المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
15. باب جراح العمد
جان بوجھ کر زخمی کرنے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 843
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ" .
سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا دین تبدیل کرے، اسے قتل کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 843]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 6922»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 844
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلا إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ عُمَّالِي عَلَيْكُمْ لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ، وَلا لِيَأْخُذُوا مِنْ أَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَبْعَثُهُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ، فَمَنْ فَعَلَ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ , فَوَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لأَقُصَّنَّهُ مِنْهُ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَعِيَّةٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ لَتَقُصَّنَّهُ مِنْهُ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّا لأَقُصَّنَّهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ عَنْ نَفْسِهِ، وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لأَقُصَّنَّهُ مِنْهُ" .
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 41/1، سنن أبي داود: 4537، سنن النسائي: 4281، فضائل القرآن للفريابي: 172، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (439/4) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، ابوفراس نہدی حسن الحدیث ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
حدیث نمبر: 845
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا، فَلاحَهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ، فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: الْقَوَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَكُمْ كَذَا وَكَذَا، فَلَمْ يَرْضَوْا، قَالَ: فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ: فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا، فَرَضُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ هَؤُلاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا، أَرَضِيتُمْ؟ قَالُوا: لا، فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا فَكُفُّوا، ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ، وَقَالَ: أَرَضِيتُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَرَضِيتُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہم بن حذیفہ کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، تو ایک آدمی نے اپنے صدقہ کے بارے میں ان سے جھگڑا کیا۔ ابو جہم نے مار کر اس کا سر پھوڑ دیا۔ اس کے اہل خانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قصاص (چاہیے۔) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس قدر مال لے لیں، (قصاص رہنے دیں۔) وہ رضامند نہ ہوئے، فرمایا: اس قدر مال لے لیں لیکن وہ رضامند نہ ہوئے، فرمایا: اتنا مال اور لے لیں، تو وہ راضی ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں تمہاری رضامندی کے متعلق بتاؤں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: یہ لیثی میرے پاس قصاص لینے آئے، تو میں نے انہیں اس قدر مال کی پیش کش کی تو یہ رضا مند ہو گئے، کیا آپ راضی ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں! مہاجرین نے انہیں سزا دینے کا ارادہ کیا، تو آپ نے انہیں فرمایا: باز رہیں۔ چنانچہ وہ باز آ گئے۔ آپ نے پھر انہیں بلایا اور زیادہ کی پیش کش کی اور فرمایا: کیا خوش ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں تمہاری رضامندی کے متعلق بتاؤں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور پوچھا: کیا خوش ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 845]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 232/6، سنن أبي داود: 4534، سنن النسائي: 4782، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4487) نے صحیح کہا ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ تَكَلَّمُوا بِالإِسْلامِ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ يَكُونُوا أَهْلَ رِيفٍ، وَشَكُوا حُمَّى الْمَدِينَةِ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ، وَأَمَرَ لَهُمْ بِرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَانْطَلَقُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ، فَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأَتَى بِهِمْ فَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَتُرِكُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ يَقْضِمُونَ حِجَارَتَهَا حَتَّى مَاتُوا" قَالَ قَتَادَةُ: فَبَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ أنزلت فِيهِمْ: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا کہ وہ زمیندار نہیں، بلکہ چرواہے ہیں، نیز انہوں نے مدینہ کے بخار کی شکایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اونٹوں اور چرواہوں کا (بندوبست کرنے کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ (مدینہ سے) باہر چلے جائیں، ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں، وہ حرہ (پتھریلا میدان) کے ایک کونے میں چلے گئے اور اسلام لانے کے بعد کافر (مرتد) ہو گئے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، انہیں لایا گیا، تو آپ نے ان کی آنکھوں میں سلائی گرم کر کے ڈالی اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، پھر انہیں حرہ کے کنارے میں پھینک دیا گیا وہ پتھر چباتے چباتے مر گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہمیں خبر ملی ہے کہ آیت ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ﴾ (المائدة: 33) انہی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 846]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 4192، صحیح مسلم: 1671»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 847
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَمَرَ أَعْيُنَهُمْ لأَنَّهُمْ سَمَرُوا أَعْيَنَ الرُّعَاةِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں (گرم) سلائیاں ڈالیں، کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں ڈالی تھیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 847]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1671»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 848
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، وَالْحَدِيثُ لابْنِ الْمُقْرِئِ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلامًا أَسْوَدَ، قَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: هَلْ مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ؟ قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میری بیوی نے کالے رنگ کا بچہ جنا ہے، آپ نے پوچھا: کیا آپ کے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: ان کا رنگ کیسا ہے؟ اس نے کہا: سرخ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ان میں کوئی اونٹ خاکی رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے کئی اونٹ ہیں۔ آپ نے پوچھا: وہ کہاں سے آئے ہیں؟ اس نے کہا: ہوسکتا ہے کسی رگ نے انہیں کھینچ لیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے، اسے بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 848]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 6847، صحیح مسلم: 1500»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 849
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ: أنا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكًا وَكَانَ ظَالِمًا، أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی التوبہ سیدنا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غلام پر جھوٹی تہمت لگائی، تو قیامت کے دن اس پر حد لگائی جائے گی الا یہ کہ وہ اپنی بات میں سچا ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 849]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 6858، صحیح مسلم: 1660»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 850
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: أنا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ ، قَالَ: ثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ" .
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے علاوہ (کسی جرم میں) دس سے زائد کوڑے نہ لگائے جائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 850]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 6848، صحیح مسلم: 1660»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 851
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبُرْدِيُّ ، قَالَ: أنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ فَيَّاضٍ الأَبْنَاوِيِّ ، عَنْ خَلادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ لَيْثٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَرَّ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَجَلَدَهُ مِائَةً، وَكَانَ بِكْرًا، ثُمَّ سَأَلَهُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمَرْأَةِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: كَذَبَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَلَدَهُ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ".
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو بکر بن لیث قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے چار مرتبہ اقرار کیا کہ اس نے فلاں عورت سے زنا کیا ہے، وہ کنوارا تھا، آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، پھر آپ نے اس سے عورت کے خلاف دلیل مانگی، تو وہ عورت کہنے لگی: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ آپ نے اسے حد قذف (تہمت) میں (80) کوڑے لگائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 851]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 4467، السنن الكبرى للنسائي: 7348، اس حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے ”منکر“ کہا ہے، جبکہ امام حاکم رحمہ اللہ (370/4، 371) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ ان کے رد و تعاقب میں کہتے ہیں: ”القاسم ضعیف“۔ قاسم بن فیاض ابناوی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف