🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3190. -- باب: شهادة النساء في الرضاع
-- باب: رضاعت کے معاملے میں عورتوں کی گواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15674
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ نَكَحَ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي أَهَابٍ فَقَالَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ فَتَنَحَّيْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ:" كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِعْرَاضُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ لَمْ يَرَهَا شَهَادَةً تُلْزِمُهُ وَقَوْلُهُ:" كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا" يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ كَرِهَ لَهُ أَنْ يُقِيمَ مَعَهَا وَقَدْ قِيلَ لَهُ إِنَّهَا أُخْتُهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَهَذَا مَعْنَى مَا قُلْنَا مِنْ أَنْ يَتْرُكَهَا وَرَعًا لَا حُكْمًا.
ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے خبر دی کہ عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے ام یحییٰ بنت ابو اہاب سے نکاح کیا۔ ایک سیاہ لونڈی آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض فرمایا۔ میں دوسری طرف سے آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ کیسے ممکن ہے جبکہ اس کا گمان ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعراض فرمانا اس بات کے مناسب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گواہی کو ایسا نہیں سمجھتے تھے جو اس (نکاح کے فسخ) کو لازم کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول: ”کیسے وہ گمان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے“، یہ اس بات کے مشابہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ اس کے قیام کو ناپسند کر رہے تھے اور اس کو کہا گیا کہ وہ تیری رضاعی بہن ہے؛ اور اس کا معنی جو ہم نے کہا کہ وہ اس کو چھوڑ دے «وَرَعًا» ”بطورِ تقویٰ“ ہے، یعنی تقویٰ یہ ہے، حکماً نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15674]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15675
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، نا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلًا وَامْرَأَتَهُ أَتَيَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنِّي أَرْضَعْتُكُمَا فَأَبَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِهَا فَقَالَ:" دُونَكَ امْرَأَتَكَ" هَذَا مُرْسَلٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اور اس کی بیوی دونوں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ایک عورت آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے قول کو قبول کرنے سے انکار کیا اور فرمایا: تیری عورت تیرے لیے ہے۔
یہ مرسل ہے اور دوسری سند سے روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15675]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15676
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَالْحَجَّاجُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، ⦗٧٦٣⦘ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ شَهِدَتْ عَلَى رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا فَقَالَ:" لَا حَتَّى يَشْهَدَ رَجُلَانِ أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ" أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ، أَنَا الشَّافِعِيُّ، أَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: لَا تَجُوزُ مِنَ النِّسَاءِ أَقَلُّ مِنْ أَرْبَعٍ.
عکرمہ بن خالد مخزومی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس نے ایک شخص اور اس کی بیوی کے خلاف گواہی دی کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دو آدمی یا ایک آدمی اور دو عورتیں گواہی دیں۔ ہم کو ابو سعید بن ابی عمرو نے خبر دی کہ ہمیں ربیع نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی، ہمیں مسلم نے ابن جریج سے خبر دی، وہ عطاء سے بیان کرتے ہیں کہ چار سے کم عورتوں کی گواہی جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15676]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15677
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، نا عَفَّانُ، نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، نا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عُثَيْمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجُوزُ فِي الرَّضَاعِ مِنَ الشُّهُودِ قَالَ: فَقَالَ" رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ" فَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ مُحَمَّدُ بْنُ عُثَيْمٍ يُرْمَى بِالْكَذِبِ وَابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ضَعِيفٌ وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي مَتْنِهِ فَقِيلَ هَكَذَا وَقِيلَ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ وَقِيلَ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: رضاعت کے بارے میں کن کی گواہی جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی یا ایک عورت کی گواہی۔“ یہ ضعیف اسناد ہیں، اس کی طرح کی اسناد کو حجت نہیں بنایا جا سکتا۔ محمد بن عثیم کو جھوٹ کی تہمت لگائی گئی ہے اور ابن بیلمانی ضعیف ہے اور اس پر متن میں اختلاف کیا گیا ہے، اسی طرح ہے اور کہا گیا ہے کہ ایک آدمی اور عورت اور کہا گیا ہے: ایک آدمی اور دو عورتیں، اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15677]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3191. -- باب: الرضخ عند الفصال
-- باب: دودھ چھڑانے کے وقت کچھ عطیہ یا تحفہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15678
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْغُرَّةُ الْعَبْدُ وَالْأَمَةُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا:" الْعَبْدُ أَوِ الْأَمَةُ" وَقِيلَ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِيهِ، وَالصَّوَابُ الْحَجَّاجُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.
