🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3189. -- باب: ما جاء في تحديد ذلك بالحولين
-- باب: رضاعت کی مدت دو سال مقرر ہونے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15664
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ:" مَا أُرَاهَا إِلَّا تُحَرِّمُ" فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَبْصِرْ مَا تُفْتِي بِهِ الرَّجُلَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَمَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا رَضَاعَةَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ"، فَقَالَ أَبُو مُوسَى:" لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا كَانَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ" هَذَا وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا فَلَهُ شَوَاهِدُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کبیر کی رضاعت کے بارے میں کہا: میں اس کو نہیں سمجھتا مگر وہ حرام ہو چکی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھ لو تم اس آدمی کو کیا فتویٰ دے رہے ہو۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ کیا کہتے ہیں؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رضاعت وہی ہے جو دو سالوں میں ہو۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھ سے سوال نہ کرو جب تک یہ عالم تمہارے درمیان ہے۔
یہ اگرچہ مرسل ہے، لیکن اس کے لیے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے شواہد موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15664]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15665
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ مَا أَنْشَزَ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلًا فِي الْحَوْلَيْنِ.
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”رضاعت ان کی ہے جو دو سالوں کے درمیان ہو اور جو گوشت کو بڑھائے اور ہڈیوں کو مضبوط کرے۔“ اسی کے ہم معنی اس کو یحییٰ بن سعید نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دو سالوں کے بارے میں مرسل روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15665]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15666
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: كَانَ يَقُولُ:" لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”مکمل دو سالوں کے بعد رضاعت نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15666]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15667
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّهُ يُحَرِّمُ وَإِنْ كَانَ مَصَّةً وَإِنْ كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ".
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جو دو سالوں کے درمیان ہے وہ حرمت کو ثابت کرتا ہے، اگرچہ ایک گھونٹ ہو اور اگر دو سالوں کے بعد ہو تو وہ کوئی چیز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15667]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15668
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أبو الْفَضْلُ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
عمرو بن دینار، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رضاعت صرف دو سالوں میں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15668]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15669
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلَ، يَقُولُ: أنا أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، نا ⦗٧٦١⦘ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا يُعْرَفُ بِالْهَيْثَمِ بْنِ جَمِيلٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ مُسْنَدٌ، أَوْ غَيْرُ الْهَيْثَمِ بِوَقْفٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرُوِّينَا هَذَا التَّحْدِيدُ بِالْحَوْلَيْنِ مِنَ التَّابِعِينَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَالشَّعْبِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت نہیں حرام کرتی مگر جو دو سالوں کے درمیان ہو۔“
ابو احمد کہتے ہیں: ہیثم بن جمیل سے یہ معروف ہے، وہ ابن عیینہ سے سنداً روایت کرتے ہیں اور ہیثم کے علاوہ ابن عباس رضی اللہ عنہما پر یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15669]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15670
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ لَتِسْعَةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ أَحَدٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا، وَإِذَا وَضَعَتْ لَسَبْعَةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا، وَإِذَا وَضَعَتْ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ہمیں داؤد بن ابی ہند نے عکرمہ سے حدیث بیان کی، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب عورت نو ماہ کے بچے کو جنم دے تو اسے اکیس ماہ دودھ پلائے اور اگر سات ماہ کے بچے کو جنم دے تو اسے تئیس (23) ماہ دودھ پلائے اور جب وہ چھ (6) ماہ کے بچے کو جنم دے تو اسے چوبیس (24) ماہ دودھ پلائے، جس طرح اللہ نے فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15670]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3190. -- باب: شهادة النساء في الرضاع
-- باب: رضاعت کے معاملے میں عورتوں کی گواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15671
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ جَاءَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا يَعْنِي عُقْبَةَ وَامْرَأَتَهُ قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ عورت آئی، اس نے گمان کیا کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے، یعنی عقبہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کو۔ فرماتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: «وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟» ”اور کیسے جب کہ کہا جا چکا۔“
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن کثیر سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15671]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15672
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، نا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَابْنُ مَنِيعٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَيَعْقُوبُ، وَدلَّوَيْهِ قَالُوا: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَجِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ فَقَالَ:" وَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ" ⦗٧٦٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
عبید بن ابی مریم، عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں (ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: میں نے اسے عقبہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنا ہے لیکن مجھے عبید کی حدیث زیادہ یاد ہے) کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی، ہمارے پاس ایک سیاہ عورت آئی، اس نے کہا: ”میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔“ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: ”میں نے فلاں کی بیٹی فلاں سے شادی کی، ہمارے پاس ایک سیاہ عورت آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اور وہ جھوٹی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض فرمایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے چہرے کی طرف سے آیا اور میں نے کہا: ”وہ جھوٹی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ اس کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟ تو اس بیوی کو چھوڑ دے۔“
اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں علی بن عبداللہ اور اسماعیل سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15672]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15673
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، نا أَبُو قِلَابَةَ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي أَهَابٍ فَجَاءَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءٌ فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَتَنَحَّيْتُ ثُمَّ ذَكَرْتُهُ لَهُ فَقَالَ:" كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا" فَنَهَاهُ عَنْهَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ يَحْيَى هَكَذَا مُدْرَجًا.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی یا میں نے ان سے سنا کہ انہوں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ ایک سیاہ لونڈی آئی، اس نے کہا: ”میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔“ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض فرمایا۔ میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے) دوسری طرف سے آیا اور اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کیسے ہو سکتا ہے جبکہ وہ گمان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روک دیا۔
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ابو عاصم اور علی بن عبداللہ سے، یحییٰ سے اسی طرح صحیح میں مدرج روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرضاع/حدیث: 15673]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں