سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ: قَتْلِ النَّمْلِ
باب: چیونٹیوں کو مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4363
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ، أَنْ قَدْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ، أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک چیونٹی نے نبیوں میں سے ایک نبی کو کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر کو جلا دینے کا حکم دیا اور وہ جلا دیا گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی: اگر تمہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا تھا تو (ایک ہی کو مارتے مگر) تم نے ایک ایسی امت (مخلوق) کو مار ڈالا جو (ہماری) تسبیح (پاکی بیان) کر رہی تھی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4363]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک چیونٹی نے ایک نبی کو کاٹ لیا تو انھوں نے چیونٹی کی اس پوری آبادی کو آگ لگانے کا حکم دیا، انھیں جلا دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ تجھے ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، تو نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی مخلوق کو ہلاک کر دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 153 (3019)، بدء الخلق 16 (3319)، صحیح مسلم/السلام 39 (2241)، سنن ابی داود/الأدب 176 (5266)، سنن ابن ماجہ/الصید10(3225)، (تحفة الأشراف: 15307، 13319)، مسند احمد (2/403) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نبی کی شریعت میں کاٹنے والی چیونٹی کو جلانا جائز تھا مگر اسلامی شریعت میں جلانا جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4364
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ:" نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِبَيْتِهِنَّ فَحُرِّقَ عَلَى مَا فِيهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةٌ وَاحِدَةٌ". وقَالَ الْأَشْعَثُ: عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ:" فَإِنَّهُنَّ يُسَبِّحْنَ".
حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تو انہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے ان کے گھروں کے بارے میں حکم دیا تو ان میں جو بھی تھا اسے جلا دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل کی: ”آخر تم نے صرف ایک کو کیوں نہ جلایا“۔ اشعث کہتے ہیں: ابن سیرین سے روایت ہے وہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں یہ زائد ہے ”اس لیے کہ وہ تسبیح (اللہ کی پاکی بیان) کر رہی تھیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4364]
حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ (سابقہ) انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے فروکش ہوئے۔ ایک چیونٹی نے انہیں کاٹ لیا۔ انہوں نے حکم دیا تو ان کے پورے بل کو تمام چیونٹیوں سمیت جلا دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی: ”کیوں نہ آپ نے صرف ایک چیونٹی کو مارا؟“ (آخر یہ بھی تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12257، 14404)، ویأتي عند المؤلف: 4366) (صحیح) (حدیث اور حسن بصری کا اثر دونوں صحیح ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4365
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے لیکن یہ مرفوع نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4365]
اسی قسم کی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مگر وہ مرفوع نہیں (بلکہ ان کا اپنا قول ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4363 (ضعیف الإسناد) (حسن بصری مدلس ہیں، نیز ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ان کا سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح