🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1ق. باب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلاَةِ
باب: مسجدوں اور نماز کی جگہوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 520 ترقیم شاملہ: -- 1161
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الأَقْصَى، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً، وَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ، فَصَلِّ، فَهُوَ مَسْجِدٌ "، وَفِي حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ: ثُمَّ حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ، فَصَلِّهْ، فَإِنَّهُ مَسْجِدٌ.
ابوکامل جحدری نے کہا: ہمیں عبدالواحد نے اعمش سے حدیث بیان کی، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کون سی مسجد جو زمین میں بنائی گئی پہلی ہے؟ آپ نے فرمایا: مسجد حرام۔ میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے (پھر) پوچھا: دونوں (کی تعمیر) کے مابین کتنا زمانہ تھا؟ آپ نے فرمایا: چالیس برس۔ اور جہاں بھی تمہارے لیے نماز کا وقت ہو جائے، نماز پڑھ لو، وہی (جگہ) مسجد ہے۔ ابوکامل کی حدیث میں ہے: پھر جہاں بھی تمہاری نماز کا وقت ہو جائے، اسے پڑھ لو، بلاشبہ وہی جگہ مسجد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1161]
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے پہلے روئے زمین پر کونسی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام میں نے پوچھا، پھر کونسی؟ فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے پوچھا، دونوں کی تعمیر میں کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال۔ پھر فرمایا: اب جہاں بھی تجھے نماز کا وقت آئے، نماز پڑھ لے وہی جگہ مسجد ہے۔ ابو کامل کی روایت میں ہے: پھر جہاں تمہیں نماز آ لے، اس کو پڑھ لو کیونکہ وہی جگہ مسجد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1161]
ترقیم فوادعبدالباقی: 520
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 520 ترقیم شاملہ: -- 1162
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي الْقُرْآنَ فِي السُّدَّةِ، فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ، سَجَدَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ، أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الأَقْصَى، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ عَامًا، ثُمَّ الأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ، فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ، فَصَلِّ ".
علی بن مسہر نے کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم بن یزید تیمی سے حدیث سنائی، کہا: میں مسجد کے باہر کھلی جگہ (صحن) میں اپنے والد کو قرآن مجید سنایا کرتا تھا، جب میں (آیت) سجدہ کی تلاوت کرتا تو وہ سجدہ کر لیتے۔ میں نے ان سے پوچھا: ابا جان! کیا آپ راستے ہی میں سجدہ کر لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روئے زمین پر سب سے پہلی بنائی جانے والی مسجد کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام۔ میں نے عرض کی: پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے پوچھا: دونوں (کی تعمیر) کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ آپ نے فرمایا: چالیس سال، پھر ساری زمین (ہی) تمہارے لیے مسجد ہے، جہاں بھی تمہاری نماز کا وقت آ جائے، وہیں نماز پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1162]
حضرت ابراھیم بن یزید تیمی رحمۃ اللّہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سدہ میں (مسجد کے باہر سائبان) اپنے باپ کو قرآن مجید سنایا کرتا تھا۔ تو جب میں سجدہ والی آیت سناتا تو وہ سجدہ کر لیتے تو میں نے ان سے پوچھا: اے ابا جان! کیا آپ راستے میں ہی سجدہ کر لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، روئے زمین پر سب سے پہلے کونسی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام میں نے عرض کیا پھر کونسی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے پوچھا، دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال۔ پھر فرمایا: ساری زمین تمہارے لیے مسجد ہے، جہاں نماز کا وقت ہو جائے وہیں پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1162]
ترقیم فوادعبدالباقی: 520
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 521 ترقیم شاملہ: -- 1163
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ، يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَيِّبَةً طَهُورًا وَمَسْجِدًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدَيْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا کہ ہمیں ہشیم نے سیار سے خبر دی، انہوں نے یزید الفقیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں: ہر نبی خاص اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا، میرے لیے اموال غنیمت حلال قرار دیے گئے، مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہیں کیے گئے، میرے لیے زمین کو پاک کرنے والی اور سجدہ گاہ بنایا گیا، لہٰذا جس شخص کے لیے نماز کا وقت ہو جائے وہ جہاں بھی ہو، وہیں نماز پڑھ لے، اور مہینہ بھر کی مسافت سے دشمنوں پر طاری ہو جانے والے رعب سے میری نصرت کی گئی اور مجھے شفاعت (کا منصب) عطا کیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1163]
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، ہر نبی خاص طور پر اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا تھا، اور مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے، میرے لیے مال غنیمت حلال قرار دیا گیا ہے مجھ سے پہلے کسی کے لیے وہ حلال نہیں قرار دیا گیا، میرے لیے روئے زمین کو پاک کرنے والی اور مسجد بنایا گیا ہے، لہٰذا جس شخص کو جہاں نماز کا وقت پالے وہیں نماز پڑھ لے، اور مجھے ایسے رعب کے ذریعے مدد دی گئی، جو ایک ماہ کی مسافت سے ہی لوگوں (دشمنوں) پر طاری ہو جاتا ہے (یعنی میری دھاک و دبدبہ ایک ماہ کی مسافت پر پڑ جاتا ہے) اور مجھے شفاعت دی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1163]
ترقیم فوادعبدالباقی: 521
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 521 ترقیم شاملہ: -- 1164
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہشیم سے اسی سابقہ سند سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پھر اسی طرح بیان کیا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1164]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1164]
ترقیم فوادعبدالباقی: 521
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 522 ترقیم شاملہ: -- 1165
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ، جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا، إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، وَذَكَرَ خَصْلَةً أُخْرَى "
محمد بن فضیل نے ابومالک اشجعی (سعد بن طارق) سے، انہوں نے ربعی (بن حراش) سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں لوگوں پر تین (باتوں) کے ذریعے سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں، ہمارے لیے ساری زمین کو سجدہ گاہ بنا دیا گیا ہے اور جب ہمیں پانی نہ ملے تو اس (زمین) کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔ (اس کے ساتھ تیمم کر کے پاکیزگی حاصل کی جا سکتی ہے۔) ایک خصوصیت اور بھی بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1165]
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں لوگوں پر تین وجہ سے فضیلت دی گئی ہے ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح قرار دی گئی ہیں، ہمارے لیے تمام روئے زمین میں سجدہ گاہ بنا دی گئی ہے۔ اور اس کی مٹی جب تم میں سے کوئی ہمیں پانی نہ ملے ہمارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ (پاک کرنے والی) بنا دی گئی ہے اور ایک خصوصیت بھی بیان کی۔ (سورة بقرہ کی آخری آیات کا نزول مراد ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1165]
ترقیم فوادعبدالباقی: 522
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 522 ترقیم شاملہ: -- 1166
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِهِ.
ابن ابی زائد نے (ابومالک) سعد بن طارق (اشجعی) سے روایت کی، کہا: مجھے ربعی بن حراش نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آگے سابقہ حدیث کے مانند ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1166]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1166]
ترقیم فوادعبدالباقی: 522
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 523 ترقیم شاملہ: -- 1167
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فُضِّلْتُ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ، أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ ".
عبدالرحمان بن یعقوب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوسرے انبیاء پر چھ چیزوں کے ذریعے سے فضیلت دی گئی ہے: مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں، (دشمنوں پر) رعب و دبدبے کے ذریعے سے میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے اموال غنیمت حلال کر دیے گئے ہیں، زمین میرے لیے پاک کرنے اور مسجد قرار دی گئی ہے، مجھے تمام مخلوق کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہے اور میرے ذریعے سے (نبوت کو مکمل کر کے) انبیاء ختم کر دیے گئے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1167]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوسرے انبیاء علیہم السلام پر چھہ چیزوں پر فضیلت دی گئی ہے، مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں، میری رعب و دبدبہ کے ذریعے مدد دی گئی ہے اور میرے لیے غنیمتیں حلال کر دی گئی ہیں، اور میرے لیے زمین پاکیزگی کا باعث بنائی گئی ہے اور مسجد قرار دی گئی ہے اور مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہےاور مجھ پر نبیوں کو ختم کر دیا گیا ہے، مجھے آخری نبی بنایا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1167]
ترقیم فوادعبدالباقی: 523
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 523 ترقیم شاملہ: -- 1168
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ، فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيَّ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا.
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعے میری نصرت کی گئی ہے، میں نیند کے عالم میں تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھوں میں رکھ دی گئیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو (اپنے رب کے پاس) جا چکے ہیں اور تم ان (خزانوں) کو کھود کر نکال رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1168]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھےجامع کلام دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعے میری نصرت (مدد) کی گئی ہے میں سویا ہوا تھا کہ اس اثنا میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے حوالہ کی گئیں اور میرے ہاتھوں میں رکھ دی گئیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے رب کے پاس جا چکے ہیں اور (ان خزانوں کو) اب تم نکال رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1168]
ترقیم فوادعبدالباقی: 523
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 523 ترقیم شاملہ: -- 1169
وحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ، مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ.
زبیدی نے (ابن شہاب) زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: (بقیہ یونس کی حدیث کے مانند ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1169]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1169]
ترقیم فوادعبدالباقی: 523
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 523 ترقیم شاملہ: -- 1170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابن مسیب اور ابوسلمہ (بن عبدالرحمن) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1170]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1170]
ترقیم فوادعبدالباقی: 523
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں