السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3188. -- باب: رضاع الكبير
-- باب: بڑی عمر کے شخص کو دودھ پلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15655
قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، نا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلَالِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: أَنْشَزَ الْعَظْمَ.
ابو موسیٰ ہلالی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی نقل فرماتے ہیں اور وہ کہتے ہیں: ”جو ہڈیوں کو بڑھائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15655]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15656
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، نا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَرِمَ ثَدْيُهَا فَمَصَصْتُهُ فَدَخَلَ حَلْقِي شَيْءٌ سَبَقَنِي فَشَدَّدَ عَلَيْهِ أَبُو مُوسَى فَأَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: سَأَلْتَ أَحَدًا غَيْرِي؟ قَالَ: نَعَمْ أَبَا مُوسَى فَشَدَّدَ عَلَيَّ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَقَالَ:" أَرَضِيعٌ هَذَا؟" فَقَالَ أَبُو مُوسَى:" لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ أَوْ قَالَ: بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ" وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، وَزَادَ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ: إِنَّمَا الرَّضَاعُ مَا أَنَبْتَ اللَّحْمَ وَالدَّمَ.
ابو عطیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف ایک شخص آیا، اس نے کہا: میری بیوی کے پستانوں پر ورم آگیا، میں نے اس کو چوسا تو میرے حلق میں کوئی چیز داخل ہوگئی اور وہ مجھ سے سبقت لے گئی۔ اس پر سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سختی کی، پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے کہا: ”کیا تو نے میرے علاوہ کسی اور سے بھی سوال کیا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے مجھ پر سختی کی ہے۔ وہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”کیا یہ دودھ پینے والا ہے؟“ (یعنی رضاعی ہے) سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم مجھ سے نہ سوال کرو جب تک یہ عالم تمہارے درمیان موجود ہے یا تم میں جب تک یہ ہے۔“ اس کو ثوری نے ابو حصین سے روایت کیا ہے اور اس میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں: ”رضاعت وہ ہے جو گوشت اور خون کو بڑھائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15656]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15657
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، وَمَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا رَضَاعَ بَعْدَ فِصَالٍ" هَذَا مَوْقُوفٌ وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا.
نزال بن سبرہ اور مسروق بن اجدع سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دودھ چھڑوانے کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہے۔“
یہ حدیث موقوف ہے اور یہ مرفوع بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15657]
یہ حدیث موقوف ہے اور یہ مرفوع بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15657]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15658
أَخْبَرَنَاه عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، نا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ وَلَا عِتْقَ قَبْلَ مِلْكٍ وَلَا رَضَاعَ بَعْدَ فِصَالٍ وَلَا وِصَالَ فِي الصِّيَامِ وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ" قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ سُفْيَانُ لِمَعْمَرٍ: إِنَّ جُوَيْبِرًا حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ مَعْمَرٌ: وَحَدَّثَنَا بِهِ مِرَارًا وَرَفَعَهُ.
نزال بن سبرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلاق نکاح کے بعد ہے، اور مالک بننے سے پہلے آزادی نہیں ہے، اور دودھ چھڑوانے کے بعد رضاعت نہیں ہے، اور روزوں میں وصال نہیں ہے۔ یعنی نفلی روزے مسلسل بغیر انقطاع کے رکھنا اور دن بھر رات تک خاموش رہنا (جائز) نہیں ہے۔“
عبدالرزاق کہتے ہیں: سفیان نے معمر سے کہا: جویبر نے ہمیں اسی کے مثل حدیث بیان کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کیا۔ معمر کہتے ہیں: اور انہوں نے ہمیں یہ حدیث کئی مرتبہ بیان کی اور اس کو مرفوع بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15658]
عبدالرزاق کہتے ہیں: سفیان نے معمر سے کہا: جویبر نے ہمیں اسی کے مثل حدیث بیان کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کیا۔ معمر کہتے ہیں: اور انہوں نے ہمیں یہ حدیث کئی مرتبہ بیان کی اور اس کو مرفوع بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15658]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15659
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَأَنَا مَعَهُ عِنْدَ دَارِ الْقَضَاءِ يَسْأَلُهُ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: كَانَتْ لِي وَلِيدَةٌ وَكُنْتُ أَطَؤُهَا فَعَمَدَتِ امْرَأَتِي إِلَيْهَا فَأَرْضَعَتْهَا، فَدَخَلَتْ عليها فَقَالَتْ: دُونَكَ فَقَدْ وَاللهِ أَرْضَعْتُهَا، فَقَالَ عُمَرُ:" أَوْجِعْهَا وَائْتِ جَارِيَتَكَ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ رَضَاعَةُ الصَّغِيرِ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف آیا اور میں ان کے ساتھ عدالت کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بڑے کی رضاعت کے متعلق سوال کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف آیا، اس نے کہا: میری لونڈی ہے اور میں اس سے جماع کرتا ہوں۔ میری بیوی نے اس کی طرف ارادہ کیا اور اس کو اس نے اپنا دودھ پلا دیا، میں اس پر داخل ہوا تو اس نے کہا: دور رہو اللہ کی قسم! میں نے اس کو دودھ پلا دیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اس کو تکلیف دے اور تو اپنی لونڈی کے پاس آ، یعنی تو اس سے جماع و صحبت کر۔ رضاعت تو چھوٹی عمر میں ثابت ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15659]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15660
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: عَمَدَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى جَارِيَةٍ لِزَوْجِهَا فَأَرْضَعَتْهَا، فَلَمَّا جَاءَ زَوْجُهَا قَالَتْ: إِنَّ جَارِيَتَكَ هَذِهِ قَدْ صَارَتِ ابْنَتَكَ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا رَجَعْتَ فَأَصَبْتَ جَارِيَتَكَ وَأَوْجَعْتَ ظَهْرَ امْرَأَتِكَ" وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ رَضَاعَةُ الصَّغِيرِ.
سیدنا نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک عورت نے اپنے خاوند کی لونڈی کی طرف ارادہ کیا اور اس کو دودھ پلا دیا۔ جب اس کا خاوند آیا تو اس نے کہا: تیری یہ لونڈی تیری بیٹی بن چکی ہے۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف چلے اور انہوں نے یہ معاملہ ان سے ذکر کیا۔ ان سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تیرے اوپر ارادہ کیا ہے کہ جب تو لوٹے تو اپنی لونڈی سے صحبت کر اور تو اپنی بیوی کی پشت کو تکلیف دے۔
عبداللہ بن دینار کی روایت میں ہے کہ رضاعت چھوٹے کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15660]
عبداللہ بن دینار کی روایت میں ہے کہ رضاعت چھوٹے کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15660]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15661
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ عَفَّانَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا مَا كَانَ فِي الصِّغَرِ".
نافع سے روایت ہے، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ”رضاعت سے حرام نہیں ہوتی مگر جو چھوٹی عمر میں ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15661]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15662
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا رَضَاعَ إِلَّا لِمَنْ أَرْضَعَ فِي الصِّغَرِ".
ہمیں مالک نے خبر دی، وہ نافع سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ: ”رضاعت اس کے لیے ہے جو چھوٹی عمر میں دودھ پیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15662]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3189. -- باب: ما جاء في تحديد ذلك بالحولين
-- باب: رضاعت کی مدت دو سال مقرر ہونے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15663
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ} [البقرة: 233] .
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ ”اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں، (یہ) اس کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔“ [سورة البقرة: 233] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: Q15663]
حدیث نمبر: 15663
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" لَا رَضَاعَ إِلَّا فِي الْحَوْلَيْنِ فِي الصِّغَرِ".
ہمیں سفیان نے عبداللہ بن دینار سے حدیث بیان کی، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: نہیں رضاعت مگر بچپن کے (ابتدائی) دو سالوں میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15663]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح