🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. باب ما جاء في العقيقة
عقیقہ کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 910
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ غُلامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ، يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى" .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقے کے عوض گروی ہوتا ہے، ساتویں روز اس کی طرف سے (جانور) ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈوایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 910]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/7-8-17، سنن أبي داود: 2838، سنن النسائي: 4225، سنن الترمذي: 1522، سنن ابن ماجه: 3165، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ (تلخیص المستدرک: 2/237) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 911
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَبْشًا كَبْشًا" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھا عقیقہ کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 911]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن أبي داود: 2841، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (بلوغ المرام لابن حجر: 1355)، حافظ نووی (المجموع شرح المہذب: 8/428) اور حافظ عبد الحق اشبیلی رحمہ اللہ (الاحکام الوسطی: 4/141) نے صحیح قرار دیا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 912
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ كَبْشًا، وَعَنِ الْحُسَيْنِ كَبْشًا" ، رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وحماد بن زيد، وغيرهم، عَنْ أَيُّوبَ، لَمْ يُجَاوِزُوا بِهِ عِكْرِمَةَ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک مینڈھا عقیقہ کیا اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے بھی ایک مینڈھا عقیقہ کیا۔ اسے ثوری، ابن عیینہ اور حماد بن زید وغیرہ نے ایوب سے روایت کیا ہے اور عکرمہ سے آگے ذکر نہیں کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 912]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 913
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا فَرَعَ، وَلا عَتِيرَةَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ فرع جائز ہے اور نہ عتیرہ۔ اونٹنی کا پہلا بچہ جسے وہ اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے فرع کہلاتا تھا اور جو بکری وہ رجب کے پہلے عشرے میں ذبح کرتے تھے، وہ عتیرہ کہلاتی تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 913]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5474، صحيح مسلم: 1976۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں