🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. باب ما جاء في الضحايا
قربانیوں کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 902
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثني عُقْبَةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگوں والے چتکبرے مینڈھے قربانی کیے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 902]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5558، صحيح مسلم: 1966۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 903
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُضَحِّي عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کی طرف سے گائے قربانی کیا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 903]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5548، صحيح مسلم: 1211/119,120۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 904
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا شَبَابَةُ ، قَالَ: ثنا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَذْبَحُوا إِلا مُسِنَّةً، إِلا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسنہ (دوندے) کے علاوہ کوئی جانور نہ ذبح کریں، اگر اس کا ملنا مشکل ہو جائے، تو بھیڑ کا ایک سال کا بچہ ذبح کر لیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 904]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1963۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 905
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجُّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيَّ ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: " ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ" .
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بھیڑ کا ایک سالہ بچہ قربانی کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 905]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن النسائي: 4387، السنن الكبرى للبيهقي: 9/270۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 906
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ح وَثَنًا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: ثنا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الْهَمْدَانِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ هِشَامٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ، أَوْ مُدَابَرَةٍ، أَوْ شَرْقَاءَ، أَوْ خَرْقَاءَ، أَوْ جَدْعَاءَ .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا جانور قربانی کرنے سے منع کیا، جس کا کان آگے سے کٹا ہو، یا پیچھے سے کٹا ہو، لمبائی میں کٹا ہو، یا گولائی میں کٹا ہو یا جس کی ناک کٹی ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 906]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 1/80-108، سنن أبي داود: 2804، سنن النسائي: 4377، سنن الترمذي: 1498، سنن ابن ماجه: 3142، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (4/224) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ ابواسحاق ”مدلس“ ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَلَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو إِسْحَاقَ مِنْ شُرَيْح. (العلل: 3/238)۔ المستدرک للحاکم (4/224) میں ابن اشوع کا واسطہ گر گیا ہے، لیکن وہ سند قیس بن ربیع ضعیف عند الجمہور کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ رَجُلا مِنْ بَنِي شَيْبَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَا ذَكَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَضَاحِي، أَوْ مَاذَا نَهَى عَنْهُ؟، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ لا تُجْزِئُ، وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ضَلَعُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لا تُنْقِي، قُلْتُ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ أَوْ فِي الْقَرْنِ أَوْ فِي الأُذُنِ نَقْصٌ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلا تُحَرِّمْهُ عَلَى أحَدٍ" .
عبید بن فیروز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سی قربانی نا پسند کیا کرتے تھے؟ یا کیسی قربانی سے منع کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: میرا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار طرح کے جانور کفایت نہیں کرتے: وہ کانا جانور، جس کا کانا پن واضح ہو وہ لنگڑا، جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو وہ بیمار جس کا بیمار ہونا واضح ہو وہ لاغر جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔ میں نے کہا: میں تو دانت، سینگ اور کان میں نقص کو بھی نا پسند کرتا ہوں، تو انہوں (سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما) نے فرمایا: جو آپ کو نا پسند ہے، اسے چھوڑ دیں لیکن کسی پر حرام قرار نہ دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 907]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/284، سنن أبي داود: 2802، سنن النسائي: 4374، سنن الترمذي: 1497، سنن ابن ماجه: 3144، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2912) امام ابن حبان رحمہ اللہ (5919، 5922) اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/467، 468) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 908
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا دَاودُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَذْبَحَنَّ أَحَدٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ كَثِيرٌ، وَإِنِّي ذَبَحْتُ نَسِيكَتِي لِيَأْكُلَ مِنْهَا أَهْلِي وَجِيرَانِي، وَعِنْدِي عَنَاقٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، أَفَأَذْبَحُهَا؟، قَالَ: نَعَمْ، وَلا تُجْزِئُ جَذَعَةٌ عَنْ أحَدٍ بَعْدَكَ، وَهِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ" .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نماز (عید) سے پہلے جانور ذبح نہ کرے۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میرے ماموں ابو بردہ بن نیار کھڑے ہو کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! آج کے دن گوشت بہت زیادہ ہوتا ہے، میں نے اپنی قربانی ذبح کر دی ہے تا کہ میرے پڑوسی اور اہل و عیال اسے کھا لیں، میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے، جو گوشت والی دو بکریوں سے بھی بہتر ہے، کیا میں اسے ذبح (قربانی) کر دوں؟ فرمایا: جی ہاں! لیکن آپ کے بعد کسی کو جذعہ کفایت نہیں کرے گا اور یہ آپ کے لیے دو قربانیوں سے بہتر ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 908]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5556، صحيح مسلم: 1961۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 909
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ،" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُمَا يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ" .
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا، تو ان سے پوچھا: کیا آپ نے خود (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سینگوں والے چتکبرے مینڈھے قربانی کیا کرتے تھے اور بسم اللہ اللہ اکبر پڑھتے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ انہیں اپنے مبارک ہاتھ سے ذبح کر رہے تھے اور اپنا مبارک پاؤں ان کے اوپر رکھا ہوا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 909]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5558، صحيح مسلم: 1966۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں