مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1174. حَدِيثُ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 26423
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ وَكَانَتْ سَاعَةٌ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهِ فِيهَا أَحَدٌ , أَنَّهُ كَانَ: " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُنَادِي الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، قَالَ أَيُّوبُ: أُرَاهُ قَالَ: خَفِيفَتَيْنِ.
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت کوئی نہیں آتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے اور منادی نماز کے لئے اذان دینے لگتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26423]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1173، م: 723
حدیث نمبر: 26424
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جما لیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26424]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1697، م: 1229
حدیث نمبر: 26425
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , وَعَفَّانُ , وَيُونُسُ , قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ , وَعُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ رَأَى ابْنَ صَائِدٍ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَسَبَّهُ ابْنُ عُمَرَ، وَوَقَعَ فِيهِ، فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ، فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ حَتَّى كَسَّرَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ : مَا شَأْنُكَ وَشَأْنُهُ؟ مَا يُولِعُكَ بِهِ؟ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا" , قَالَ عَفَّانُ:" عِنْدَ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا" , وَقَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ: مَا تَوَالُعُكَ بِهِ.
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے مدینہ کی کسی گلی میں ایک مرتبہ ابن صائد کو دیکھا تو اسے سخت سست کہا اور اس کے متعلق تلخ جملے کہے، جس پر وہ پھول گیا کہ راستہ بند ہوگیا حضرت ابن عمر نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا حتی کہ وہ ٹوٹ گئی حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام ہے؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکرخروج کرے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26425]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2932
حدیث نمبر: 26426
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ، فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ: نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ لَتَصْدُقُنِّي؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: أَتُحَدِّثُونِي أَنَّهُ هُوَ؟ قَالُوا: لَا، قُلْتُ: كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ، لَقَدْ حَدَّثَنِي بَعْضُكُمْ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَقَلُّكُمْ مَالًا وَوَلَدًا , أَنَّهُ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا، وَهُوَ الْيَوْمَ كَذَلِكَ، قَالَ: فَحَدَّثَنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ، ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَقَدْ تَغَيَّرَتْ عَيْنُهُ، فَقُلْتُ: مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى؟ قَالَ: لَا أَدْرِي , قُلْتُ: مَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ؟ فَقَالَ: مَا تُرِيدُ مِنِّي يَا ابْنَ عُمَرَ؟ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَخْلُقَهُ مِنْ عَصَاكَ هَذِهِ خَلَقَهُ , وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ قَطُّ، فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى تَكَسَّرَتْ، وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ , قال: فَدَخَلَ عَلَى أُخْتِهِ حَفْصَةَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: مَا تُرِيدُ مِنْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ , أَنَّهُ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا".
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں ابن صائد سے دو مرتبہ ملا ہوں پہلی مرتبہ جب میں اس سے ملا تو اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی تھے میں نے ان میں سے کسی سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اگر میں تم سے کوئی سوال کروں تو کیا مجھے اس کا صحیح جواب دو گے؟ انہوں نے کہا جی ہاں میں نے کہا کیا تم اسے وہی دجال سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا تم غلط بیانی سے کام لے رہے ہو واللہ تم میں سے کسی نے مجھے اس وقت بتایا تھا جب اس کے پاس مال و اولاد کی کمی تھی کہ یہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک مال واولاد میں تم سب سے زیادہ نہ ہوجائے اور آج ایسا ہی ہے پھر میں اس سے جدا ہوگیا۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس کی آنکھ خراب ہوگئی تھی میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری یہ آنکھ کب سے خراب ہوئی؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں میں نے کہا کہ تمہارے سر میں ہے اور تم ہی کو پتہ نہیں ہے اس نے کہا اے ابن عمر آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ اگر اللہ چاہے تو آپ کی اس لاٹھی میں بھی آنکھ پیدا کرسکتا ہے اور گدھے جیسی آواز میں اتنی زور سے چیخا کہ اس سے پہلے میں نے کبھی نہ سنا تھا، میرے ساتھی یہ سمجھے کہ میں نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا حتی کہ وہ ٹوٹ گئی حالانکہ واللہ مجھے کچھ خبر نہ تھی، حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام ہے تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آ کر خروج کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26426]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2932
حدیث نمبر: 26427
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَخْبَرْتُهَا، قَالَتْ: مَا أَرَدْتَ إِلَيْهِ؟ أَمَا عَلِمْتَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ غَضْبَةٌ يَغْضَبُهَا؟" .
حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده حسن
حدیث نمبر: 26428
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ صَائِدٍ مَرَّتَيْنِ، فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ: وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ، قَالَ: فَزَعَمَ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِي حَتَّى انْكَسَرَتْ، وَأَمَّا أَنَا، فَلَمْ أَشْعُرْ بِذَلِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُخْتِي حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ، فَقَالَتْ: وَمَا أَرَدْتَ إِلَيْهِ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ لِغَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا؟" .
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکرخروج کردے گا۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے دو مرتبہ ابن صائد کو دیکھا پھر راوی نے پوری حیث ذکر کی اور کہا حضرت حفصہ نے یہ معلوم ہونے پر ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا کام؟ تم اسے کیوں بھڑکا رہے ہو؟ کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کو کوئی شخص غصہ دلائے گا اور وہ اسی غصے میں آکر خروج کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26428]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده حسن
حدیث نمبر: 26429
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا: " سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ، وَبَدَا الصُّبْحُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ مؤذن اذان دے دیتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کھڑی ہونے سے پہلے مختصر دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26429]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
حدیث نمبر: 26430
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ يَعْنِي الْجَزَرِيَّ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا: " أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَحَرَّمَ الطَّعَامَ، وَكَانَ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت جب کہ مؤذن اذان دے دیتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26430]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 618، م: 723، إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالجبار بن محمد
حدیث نمبر: 26431
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا بَدَا الْفَجْرُ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26431]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
حدیث نمبر: 26432
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26432]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1566، م: 1229