🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. باب بَيَانِ عَدَدِ شُعَبِ الْإِيمَانِ وَأَفْضَلِهَا وَأَدْنَاهَا وَفَضِيلَةِ الْحَيَاءِ وَكَوْنِهِ مِنْ الْإِيمَانِ 
باب: ایمان کی شاخوں کی تعداد، اور افضل اور ادنیٰ ایمان کا بیان، اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 35 ترقیم شاملہ: -- 152
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ ".
سلیمان بن بلال نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 152]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستّر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 152]
ترقیم فوادعبدالباقی: 35
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الايمان، باب: امور الايمان برقم (9) وابوداؤد فى ((سننه)) فى السنة، باب: فى رد الارجاء بنحوه برقم (4676) والترمذي فى ((جامعه)) فى الايمان، باب: ما جاء فى استكمال الايمان۔ وزيادته ونقصانه۔ وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2614) ((سننه)) فى المقدمة، باب: فى الايمان برقم (57) انظر ((التحفة)) برقم (12816)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 35 ترقیم شاملہ: -- 153
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ، بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ ".
سہیل نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے ستر سے اوپر (یا ساٹھ سے اوپر) شعبے (اجزاء) ہیں۔ سب سے افضل جز «لا إله إلا الله» کا اقرار ہے اور سب سے چھوٹا کسی اذیت (دینے والی چیز) کو راستے سے ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 153]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے ستّر سے اوپر یا ساٹھ سے زائد شعبے ہیں، سب سے اعلیٰ اور افضل شاخ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار اور اس کا نچلا درجہ کسی اذیت اور تکلیف دینے والی چیز کا راستہ سے ہٹانا ہے اور حیاء ایمان کی ایک اہم شاخ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 153]
ترقیم فوادعبدالباقی: 35
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (151)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 36 ترقیم شاملہ: -- 154
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: " الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا: (حیا سے مت روکو) حیا ایمان میں سے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 154]
سالم رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا وہ اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں نصیحت کر رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (حیاء سے مت روکو) حیاء ایمان کا اہم جز ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 154]
ترقیم فوادعبدالباقی: 36
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، الترمذي فى ((جامعه)) فى الايمان، باب: ما جاء ان الحياء من الايمان وقال هذا حديث حسن صحيح برقم (2615) وابن ماجه فى ((سننه)) فى المقدمة، باب: فى الايمان برقم (58) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (6828)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 36 ترقیم شاملہ: -- 155
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ.
سفیان بن عیینہ کے بجائے معمر نے زہری سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ خبر دی اور کہا کہ آپ ایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 155]
ہمیں عبد بن حمید رحمہ اللہ نے عبدالرزاق رحمہ اللہ سے معمر رحمہ اللہ کی زہری رحمہ اللہ سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ روایت بیان کی جس میں یہ ہے کہ آپ ایک انصاری آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 155]
ترقیم فوادعبدالباقی: 36
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (6954)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 37 ترقیم شاملہ: -- 156
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ "، فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّهُ مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ، أَنَّ مِنْهُ وَقَارًا، وَمِنْهُ سَكِينَةً، فَقَالَ عِمْرَانُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صُحُفِكَ.
ابوسوار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیا سے خیر اور بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے۔ اس پر بشیر بن کعب نے کہا: حکمت اور (دانائی کی کتابوں) میں لکھا ہوا کہ اس (حیا) سے وقار ملتا ہے اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ اس پر عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنا رہا ہوں اور تو مجھے اپنے صحیفوں کی باتیں سناتا ہے! [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 156]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء خیرو بھلائی ہی کا باعث ہے۔ تو بشیر بن کعب نے کہا: حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس میں بعض وقار سے اور بعض سکون سے، تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور تم (اس کے مقابلہ میں) اپنی کتابوں کی باتیں سناتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 156]
ترقیم فوادعبدالباقی: 37
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحـه)) فى الادب، فى الحياء برقم (5766) انظر ((التحفة)) برقم (10877)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 37 ترقیم شاملہ: -- 157
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ إِسْحَاق وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ حَدَّثَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي رَهْطٍ مِنَّا، وَفِينَا بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ، فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَوْمَئِذٍ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ "، قَالَ: أَوَ قَالَ: " الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ "، فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّا لَنَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ أَوِ الْحِكْمَةِ، أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا لِلَّهِ، وَمِنْهُ ضَعْفٌ، قَالَ: فَغَضِبَ عِمْرَانُ، حَتَّى احْمَرَّتَا عَيْنَاهُ، وَقَالَ: أَلَا أُرَانِي أُحَدِّثُكَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُعَارِضُ فِيهِ، قَالَ: فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَعَادَ بُشَيْرٌ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ، قَالَ: فَمَا زِلْنَا نَقُولُ فِيهِ: إِنَّهُ مِنَّا يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.
حماد بن زید نے اسحاق بن سوید سے روایت کی کہ ابوقتادہ (تمیم بن نذیر) نے حدیث بیان کی، کہا کہ ہم اپنے ساتھیوں سمیت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے، ہم میں بشیر بن کعب بھی موجود تھے، اس روز حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک حدیث سنائی، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیا بھلائی ہے پوری کی پوری۔ (انہوں نے کہا: یہ الفاظ فرمائے): حیا پوری کی پوری بھلائی ہے۔ تو بشیر بن کعب نے کہا: ہمیں کتابوں یا حکمت (کے مجموعوں) میں یہ بات ملتی ہے کہ حیا سے اطمینان اور اللہ کے لیے وقار (کا اظہار) ہوتا ہے اور اس کی ایک قسم ضعیفی (کمزور) ہے۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ سخت غصے میں آ گئے حتی کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور فرمانے لگے: کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم اس میں مقابلہ کر رہے ہو؟ ابوقتادہ نے کہا: عمران نے دوبارہ حدیث سنائی اور بشیر نے پھر وہی کہا: اس پر عمران (سخت) غصے میں آ گئے۔ (ابوقتادہ نے) کہا: تو ہم نے بار بار یہ کہنا شروع کر دیا: اے ابونجید! (حضرت عمران کی کنیت) یہ ہم میں سے (مسلمان اور حدیث کا طالب علم) ہے۔ اس (کے عقیدے) میں کوئی عیب یا نقص نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 157]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہم اپنے گروہ کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے اور ہم میں بشیر بن کعب بھی موجود تھے اس دن عمران رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء مکمل خیر ہے یا پوری خیر ہے۔ تو بشیر بن کعب نے کہا: ہم نے بعض کتابوں یا حکمت میں پایا ہے کہ بعض دفعہ وہ وقار اور اطمینان ہوتا ہے، اور بعض دفعہ وہ کمزوری ہوتا ہے، تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سُرخ ہو گئیں، اور فرمانے لگے: میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور تم اس کے خلاف یا مقابلہ میں باتیں کرتے ہو، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمران نے دوبارہ حدیث سنائی اور بشیر نے بھی اپنی بات کو دہرایا، اس پر عمران غصہ میں آگئے (اور بشیر کو سزا دینے کا ارادہ کیا) تو ہم مسلسل کہنے لگے اے ابا نجید! (عمران رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) یہ ہم میں (مہمان) ہے، اس میں کوئی عیب یا نقص نہیں (منافق یا بے دین نہیں) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 157]
ترقیم فوادعبدالباقی: 37
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد فى ((سننه)) فى الادب، باب: فى الحياء برقم (4796) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (10878)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 37 ترقیم شاملہ: -- 158
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيْرَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيَّ ، يَقُولُ: عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
نضر (بن شمیل) نے کہا: ہمیں ابونعامہ عدوی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حجیر بن ریبع عدوی سے سنا، وہ کہتے تھے: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ (جس طرح) حماد بن زید کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 158]
ہمیں اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ نے نضر رحمہ اللہ سے ابو نعامہ عدوی رحمہ اللہ کی روایت سنائی، اس نے بتایا کہ میں نے حمیر میں ربیع عدوی رحمہ اللہ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سنی یہ روایت بھی حماد بن زید رحمہ اللہ کی روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 158]
ترقیم فوادعبدالباقی: 37
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (10792)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں