وہ تمہارے بھائی ہیں۔“ اس کو بخاری اور مسلم نے شعبہ کی حدیث سے اپنی صحیح میں نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15652]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15653
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، نا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، نا أَبُو مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَهُ امْرَأَتُهُ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتْ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ لَا يَمُصُّ فَأَخَذَ زَوْجُهَا يَمُصُّ لَبَنَهَا وَيَمُجُّهُ حَتَّى وَجَدَ طَعْمَ لَبَنِهَا فِي حَلْقِهِ فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ" حُرِّمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ"، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تُفْتِي هَذَا بِكَذَا وَكَذَا وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا شَدَّ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کے ساتھ اس کی بیوی بھی تھی اور وہ سفر میں تھا۔ اس نے بچے کو جنم دیا۔ بچہ دودھ نہیں چوس سکتا تھا۔ اس کے خاوند نے اسے پکڑا، وہ اس کے دودھ کو چوستا تھا اور وہ اس کو پھینکتا تھا حتیٰ کہ اس نے اس کے دودھ کے ذائقے کو اپنے حلق میں محسوس کیا۔ وہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے اس سے اس معاملے کا ذکر کیا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھ پر تیری بیوی حرام ہوگئی ہے۔ وہ شخص سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ہے جس نے اس طرح اور اس طرح فتویٰ دیا، حالانکہ تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت نہیں ہے مگر جو ہڈیوں کو مضبوط کرے اور گوشت کو بڑھائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15653]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15654
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا شَدَّ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ" فَقَالَ أَبُو مُوسَى لَا تَسْأَلُونَا وَهَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”رضاعت نہیں ہے مگر جو ہڈیوں کو مضبوط کرے اور گوشت کو بڑھائے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم مجھ سے سوال نہ کرو جب یہ عالم تمہارے اندر ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15654]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح