سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: وُجُوبِ الصِّيَامِ
باب: روزے کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2092
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا" , قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ، قَالَ:" صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا" , قَالَ: أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ".
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پراگندہ بال آیا، (اور) اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”پانچ (وقت کی) نمازیں، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفل پڑھنا چاہو“، پھر اس نے کہا: مجھے بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے روزے، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفلی (روزے) رکھنا چاہو“، (پھر) اس نے پوچھا: مجھے بتلائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے احکام بتائے، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی تکریم کی ہے، میں کوئی نفل نہیں کروں اور نہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے اس میں کوئی کمی کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہو گیا“، یا کہا: ”اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہو گیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2092]
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بکھرے بالوں والا اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”پانچ نمازیں الا یہ کہ تو خوشی سے مزید پڑھے۔“ اس نے کہا: مجھے بتائیے، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر روزے کتنے فرض کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے روزے، مگر یہ کہ تو خوشی سے زائد رکھے۔“ اس نے کہا: مجھے بتائیے، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام (اور زکاۃ) کے (تفصیلی) احکام بتائے۔ وہ کہنے لگا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو عزت بخشی! میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض سے نہ زائد کچھ کروں گا اور نہ ان میں کمی کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اپنی بات پر پکا رہا تو کامیاب ہو جائے گا یا جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 459 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2093
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ الْعَاقِلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتَانَا رَسُولُكَ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ" اللَّهُ"، قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ؟ قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ؟ قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ، وَنَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةَ أَمْوَالِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي كُلِّ سَنَةٍ، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدَنَّ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے، چنانچہ ایک دیہاتی آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے پوچھا: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ (پھر) اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ نے“ (پھر) اس نے پوچھا: اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ (پھر) اس نے پوچھا: اس میں نفع بخش (چیزیں) کس نے بنائیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ (پھر) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور اس میں نفع بخش (چیزیں) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، پھر اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان (نمازوں) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں، (پھر) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، (پھر) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، (پھر) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، آپ نے کہا: ”اس نے سچ کہا“ (پھر) اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان (دنوں کے روزوں) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، (پھر) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا: میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2093]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں قرآن مجید میں اس بات سے روک دیا گیا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوالات کریں، تو ہماری یہ خواہش ہوتی تھی کہ بدوی لوگوں میں سے کوئی سمجھ دار شخص آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرے۔ اتفاقاً (ایک دن) ایک بدوی آیا اور کہنے لگا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اس (بدوی) نے کہا: تو آسمانوں کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: زمین کو کس نے بنایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: زمین میں پہاڑ کس نے نصب کیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: زمین میں منافع کس نے نصب کیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: زمین میں منافع کس نے رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان وزمین پیدا کیے اور زمین میں پہاڑ نصب کیے اور دوسرے منافع رکھے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو (رسول بنا کر) بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر ایک دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنایا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر ہمارے مالوں کی زکاۃ بھی واجب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنایا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنایا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ جس شخص کو بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت ہو اس پر حج بھی فرض ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنایا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: تو پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ کو برحق نبی بنایا! میں نہ ان پر اضافہ کروں گا اور نہ ان میں کمی کروں گا۔ جب وہ واپس مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر یہ اپنی بات پر پکا رہا تو لازماً جنت میں داخل ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 6 (63) تعلیقاً، صحیح مسلم/الإیمان 3 (12)، سنن الترمذی/الزکاة 2 (619)، (تحفة الأشراف: 404)، مسند احمد 3/143، 193، سنن الدارمی/الطھارة 1 (676) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2094
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ:" بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ , فَقَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، قُلْنَا لَهُ: هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَبْتُكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي سَائِلُكَ يَا مُحَمَّدُ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ، قَالَ:" سَلْ مَا بَدَا لَكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ، وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، خَالَفَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر آیا، اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، (اور) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ تو ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں، جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں، آپ کو پکار کر اس شخص نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہاری بات سن لی“ (کہو کیا کہنا چاہتے ہو) اس نے کہا: محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں، (اور ذرا) سختی سے پوچھوں گا تو آپ دل میں کچھ محسوس نہ کریں، آپ نے فرمایا: ”پوچھو جو چاہتے ہو“، تو اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے (جو گزر چکے ہیں) ان کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! (میری بات پر گواہ رہنا) ہاں“، (پھر) اس نے کہا: میں اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن اور رات میں پانچ (وقت کی) نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں“، (پھر) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں،“ (پھر) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالداروں سے زکاۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں“، تب (اس) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی (شریعت) پر ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہیں قاصد ہوں، اور میں قبیلہ بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ یعقوب بن ابراہیم نے حماد بن عیسیٰ کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2094]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اونٹ کو مسجد میں بٹھا دیا، پھر اس کا گھٹنا باندھ دیا اور کہنے لگا: تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے، ہم نے کہا: یہ سفید چہرے والے شخص جو ٹیک لگا کر بیٹھے ہیں۔ تو وہ شخص (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر) کہنے لگا: اے ابن عبدالمطلب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قَدْ أَجَبْتُكَ» ”بات کر میں تجھے جواب دوں گا (یعنی میں تیری باتیں سن رہا ہوں)۔“ اس آدمی نے کہا: اے محمد! میں آپ سے کچھ باتیں پوچھنے لگا ہوں اور میں سخت الفاظ میں پوچھوں گا تو آپ ناراضی محسوس نہ فرمائیے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ» ”جو دل چاہے پوچھ۔“ اس نے کہا: میں آپ سے آپ کے اور پہلے تمام لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنایا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم دن، رات میں پانچ نمازیں پڑھا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس نے کہا: تو میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال میں سے اس مہینے (رمضان المبارک) کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مال دار لوگوں سے زکاۃ لے کر ہمارے غریب لوگوں میں بانٹ دیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس آدمی نے کہا: میں ان تمام چیزوں پر ایمان لاتا ہوں جو آپ لائے ہیں اور میں اپنی قوم کی طرف سے قاصد و نمائندہ ہوں، میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور میں قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں، یعقوب بن ابراہیم نے عیسیٰ بن حماد کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 6 (63)، سنن ابی داود/الصلاة 23 (486)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 194 (1402)، (تحفة الأشراف: 907)، مسند احمد 3/167، 168 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ مخالفت اس طرح ہے کہ انہوں نے لیث اور سعید کے درمیان ابن عجلان کا واسطہ بڑھایا ہے، ان کی روایت آگے آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2095
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ وَغَيْرُهُ مِنْ إِخْوَانِنَا، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ:" بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ , ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَهُوَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ , فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَبْتُكَ"، قَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، قَالَ:" سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ"، قَالَ: أَنْشُدُكَ بِرَبِّكَ، وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، خَالَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھا کر باندھا (اور) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، تو (اس) شخص نے (پکار کر) آپ سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہاری بات سن لی“، (کہو کیا کہنا چاہتے ہو) تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں (اور ذرا) سختی سے پوچھوں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پوچھو جو تم پوچھنا چاہتے ہو“، تو اس آدمی نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے (جو گزر چکے ہیں) کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں“، پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! (گواہ رہنا!) ہاں“، (پھر) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں سے یہ صدقہ لو اور اسے ہمارے غریبوں میں تقسیم کرو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں“، تب (اس) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی (شریعت) پہ ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہے قاصد ہوں، اور میں بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ عبیداللہ بن عمر نے ابن عجلان کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2095]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھا دیا، پھر اس کا گھٹنا باندھا، پھر کہنے لگا: تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہے؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ تو ہم نے اس سے کہا: یہ روشن چہرے والے شخص جو ٹیک لگا کر بیٹھے ہیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: اے ابن عبدالمطلب! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے جواب دیا ہے۔“ (میں تیری بات سن رہا ہوں۔) اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں اور وہ سوالات میں سخت الفاظ میں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جی چاہے پوچھ۔“ اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے رسول بنایا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ سال کے اس مہینے کے روزے رکھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مال دار لوگوں سے زکاۃ لے کر ہمارے غریب لوگوں میں بانٹ دیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ وہ آدمی کہنے لگا: میں ان احکام پر ایمان لاتا ہوں جو آپ لائے ہیں، اور میں اپنی قوم کا قاصد و نمائندہ ہوں، اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے، میں قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔ عبیداللہ بن عمر نے لیث بن سعد کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ مخالفت اس طرح ہے کہ انہوں نے اسے «عن سعید بن ابی سعید المقبری عن ابی ہریرۃ» کے طریق سے روایت کیا ہے، اور ابن عجلان نے اسے «عن سعید عن شریک عن انس» کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ مخالفت ضرر رساں نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ سعید نے دونوں سے سنا ہو تو انہوں نے کبھی اس طرح طریق سے روایت کیا ہو، اور کبھی اس طریق سے (عبیداللہ کی روایت آگے آ رہی ہے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2096
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَارَةَ حَمْزَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ، جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ , قَالَ: أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ قَالُوا: هَذَا الْأَمْغَرُ الْمُرْتَفِقُ، قَالَ حَمْزَةُ: الْأَمْغَرُ الْأَبْيَضُ مُشْرَبٌ حُمْرَةً، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، قَالَ:" سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ"، قَالَ: أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ، وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، وَرَبِّ مَنْ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِنَا، فَتَرُدَّهُ عَلَى فُقَرَائِنَا؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ يَحُجَّ هَذَا الْبَيْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنِّي آمَنْتُ وَصَدَّقْتُ، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تھے کہ اسی دوران دیہاتیوں میں ایک شخص آیا، اور اس نے پوچھا: تم میں عبدالمطلب کے بیٹے کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ گورے رنگ والے جو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں (حمزہ کہتے ہیں: «الأمغر» سرخی مائل کو کہتے ہیں) تو اس شخص نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنے ولا ہوں، اور پوچھنے میں آپ سے سختی کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”پوچھو جو چاہو“، اس نے کہا: میں آپ سے آپ کے رب کا اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کا اور آپ کے بعد کے لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں“، اس نے کہا: تو میں اسی کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھیں؟ آپ نے کہا: ”اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں“، اس نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں کے مالوں میں سے (زکاۃ) لیں، پھر اسے ہمارے فقیروں کو لوٹا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں“، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے بارہ مہینوں میں سے اس مہینہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں“، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں کیا اللہ تعالیٰ نے آپ حکم دیا ہے کہ جو اس خانہ کعبہ تک پہنچنے کی طاقت رکھے وہ اس کا حج کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ گواہ رہنا ہاں“، تب اس شخص نے کہا: میں ایمان لایا اور میں نے تصدیق کی، میں ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2096]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے کہ ایک بدوی شخص آیا اور کہنے لگا: تم میں ابن عبدالمطلب کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ سرخ و سفید (گورے) چہرے والے جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ تو اس نے (آپ سے مخاطب ہو کر) کہا کہ میں آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں اور میں یہ سوالات سخت الفاظ میں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جی چاہتا ہے پوچھ۔“ اس نے کہا: میں آپ سے آپ کے اور آپ سے پہلے اور بعد والے لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہر دن، رات میں پانچ نمازیں پڑھا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس نے کہا: میں آپ کو اسی ذات کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہمارے مال دار لوگوں سے زکاۃ لے کر غریب لوگوں میں تقسیم کر دیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس نے کہا: میں آپ کو اسی ذات کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ بارہ مہینوں میں سے اس مہینے (رمضان المبارک) کے روزے رکھا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ جو شخص بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو، وہ اس کا حج کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ اس نے کہا: میں ایمان لاتا ہوں اور آپ کی تصدیق کرتا ہوں اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12993) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح