🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ الِاعْتِكَافِ
باب اعتکاف کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2329 ترقیم الرسالہ : -- 2363
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ التُّبَّعِيُّ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَهُنَّ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ، وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَخْرُجَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ، وَلا يَتْبَعُ جِنَازَةً، وَلا يَعُودُ مَرِيضًا، وَلا يَمَسُّ امْرَأَةً، وَلا يُبَاشِرُهَا، وَلا اعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ، وَيَأْمُرُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ" . يُقَالُ: إِنَّ قَوْلَهُ: وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ إِلَى آخِرِهِ، لَيْسَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ مِنْ كَلامِ الزُّهْرِيِّ وَمَنْ أَدْرَجَهُ فِي الْحَدِيثِ فَقَدْ وَهِمَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَهِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَمْ يَذْكُرْهُ.
عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب نے یہ بات بیان کی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بتایا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ کے بعد آپ کی ازواج نے بھی ان دنوں میں اعتکاف کیا اور اعتکاف کرنے والے شخص کے لیے سنت یہ ہے: صرف قضائے حاجت کے لیے (اعتکاف کی جگہ سے) باہر نکلے گا، وہ جنازے میں شریک نہیں ہو گا، مریض کی عیادت کے لیے نہیں جائے گا، وہ عورت کو چھوئے گا نہیں اور اس کے ساتھ مباشرت نہیں کرے گا، اور اعتکاف صرف اس مسجد میں ہو سکتا ہے، جہاں باجماعت نماز ہوتی ہے اور اعتکاف کرنے والے شخص کو یہ حکم دیا جائے گا کہ وہ روزہ بھی رکھے۔ ایک قول کے مطابق اس روایت کے یہ الفاظ: اعتکاف کرنے والے شخص کے لیے سنت یہ ہے اس کے بعد سے لے کر روایت کے آخر تک کا حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے، بلکہ (اس روایت کے راوی) زہری کا کلام ہے، جنہوں نے اسے حدیث میں ہی درج کر دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ وہم ہوا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہشام بن سلیمان نامی راوی نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2363]
ترقیم العلمیہ: 2329
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2026، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1172، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2223، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3665،والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3321، 3322،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2462، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 790، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8658، 8664، 8685، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2362، 2363، 2364، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7899»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2330 ترقیم الرسالہ : -- 2364
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الاعْتِكَافِ وَكَيْفَ سُنَّتِهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ، وَأَنَّ السُّنَّةَ فِي الْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَخْرُجَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ، وَلا يَتْبَعُ جِنَازَةً، وَلا يَعُودُ مَرِيضًا، وَلا يَمَسُّ امْرَأَةً، وَلا يُبَاشِرُهَا، وَلا اعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ، وَسُنَّةُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ کے بعد آپ کی ازواج نے اعتکاف کیا اور اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے: وہ صرف قضائے حاجت کے لیے (اعتکاف کی جگہ سے) باہر نکل سکتا ہے، وہ جنازے میں شریک نہیں ہو گا، بیمار کی عیادت نہیں کرے گا، وہ اپنی بیوی کو چھو نہیں سکے گا، اس کے ساتھ مباشرت نہیں کر سکتا، اعتکاف صرف اس جگہ میں ہو گا، جہاں باجماعت نماز ادا کی جاتی ہے، اور اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے، وہ روزہ رکھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2364]
ترقیم العلمیہ: 2330
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2026، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1172، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2223، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3665،والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3321، 3322،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2462، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 790، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8658، 8664، 8685، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2362، 2363، 2364، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7899»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2331 ترقیم الرسالہ : -- 2365
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ ، ثنا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ ، ثنا أبِي ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الشِّرْكِ وَيَصُومَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ إِسْلامِهِ، فَقَالَ:" أَوْفِ بِنَذْرِكَ" . وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، تَفَرَّدَ بِهَذَا اللَّفْظِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ شرک میں یہ نذر مانی تھی کہ وہ اعتکاف کریں گے اور روزہ رکھیں گے، انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنی نذر کو پورا کرو۔ اس کی سند حسن ہے، اسے ان الفاظ میں نقل کرنے میں سعید بن بشیر نامی راوی منفرد ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2365]
ترقیم العلمیہ: 2331
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2032، 2042، 2043، 3144، 4320، 6697، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1656، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1013، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2239، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4379، 4380، 4381، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1610، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3853، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2474، 3325، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1539، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2378، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1772، 2129، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 708، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2353، 2354، 2360، 2361، 2365، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 261»
«قال الدارقطني:: هذا الإسناد حسن، سنن الدارقطني: (3 / 188) برقم: (2365)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں