🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. باب جراح العمد
جان بوجھ کر زخمی کرنے کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: ثنا قُرَّةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ سِيرِينَ ، قَالَ: أَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَ يَوْمُ النَّحْرِ؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَ هَذَا ذَا الْحِجَّةِ؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَتْ بِالْبَلْدَةِ؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ، أَلا لا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" .
سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم نحر (دس ذوالحجہ) کو خطبہ دیا تو فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے سمجھا آپ اس کا کوئی اور نام بتائیں گے، پھر آپ نے پوچھا: کیا (آج) یوم النحر نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے سمجھا آپ اس کا کوئی اور نام بتائیں گے، پھر آپ نے پوچھا: کیا ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہو گئے حتی کہ ہم نے سمجھا آپ اس کا کوئی اور نام بتائیں گے، پھر آپ نے پوچھا: کیا یہ بلدہ (مکہ) نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آپ کا خون اور مال آپ پر اسی طرح حرام کیا ہے، جس طرح آپ کا آج کا دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرمت والا ہے اور یہ حرمت قیامت کے دن تک ہے، کیا میں نے (اللہ کا) پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: اللہ! گواہ ہو جا۔ حاضر غائب کو یہ پیغام پہنچا دے، بسا اوقات وہ آدمی جسے بات پہنچائی جاتی ہے، سننے والے کی نسبت زیادہ یاد رکھتا ہے، سن لیں! میرے بعد آپ کا کافر بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 833]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1741، صحیح مسلم: 1679/31»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 834
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: ثنا مُجَاهِدٌ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا" ، عَلَى مَا ذَكَرَ مُبَلِّغُهُ مَرْوَانَ.
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی معاہد کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے پائی جائے گی۔ مروان راوی نے ایسے ہی بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 834]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 186/2، سنن النسائي: 4754، رواه البخاري (6914) عن قيس بن حفص عن عبدالواحد بن زياد عن الحسن بن عمرو به.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 835
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، قَالَ: أنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا" .
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی معاہد (ذمی) کو بلا وجہ قتل کر دیا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو حرام کر دے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 835]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 38/5، 39، سنن أبي داود: 2760، سنن النسائي: 4751، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4881) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (142/2) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 836
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، وَكَانَ فِي الدَّارِ مَدْخَلٌ، كَانَ مَنْ دَخَلَهُ سَمِعَ كَلامَ مَنْ عَلَى الْبَلاطِ، فَدَخَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ، فَخَرَجَ وَهُوَ مُتَغَيِّرٌ لَوْنُهُ، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا، قُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إلا بِإِحْدَى ثَلاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا" ، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلا إِسْلامٍ قَطُّ، وَلا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِيَ بِدِينِي بَدَلا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ لَهُ، وَلا قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي؟.
ابو امامہ بن سہل کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ گھر میں محصور (قید) تھے، تو میں ان کے پاس تھا، گھر میں داخل ہونے کا ایک ایسا راستہ تھا، جو شخص اس میں سے داخل ہوتا تو وہ بلاط (مدینہ میں ایک جگہ ہے) پر ہونے والی باتیں سن سکتا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس میں سے داخل ہوئے، جب باہر آئے، تو ان کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا، انہوں نے فرمایا: وہ تو مجھے ابھی ابھی قتل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہم نے کہا: امیر المومنین! آپ کو اللہ تعالیٰ ان سے کافی ہو جائے گا، آپ نے فرمایا: وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: صرف تین وجوہات کی بنا پر کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز ہے۔ جو اسلام لانے کے بعد کفر کرے جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے جو کسی کو ناحق قتل کر دے۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی زنا کیا تھا اور نہ ہی اسلام میں اور جب سے مجھے اللہ تعالیٰ نے ہدایت (اسلام) سے نوازا ہے، میں نے کبھی دین بدلنے کے متعلق سوچا بھی نہیں اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، تو وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 836]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 61/1، 62، سنن أبي داود: 4502، سنن النسائي: 4024، سنن الترمذي: 2158، سنن ابن ماجه: 2533، معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني: 287، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (350/4) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: ثنا أَبَانُ ، قَالَ: ثنا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَخَ رَأْسَ جَارِيَةٍ بِحَجَرٍ، ثُمَّ أَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَ عَلَيْهَا، فَوَجَدُوهَا وَبِهَا رَمَقٌ فَطَافُوا بِهَا، أَهَذَا هُوَ، أَهَذَا هُوَ؟ حَتَّى دَلَّتْ عَلَى الْيَهُودِيِّ، فَأَخَذُوهُ فَاعْتَرَفَ، " فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِحَ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے پتھر کے ساتھ ایک بچی کا سر کچل دیا اور اس کے زیورات اتار لیے، لوگوں نے اسے پکڑا، تو اس میں ابھی زندگی کی رمق باقی تھی، وہ اسے لے کر گھومنے لگے (اور پوچھنے لگے) کیا یہ وہی شخص ہے، کیا یہ وہی شخص ہے (جس نے آپ کو مارا ہے) حتی کہ اس نے یہودی کے متعلق بتایا، تو انہوں نے اسے پکڑ لیا، یہودی نے اعتراف جرم کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا گیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 837]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 6876، صحیح مسلم: 1672»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 838
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَجَّاجٌ ، قَالَ: ثنا هَمَّامٌ ، قَالَ: أنا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا فُلانٌ أَمْ فُلانٌ، حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَرَفَ بِهِ، " فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے دو پتھروں کے درمیان ایک بچی کا سر کچل دیا، اس سے پوچھا گیا، آپ کے ساتھ ایسے کس نے کیا ہے، فلاں نے کیا ہے یا فلاں نے؟ حتی کہ یہودی کا نام لیا گیا تو، اس نے اعتراف کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا گیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 838]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2746، صحیح مسلم: 1672»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 839
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ" ، زَادَ الأَحْمَسِيُّ:" وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ".
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قتل کرو، تو احسن انداز سے قتل کرو۔ احمسی کی روایت میں مزید یہ ہے: جب ذبح کرو، تو احسن انداز سے ذبح کرو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 839]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1955»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 840
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ: ثنا الْمُغِيرَةُ ، لَعَلَّهُ قَالَ: عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الإِيمَانِ" .
سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل ایمان سب سے احسن اور محتاط انداز سے قتل کرتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 840]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 393/1، سنن أبي داود: 2666، سنن ابن ماجه: 2686، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5994) نے صحیح کہا ہے۔ ابراہیم بن یزید نخعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، ہنی بن نویرہ حسن الحدیث ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 841
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو خَالِدٍ ، قَالَ: أنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِالاقْتِصَاصِ مِنَ السِّنِّ، وَقَالَ: كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کا قصاص لینے کا حکم دیا اور فرمایا: اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 841]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 6894»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 842
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا سُفْيَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَدَعَا بِغُلامٍ لَهُ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَالِي مِنْ أَجْرِهِ مَا يَزِنُ هَذَا أَوْ مَا سَاوَى هَذَا، وَأَخَذَ شَيْئًا مِنَ الأَرْضِ بِيَدِهِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ ضَرَبَ عَبْدًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَهُ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ" .
زاذان کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو بلا کر آزاد کر دیا، پھر فرمانے لگے: مجھے اس کو آزاد کرنے کا اتنا بھی ثواب نہیں ملا اور آپ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین سے کوئی چیز اٹھائی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے غلام پر حد لگائی، جس کا اس نے ارتکاب نہیں کیا تھا یا اسے تھپڑ مارا، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 842]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1657/30»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں