سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. بَابُ
باب بلاعنوان
ترقیم العلمیہ : 2768/2 ترقیم الرسالہ : -- 2805
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ خُرَّزَادَ الْقَاضِي الأَهْوَازِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانَ ، نَا دَاهِرُ بْنُ نُوحٍ، نَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا وَهْبٌ الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اشْتَرَى شَيْئًا لَمْ يَرَهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا رَآهُ" ، قَالَ عُمَرُ : وَأَخْبَرَنِي فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ عُمَرُ : وَأَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنِ الْهَيْثَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، يُقَالُ لَهُ: الْكُرْدِيُّ يَضَعُ الأَحَادِيثَ، وَهَذَا بَاطِلٌ لا يَصِحُّ لَمْ يَرْوِهَا غَيْرُهُ، وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ سِيرِينَ مَوْقُوفًا مِنْ قَوْلِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص ایسی چیز خریدتا ہے، جسے اس نے دیکھا نہیں ہے، تو جب اسے دیکھے گا، تو اسے اختیار ہو گا (اگر وہ چاہے، تو اس سودے کو ختم کر دے)۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، جبکہ بعض راویوں نے اسے ابن سیرین تک موقوف روایت کے طور پر، یعنی ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2805]
ترقیم العلمیہ: 2768/2
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10537، 10538، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2805»
«قال الدارقطني: هذا الحديث باطل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 460)»
«قال الدارقطني: هذا الحديث باطل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 460)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 2769 ترقیم الرسالہ : -- 2806
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَشَّابُ التِّنِّيسِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، نَا أَبُو مُعَيْدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى بَيْعًا فَوَجَبَ لَهُ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يُفَارِقْهُ صَاحِبُهُ، إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ فَارَقَهُ فَلا خِيَارَ لَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”جو شخص کوئی چیز خریدتا ہے، تو وہ لینا اس کے لیے لازم ہو جائے گا اور اسے اس وقت تک سودے کو ختم کرنے کا اختیار ہو گا، جب تک اس کا ساتھی اس سے جدا نہیں ہو جاتا، اگر وہ چاہے، تو اس چیز کو وصول کرے اور اگر چاہے، تو اس ساتھی سے جدا ہو جائے، پھر اسے اختیار باقی نہیں رہے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2806]
ترقیم العلمیہ: 2769
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2107، 2109، 2111، 2112، 2113، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1531،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1279، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2186، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4479، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3454، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1245، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2181،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2806، 2807، 2808، 2811، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 400، 4570، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 669، 670»
ترقیم العلمیہ : 2770 ترقیم الرسالہ : -- 2807
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أنا اللَّيْثُ ، أَنَّ نَافِعًا ، حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَيَتَبَايَعَانِ عَلَى ذَلِكَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ" ،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب دو آدمی سودا کر لیتے ہیں، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہو گا، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے اور ایک ساتھ رہتے ہیں یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اختیار نہیں دے دیتا، جب وہ دونوں اس صورت میں سودا کر لیں گے، تو سودا لازم ہو جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2807]
ترقیم العلمیہ: 2770
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2107، 2109، 2111، 2112، 2113، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1531،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1279، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2186، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4479، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3454، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1245، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2181،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2806، 2807، 2808، 2811، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 400، 4570، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 669، 670»
ترقیم العلمیہ : 2771 ترقیم الرسالہ : -- 2808
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِكَ فِي الْبَيِّعَيْنِ. تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے، تاہم یہ دو سودوں کے بارے میں ہیں اور اس کو نقل کرنے میں ابن وہب نامی راوی منفرد ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2808]
ترقیم العلمیہ: 2771
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2107، 2109، 2111، 2112، 2113، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1531،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1279، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2186، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4479، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3454، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1245، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2181،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2806، 2807، 2808، 2811، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 400، 4570، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 669، 670»
ترقیم العلمیہ : 2772 ترقیم الرسالہ : -- 2809
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَاضِي ، نَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ فِي عَسْكَرٍ فَأَتَى رَجُلٌ مَعَهُ فَرَسٌ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَّا: أَتَبِيعُ هَذَا الْفَرَسَ بِهَذَا الْغُلامِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَبَاعَهُ ثُمَّ بَاتَ مَعَنَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَامَ إِلَى فَرَسِهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُنَا: مَا لَكَ وَلِلْفَرَسِ؟ أَلَيْسَ قَدْ بِعْتَنِيهَا؟، قَالَ: مَا لِي فِي هَذَا الْبَيْعِ مِنْ حَاجَةٍ، قَالَ: مَا لَكَ ذَلِكَ، لَقَدْ بِعْتَنِي، فَقَالَ لَهُمَا الْقَوْمُ: هَذَا أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيَاهُ، قَالَ لَهُمَا:" أَتَرْضَيَانِ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالا: نَعَمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَإِنِّي لأَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا" ،.
شیخ ابووصی بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنگی مہم میں شریک تھے، اسی دوران ایک شخص آیا اور اس کے ساتھ اس کا گھوڑا بھی تھا، ہم میں سے ایک شخص نے کہا: ”کیا تم یہ گھوڑا اس غلام کے عوض میں اسے فروخت کرو گے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں!“ پھر اس نے اس کو فروخت کر دیا، پھر وہ رات ہمارے ساتھ رہا، تو جب صبح ہوئی، تو وہ اپنے گھوڑے کی طرف بڑھا، تو ہمارے ساتھی نے اسے کہا: ”تمہارا اس گھوڑے کے ساتھ کیا تعلق ہے، کیا تم نے یہ مجھے فروخت نہیں کر دیا ہے؟“ تو وہ شخص بولا: ”مجھے اس سودے کی ضرورت نہیں ہے۔“ تو ہمارے ساتھی نے کہا: ”اب تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، تم اسے مجھے فروخت کر چکے ہو۔“ وہاں موجود لوگوں نے ان دونوں سے کہا: ”یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوبردہ موجود ہیں۔“ وہ دونوں لوگ ان کے پاس آئے، تو سیدنا ابوبرزہ نے ان دونوں سے کہا: ”کیا تم اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے راضی ہو؟“ ان دونوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سودا کرنے والوں کو سودا ختم کرنے اس وقت تک اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے۔“ اور تم دونوں کے بارے میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2809]
ترقیم العلمیہ: 2772
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 675، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3457، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2182، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10550، 10551، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2809، 2810، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20127»
ترقیم العلمیہ : 2773 ترقیم الرسالہ : -- 2810
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ: كُنَّا فِي بَعْضِ مَغَازِينَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلا، فَجَاءَنَا رَجُلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْعَسْكَرِ عَلَى فَرَسِهِ فَسَاوَمَهُ صَاحِبٌ لَنَا بِفَرَسِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
شیخ ابووصی بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنگ میں شریک تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، لشکر کی جانب سے ایک شخص ہمارے پاس آیا اور وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، اس نے ہمارے ایک ساتھی کے ساتھ اپنے گھوڑے کا سودا کیا۔ اس کے بعد راوی نے سیدنا ابوبرزہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند روایت نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2810]
ترقیم العلمیہ: 2773
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 675، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3457، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2182، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10550، 10551، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2809، 2810، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20127»
ترقیم العلمیہ : 2774 ترقیم الرسالہ : -- 2811
ثنا ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ :" كُنَّا إِذَا تَبَايَعْنَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقِ الْمُتَبَايِعَانِ، قَالَ: فَتَبَايَعْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ، فَبِعْتُهُ مَا لِي بِالْوَادِي بِمَالٍ لَهُ بِخَيْبَرَ، قَالَ فَلَمَّا بِعْتُهُ طَفِقْتُ أَنْكُصُ الْقَهْقَرَى خَشْيَةَ أَنْ يُرَادَّنِي عُثْمَانُ الْبَيْعَ قَبْلَ أَنْ أُفَارِقَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ہم آپس میں کوئی سودا کیا کرتے تھے، تو دونوں فریقوں سے ہر ایک کو اختیار ہوتا تھا، جب تک سودا کرنے والے دونوں فریق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے اور سیدنا عثمان نے ایک سودا کیا، میں نے اپنی زمین، جو وادی میں موجود تھی، وہ ان کی زمین، جو خیبر میں موجود تھی، فروخت کر دی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب میں نے انہیں وہ فروخت کر دی، تو اس کے بعد میں الٹے قدم تیزی سے واپس ہوا، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں میرے ان سے جدا ہونے سے پہلے سیدنا عثمان اس سودے کو ختم نہ کر دیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2811]
ترقیم العلمیہ: 2774
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2107، 2109، 2111، 2112، 2113، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1531،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1279، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2186، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4479، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3454، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1245، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2181،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2806، 2807، 2808، 2811، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 400، 4570، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 669، 670»
ترقیم العلمیہ : 2775 ترقیم الرسالہ : -- 2812
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالا: نَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، وَقَالَ الْفَضْلُ:" مَعَ النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سچا امانت دار تاجر شہدا کے ساتھ ہو گا۔“ فضل نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2812]
ترقیم العلمیہ: 2775
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2152، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2139، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10527، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2812، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7394»
«قال أبو حاتم الرازي: لا أصل له وكلثوم ضعيف الحديث، علل الحديث: (3 / 642)»
«قال أبو حاتم الرازي: لا أصل له وكلثوم ضعيف الحديث، علل الحديث: (3 / 642)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 2776 ترقیم الرسالہ : -- 2813
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَفْصِ بْنِ شَاهِينَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2813]
ترقیم العلمیہ: 2776
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2153، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1209، 1209 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2581، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2813، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 966»
ترقیم العلمیہ : 2777 ترقیم الرسالہ : -- 2814
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، نَا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ ، نَا أَبِي ، نَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ الرَّبَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثَمَنُ الْخَمْرِ حَرَامٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ حَرَامٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ حَرَامٌ، وَإِنْ أَتَاكَ صَاحِبُ الْكَلْبِ يَلْتَمِسُ ثَمَنَهُ فَامْلأْ يَدَيْهِ تُرَابًا، وَالْكُوبَةُ حَرَامٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ حَرَامٌ، وَالْخَمْرُ حَرَامٌ، وَالْمَيْسِرُ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ روایت نقل کرتے ہیں: ”شراب کی قیمت حرام ہے، فاحشہ عورت کی کمائی حرام ہے، کتے کی قیمت حرام ہے، اگر کتے کا مالک تمہارے پاس آئے اور اپنے کتے کی قیمت کا طلب گار ہو، تو تم اس کے دونوں ہاتھ مٹی سے بھر دو اور اگر کتے کا مالک تمہارے پاس آئے اور اپنے کتے کی قیمت مانگے، تو اس کے دونوں ہاتھ مٹی سے بھر دو، چوسر حرام ہے، کتے کی قیمت حرام ہے، جو احرام ہے، کتے کی قیمت حرام ہے، نشہ آور چیز حرام ہے، شراب حرام ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2814]
ترقیم العلمیہ: 2777
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 189، 293،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 555، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4683، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6218، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3482،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 178، 2814، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2125»