حجاج بن حجاج اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہے جو مجھ سے رضاعت کی مذمت کو دور کرے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید غلام یا سفید لونڈی۔“ اس کو اسی طرح ابو معاویہ رحمہ اللہ اور عبداللہ بن ادریس رحمہ اللہ نے ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، مگر وہ دونوں کہتے ہیں: غلام یا لونڈی۔ کہا گیا کہ عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ حجاج بن حجاج بن مالک رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، اور کہا گیا کہ عروہ رحمہ اللہ سے وہ حجاج بن ابو حجاج سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، اور درست حجاج بن حجاج «عَنْ أَبِيهِ» ”اپنے والد سے“ ہے، اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15678]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3192. -- باب: ما ورد في اللبن يشبه عليه
-- باب: اس دودھ کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان جس کے متعلق شبہ لاحق ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15679
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ⦗٧٦٤⦘ أنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، نا سُفْيَان ُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَتْوَارَةَ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَنْتَ فَقُلْتُ: لَا وَلَكِنَّهُمْ أَرْضَعُونِي، فَقَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّبَنَ يُشْبِهُ عَلَيْهِ".
عمر بن حبیب نے مجھے بنی عتوارہ کے ایک آدمی سے حدیث بیان کی اور کبھی سفیان نے کہا: مجھے بنی کنانہ کے آدمی سے روایت بیان کی کہ کیا تو بنی فلاں سے ہے؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن مجھے انہوں نے دودھ پلایا ہے۔ فرمایا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ «إِنَّ الرَّضَاعَ يُشْبِهُ عَلَيْهِ» ”دودھ اس پر تشبیہ ڈالتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15679]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15680
قَالَ: وَثَنَا عَلِيٌّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" اللَّبَنُ يُشْبِهُ عَلَيْهِ" وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنِ الثَّوْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ: أَهُمْ وَلَدُكَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ الرَّضَاعَ يُشْبِهُ عَلَيْهِ.
شعیب بن خالد خثعمی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ دودھ اس پر تشبیہ ڈالتا ہے۔
اس کو عبداللہ بن ولید عدنی نے ثوری سے اس اسناد کے ساتھ روایت کیا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، انہوں نے فرمایا: کیا وہ تیری اولاد ہے؟ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رضاعت اس پر تشبیہ ڈالتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15680]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15681
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، نا بِشْرٌ، نا أَبُو جَعْفَرٍ الْحَذَّاءُ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ:" اللَّبَنُ يُشْبِهُ عَلَيْهِ" وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ.
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دودھ اس پر تشبیہ ڈالتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15681]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15682
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، نا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، نا إِسْحَاقُ بْنُ بِنْتِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ مِنْ خَبَرِ رِجَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمَكِّيِّ، عَنْ زِيَادٍ السَّهْمِيِّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسْتَرْضَعَ الْحَمْقَاءُ فَإِنَّ اللَّبَنَ يُشْبِهُ" هَذَا مُرْسَلٌ.
زیاد سہمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”احمق عورتوں سے دودھ پلوانے سے منع کیا، بے شک دودھ تشبیہ ڈالتا ہے۔“ یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15682]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3193. -- باب: ما جاء في الغيلة
-- باب: غیلہ (ایامِ رضاعت میں صحبت کرنے یا حالتِ حمل میں دودھ پلانے) کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15683
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَبُو تَوْبَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ فَرَسِهِ".
سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم اپنی اولادوں کو مخفی انداز میں قتل نہ کرو، کیونکہ «الْغَيْلَةُ» ”غیلہ“ (دورانِ حمل دودھ پلانا) شہسوار کو پا لیتا ہے اور وہ اسے گھوڑے سے گرا دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15683]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں