سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
40. بَابُ مَا رُوِيَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَاسْتِيعَابِ جَمِيعِ الْقَدَمِ فِي الْوُضُوءِ بِالْمَاءِ
باب: وضو کی فضیلت اور وضو کے دوران پورے پاؤں تک اچھی طرح پانی پہنچانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
ترقیم العلمیہ : 371 ترقیم الرسالہ : -- 377
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الزَّيَّاتُ ، عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ: حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأْنَا لِلصَّلاةِ أَنْ نَغْسِلَ أَرْجُلَنَا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی تھی: ”جب ہم نماز کے لیے وضو کریں تو اپنے پاؤں دھو لیں۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 377]
ترقیم العلمیہ: 371
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 377 انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 372 ترقیم الرسالہ : -- 378
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ، نا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا أَبُو الْوَلِيدِ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، نا شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ ، وَقَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ أَبُو أُمَامَةَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَدَّعِي أَنَّكَ رُبُعُ الإِسْلامِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ : قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يُقَرِّبُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيَنْثِرُ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مَعَ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى مِرْفَقَيْهِ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَقُومُ وَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ إِلا انْصَرَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" .
ابوعمار بیان کرتے ہیں: انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کس بات کے دعوے دار ہیں؟ آپ کو بہت پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے؟“ (اس کے بعد انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا ہے)۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی: ”میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے وضو کے بارے میں کچھ بتائیے!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی شخص وضو کرنے لگے تو وہ پہلے کلی کرے، پھر ناک میں پانی ڈالے اور ناک صاف کرے تو اس میں اس سے اس کے تمام گناہ، یہاں تک کہ اس کے ناک کے بانسے سے، تمام گناہ پانی سمیت باہر نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، تو اس کے چہرے میں سے تمام گناہ، یہاں تک کہ اس کی داڑھی کے کناروں میں سے بھی، پانی کے ہمراہ گر جاتے ہیں، پھر جب وہ دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک دھوتا ہے، تو اس کے دونوں بازوؤں میں سے، یہاں تک کہ ناخنوں میں سے بھی، تمام گناہ پانی سمیت گر جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے، تو اس کے بالوں کے کناروں سمیت، اس کے سر کے تمام گناہ پانی سمیت گر جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، تو اس کے دونوں پاؤں کی انگلیوں کے کناروں میں سے بھی تمام گناہ پانی سمیت گر جاتے ہیں، پھر وہ اٹھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق اس کی حمد بیان کرتا ہے، اس کی ثناء بیان کرتا ہے، پھر دو رکعت نماز ادا کرتا ہے، تو وہ اپنے گناہوں سے (اس طرح پاک) ہو جاتا ہے، جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 378]
ترقیم العلمیہ: 372
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 832، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 165، 260، 1147، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 453، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 147، برقم: 571، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1277، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3579، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 283، 1251، 1364، 2794، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 378، 379، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17288»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 373 ترقیم الرسالہ : -- 379
حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ. هَذَا إِسْنَادٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ اس کی سند ”ثابت“ اور ”صحیح“ ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 379]
ترقیم العلمیہ: 373
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 832، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 165، 260، 1147، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 453، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 147، برقم: 571، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1277، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3579، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 283، 1251، 1364، 2794، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 378، 379، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17288»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 374 ترقیم الرسالہ : -- 380
نا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، نا لَيْثٌ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَوْ عَنْ أَخِي أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا عَلَى أَعْقَابِ أَحَدِهِمْ مثل مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ، أَوْ مثل مَوْضِعِ الظُّفُرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَجَعَلَ يَقُولُ:" وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" . فَكَانَ أَحَدُهُمْ يَنْظُرُ، فَإِنْ رَأَى مَوْضِعًا لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ أَعَادَ الْوُضُوءَ.
عبدالرحمن بن سابط نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، یا شاید سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے بھائی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا (وضو کرتے ہوئے)، ان میں سے کسی شخص کی ایڑھی کے، ایک درہم جتنے یا شاید ایک ناخن جتنے، حصہ تک پانی نہیں پہنچا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمانا شروع کیا: ”بعض ایڑھیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) ”آدمی کو اس بات کا جائزہ لے لینا چاہیے، اگر وہ کوئی ایسی جگہ دیکھے، جہاں تک پانی نہیں پہنچا، تو وہ دوبارہ وضو کرے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 380]
ترقیم العلمیہ: 374
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 399، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 380، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 273، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 8109»
«قال ابن عبدالبر: روي من حديث أبي أمامة وفيه ضعف، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 247)»
«قال ابن عبدالبر: روي من حديث أبي أمامة وفيه ضعف، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 247)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 375 ترقیم الرسالہ : -- 381
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ ، يَقُولُ: نا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمَيْهِ مثل الظُّفُرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ" . تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے وضو کر لیا تھا اور اپنے پاؤں کا ایک ناخن جتنا حصہ چھوڑ دیا تھا (وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا: ”تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔“ اس روایت کو قتادہ سے نقل کرنے میں جریر بن حازم نامی راوی منفرد ہیں اور یہ راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 381]
ترقیم العلمیہ: 375
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 164، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 173، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 665، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 328، 393، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 381، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12682، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2944، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6525»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، أبو داود فى ((سننه)) برقم: 173»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، أبو داود فى ((سننه)) برقم: 173»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 376 ترقیم الرسالہ : -- 382
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، إِمْلاءً، حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ سِقْلابٍ ، ثنا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ سِقْلابٍ الْحَرَّانِيُّ ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ.
سالم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: ”ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران ایک شخص آیا۔“ ایک اور روایت میں یہ بات منقول ہے، سالم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص آیا، جس نے وضو کیا تھا اور اس نے اپنے پاؤں کی پشت کا کچھ حصہ، جو اس کے پاؤں کے ناخن کے انگوٹھے جتنا تھا، اس تک پانی نہیں پہنچایا تھا (یعنی وہ حصہ وضو میں خشک رہ گیا تھا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم واپس جاؤ اور اپنے وضو کو مکمل کرو!“ تو اس شخص نے ایسا ہی کیا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 382]
ترقیم العلمیہ: 376
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 382، 383، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2219، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 27،»
«وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 243، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 666، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 327، 395، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 382، 383، 384، 385، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 136، 155، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2312، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 232، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 118، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2219، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 27، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 449، 450، 457»
«قال ابن حجر: والوازع ضعيف وذكره العقيلي فى الضعفاء فى ترج
«وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 243، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 666، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 327، 395، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 382، 383، 384، 385، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 136، 155، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2312، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 232، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 118، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2219، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 27، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 449، 450، 457»
«قال ابن حجر: والوازع ضعيف وذكره العقيلي فى الضعفاء فى ترج
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 376M ترقیم الرسالہ : -- 383
وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْمَحَامِلِيُّ ، نا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلِ ، نا الْحَارِثُ بْنُ بَهْرَامَ ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ سِقْلابٍ ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ قَدْ تَوَضَّأَ وَبَقِيَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ مثل ظُفُرِ إِبْهَامِهِ لَمْ يَمَسَّهُ الْمَاءُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَأَتِمَّ وُضُوءَكَ"، فَفَعَلَ . وَالْمَعْنَى مُتَقَارِبٌ. الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ. ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
اس حدیث کا مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہے، اس کا ایک راوی وازع بن نافع علم حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 383]
ترقیم العلمیہ: 376M
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 382، 383، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2219، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 27،»
«وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 243، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 666، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 327، 395، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 382، 383، 384، 385، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 136، 155، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2312، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 232، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 118، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2219، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 27، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 449، 450، 457»
«قال ابن حجر: والوازع ضعيف وذكره العقيلي فى الضعفاء فى ترج
«وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 243، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 666، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 327، 395، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 382، 383، 384، 385، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 136، 155، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2312، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 232، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 118، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2219، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 27، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 449، 450، 457»
«قال ابن حجر: والوازع ضعيف وذكره العقيلي فى الضعفاء فى ترج
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 377 ترقیم الرسالہ : -- 384
وَحَدَّثَنَا وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نا أَبُو بَكْرٍ ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى رَجُلا فِي رِجْلِهِ لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ حِينَ تَطَهَّرَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" بِهَذَا الْوُضُوءِ تَحْضُرُ الصَّلاةَ؟"، وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ اللُّمْعَةَ وَيُعِيدَ الصَّلاةَ .
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا جس کے پاؤں کا کچھ حصہ خشک تھا اور وضو کرتے ہوئے وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اس وضو کے ساتھ تم نماز میں شریک ہو گئے تھے؟“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا: ”وہ اس خشک جگہ کو دھوئے اور دوبارہ نماز پڑھے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 384]
ترقیم العلمیہ: 377
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 243، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 666، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 327، 395، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 382، 383، 384، 385، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 136، 155، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2312، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 232، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 118، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2219، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 27، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 449، 450، 457»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 378 ترقیم الرسالہ : -- 385
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نا هُشَيْمٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَأَى رَجُلا وَبِظَهْرِ رِجْلِهِ لُمْعَةٌ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" أَبِهَذَا الْوُضُوءِ تَحْضُرُ الصَّلاةَ؟"، قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، الْبَرْدُ شَدِيدٌ وَمَا مَعِيَ مَا يُدَفِّينِي، فَرَّقَ لَهُ بَعْدَمَا هَمَّ بِهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ:" اغْسِلْ مَا تَرَكْتَ مِنْ قَدَمِكَ، وَأَعِدِ الصَّلاةَ"، وَأَمَرَ لَهُ بِخَمِيصَةٍ .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا، جس کے پاؤں کی پشت کا کچھ حصہ خشک تھا، وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”کیا اس وضو کے ساتھ تم نماز میں شامل ہوئے ہو؟“ اس نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! سردی بہت زیادہ ہے اور میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کو روک سکے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پہلے اس پر سختی کرنے لگے تھے، یہ بات سن کر نرم پڑ گئے اور اس سے فرمایا: ”تم نے اپنے پاؤں کا جو حصہ چھوڑا ہے، اسے دھو لو اور نماز دوبارہ پڑھو۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے جبہ دینے کی ہدایت کی۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 385]
ترقیم العلمیہ: 378
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 243، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 666، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 327، 395، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 382، 383، 384، 385، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 136، 155، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2312، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 232، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 118، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2219، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 27، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 449، 450، 457»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 379 ترقیم الرسالہ : -- 386
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ صَالِحٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْضِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدِ اغْتَسَلَ وَقَدْ بَقِيَتْ لُمْعَةٌ مِنْ جَسَدِهِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لُمْعَةٌ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَكَانَ لَهُ شَعْرٌ وَارِدٌ، فَقَالَ بِشَعْرِهِ هَكَذَا عَلَى الْمَكَانِ فَبَلَّهُ" . عَبْدُ السَّلامِ بْنُ صَالِحٍ هَذَا بَصْرِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَغَيْرُهُ مِنَ الثِّقَاتِ، يَرْوِيهِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلاءِ، مُرْسَلا.
علاء بن زیاد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے غسل کیا ہوا تھا، لیکن آپ کے جسم کا کچھ حصہ خشک رہ گیا تھا جہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا۔ ہم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ حصہ خشک رہ گیا ہے، یہاں تک پانی نہیں پہنچا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک گھنے تھے، آپ نے اپنے (گیلے) بالوں کی نمی کے ذریعے اس حصے کو تر کر لیا۔ اس روایت کا ایک راوی عبدالسلام بن صالح بصری ہے اور مستند نہیں ہے۔ دیگر ثقہ راویوں نے اسے اسحاق نامی راوی کے حوالے سے، علاء نامی راوی کے حوالے سے ”مرسل“ روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 386]
ترقیم العلمیہ: 379
تخریج الحدیث: «مرسل ضعيف،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 386، انفرد به المصنف من هذا الطريق، وقال الدارقطني: عبد السلام بن صالح هذا بصري ليس بالقوي وغيره من الثقات يرويه عن إسحاق عن العلاء مرسلا، سنن الدارقطني:، 386»
الحكم على الحديث: مرسل ضعيف