مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1325. مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27560
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ أَبِي: وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27560]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27561
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , سَمِعَ شَهْرًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ , تَقُولُ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي نِسْوَةٍ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا , وَقَالَ:" إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ" , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ؟ قَالَ: " لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنُسَ , فَيَرْزُقَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجًا , وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا , فَتَغْضَبَ الْغَضْبَةَ , فَرَاحَتْ تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْهُ يَوْمًا خَيْرًا قَطُّ" , وَقَالَ مَرَّةً:" خَيْرًا قَطُّ" .
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا ”جن کا تعلق بنی عبدالاشہل سے ہے“ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم کچھ عورتوں کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا: ”احسان کرنے والوں کی ناشکری سے اپنے آپ کو بچاؤ“، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! احسان کرنے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے ماں باپ کے یہاں طویل عرصے تک رشتے کے انتظار میں بیٹھی رہے، پھر اللہ اسے شوہر عطاء فرما دے اور اس سے اسے مال و دولت بھی عطاء فرما دے اور وہ پھر کسی دن غصے میں آکر یوں کہہ دے کہ میں نے تو تجھ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27561]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد توبع
حدیث نمبر: 27562
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا , فَإِنَّ قَتْلَ الْغَيْلِ يُدْرِكُ الْفَارِسَ , فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ ظَهْرِ فَرَسِهِ" .
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کیا کرو، کیونکہ حالت رضاعت میں بیوی سے قربت کے نتیجے میں دودھ پینے والا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو گھوڑا اسے اپنی پشت سے گرا دیتا ہے (وہ جم کر گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27562]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال مهاجر، وقد انفرد به ، ومثله لا يحتمل تفرده، ثم إنه معارض بحديث صحيح
حدیث نمبر: 27563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ , عَنْ شَهْرٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ , فَدَنَوْتُ وَعَلَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ , فَبَصُرَ بِبَصِيصِهِمَا , فَقَالَ: " أَلْقِي السِّوَارَيْنِ يَا أَسْمَاءُ , أَمَا تَخَافِينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسِوَارٍ مِنْ نَارٍ؟" , قَالَتْ: فَأَلْقَيْتُهُمَا , فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُمَا .
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے حاضر ہوئی، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میرے ان دو کنگنوں کے اوپر پڑی جو میں نے پہنے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسماء! یہ دونوں کنگن اتار دو، کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے“، چنانچہ میں نے انہیں اتار دیا اور مجھے یاد نہیں کہ انہیں کس نے لے لیا تھا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27563]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف داود، و شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِى ابْنَ يَزِيدَ الْأَوْدِيَّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْلُحُ مِنَ الذَّهَبِ شَيْءٌ وَلَا بَصِيصُهُ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سونا اور ریشم میں سے کچھ بھی چمک کا فائدہ نہیں دیتے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27564]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف داود، و شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27565
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ , قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جس وقت وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ رہن رکھی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27565]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27566
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27566]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27567
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرٍ , عَنْ أَسْمَاءَ , قَالَتْ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِلَبَنٍ , فَقَالَ:" أَتَشْرَبِينَ؟" , قُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ , فَقَالَ: " لَا تَجْمَعْنَ كَذِبًا وَجُوعًا" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ان کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا، انہوں نے عورتوں سے پوچھا: کیا تم بھی پیو گی؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27567]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27568
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ , فَقَالَ: " إِذَا كَانَ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ بِثَلَاثِ سِنِينَ , حَبَسَتْ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا , وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا , فَإِذَا كَانَتْ السَّنَةُ الثَّانِيَةُ , حَبَسَتْ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا , وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا , فَإِذَا كَانَتْ السَّنَةُ الثَّالِثَةُ , حَبَسَتْ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ , فَلَا يَبْقَى ذُو خُفٍّ , وَلَا ظِلْفٍ , إِلَّا هَلَكَ , فَيَقُولُ الدَّجَّالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ: أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ إِبِلَكَ ضِخَامًا ضُرُوعُهَا , عِظَامًا أَسْنِمَتُهَا , أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ , فَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَةِ إِبِلِهِ فَيَتَّبِعُهُ , وَيَقُولُ لِلرَّجُلِ: أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ أَبَاكَ وَابْنَكَ , وَمَنْ تَعْرِفُ مِنْ أَهْلِكَ , أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ , فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ عَلَى صُوَرِهِمْ فَيَتَّبِعُهُ" , ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَبَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ , ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْكِي , فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكُمْ؟" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا ذَكَرْتَ مِنَ الدَّجَّالِ , فَوَاللَّهِ إِنَّ أَمَةَ أَهْلِي لَتَعْجِنُ عَجِينَهَا , فَمَا تَبْلُغُ حَتَّى تَكَادَ تَفَتَّتُ مِنَ الْجُوعِ , فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكْفِي الْمُؤْمِنِينَ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ يَوْمَئِذٍ التَّكْبِيرُ , وَالتَّسْبِيحُ , وَالتَّحْمِيدُ" , ثُمَّ قَالَ:" لَا تَبْكُوا , فَإِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ وَأَنَا فِيكُمْ , فَأَنَا حَجِيجُهُ , وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي , فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خروج دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی بارش اور زمین ایک تہائی نباتات روک لے گی، دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش اور زمین دو تہائی پیداوار روک لے گی اور تیسرے سال آسمان اپنی مکمل بارش اور زمین اپنی مکمل پیداوار روک لے گی اور ہر موزے اور کھر والا ذی حیات ہلاک ہو جائے گا، اس موقع پر دجال ایک دیہاتی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کر دوں، ان کے تھن بھرے اور بڑے ہوں اور ان کے کوہان عظیم ہوں تو کیا تم مجھے اپنا رب یقین کر لو گے؟ وہ کہے گا، ہاں! چنانچہ شیاطین اس کے سامنے اونٹوں کی شکل میں آئیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا۔ اسی طرح دجال ایک اور آدمی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے باپ، تمہارے بیٹے اور تمہارے اہل خانہ میں سے ان تمام لوگوں کو جنہیں تم پہچانتے ہو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں ہی تمہارا رب ہوں، وہ کہے گا، ہاں! چنانچہ اس کے سامنے شیاطین ان صورتوں میں آ جائیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور اہل خانہ رونے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے ہم اس وقت رو رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کیوں رو رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کا جو ذکر کیا ہے، واللہ! میرے گھر میں جو باندی ہے، وہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ہے، ابھی وہ اسے گوندھ کر فارغ نہیں ہونے پاتی کہ میرا کلیجہ بھوک کے مارے پارہ پارہ ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے، تو اس دن ہم کیا کریں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن مسلمانوں کے لئے کھانے پینے کی بجائے تکبیر اور تسبیح و تحمید ہی کافی ہو گی“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت روؤ، اگر میری موجودگی میں دجال نکل آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر میرے بعد اس کا خروج ہوا تو ہر مسلمان پر اللہ میرا نائب ہے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27568]
حکم دارالسلام: وهذا إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، قوله: "ان يخرج الدجال وانا فيكم، فانا حجيجه" فهو صحيح لغيره
حدیث نمبر: 27569
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: " يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ , لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا , وَلَا يُبَالِي , إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ , لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا , وَلَا يُبَالِي , إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27569]
حکم دارالسلام: الشطر الأول حسن بشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد اختلف عليه فيه