🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ
باب بلاعنوان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2788 ترقیم الرسالہ : -- 2825
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ:" عُرِضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلْبٌ فَأَعْطَانِي دِينَارًا، وَقَالَ:" أَيْ عُرْوَةُ ائْتِ الْجَلْبَ فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً بِهَذَا الدِّينَارِ، فَأَتَيْتُ الْجَلْبَ فَسَاوَمْتُ فَاشْتَرَيْتُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا، أَوْ قَالَ: أَقُودُهُمَا، فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ فَسَاوَمَنِي فَبِعْتُ إِحْدَى الشَّاتَيْنِ بِدِينَارٍ وَجِئْتُ بِالشَّاةِ وَبِدِينَارٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ الشَّاةُ وَهَذَا دِينَارُكُمْ، فَقَالَ: صَنَعْتَ كَيْفَ؟، فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ فِي كُنَاسَةِ الْكُوفَةِ فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي" .
سیدنا عروہ بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوداگروں کے قافلے کے بارے میں پتہ چلا، تو آپ نے مجھے ایک دینار دیا، آپ نے فرمایا: اے عروہ! ان سوداگروں کے پاس جاؤ اور ان سے ایک دینار کی قیمت میں ایک بکری لے آؤ۔ راوی کہتے ہیں: میں ان سوداگروں کے پاس گیا اور ایک دینار کے عوض میں دو بکریاں خرید لیں، پھر میں انہیں ہانک کر لا رہا تھا، تو راستے میں ایک شخص مجھے ملا، اس نے مجھ سے سودا کیا، تو میں ان دو میں سے ایک بکری کو ایک دینار میں فروخت کر دیا، پھر میں ایک بکری اور ایک دینار لے آیا اور رسول اللہ کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! یہ آپ کی بکری ہے اور یہ آپ کا دینار ہے۔ تو نبی نے دریافت کیا: تم نے یہ کیا کیا ہے؟ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنا دیا، آپ نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! اس کے سودے میں برکت دے۔ راوی کہتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات اچھی طرح یاد ہے، میں کوفہ کے بازار میں کھڑا ہوتا اور اپنے گھر میں واپس آنے سے پہلے چالیس ہزار کما لیتا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2825]
ترقیم العلمیہ: 2788
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 3642، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3384، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1258، 1258 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2402، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2824، 2825،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 866، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19664»
«قال ابن حزم: فيه سعيد بن زيد أخو حماد وهو ضعيف، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 452)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2789 ترقیم الرسالہ : -- 2826
ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِمْلاءً مِنْ حِفْظِهِ، نَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ أَبُو يَحْيَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ، وَلا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزایدہ سے منع کیا ہے، آپ نے فرمایا: کوئی بھی اپنے بھائی کے سودے سے سودا نہ کرے، البتہ مال غنیمت اور وراثت میں ایسا کیا جائے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2826]
ترقیم العلمیہ: 2789
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2139، 2165، 5142، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1412، 1517، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1041، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4047، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3241، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2081، 3436، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1292، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1868، 2171، 2179، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2826، 2827، 2828، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4619»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2790 ترقیم الرسالہ : -- 2827
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا يُقَالُ لَهُ شَهْرٌ كَانَ تَاجِرًا، وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " عَنْ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ إِلا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ" ،.
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا، ان کا نام شہر تھا، وہ تاجر تھا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع مزایدہ کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے: کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، جب تک کوئی دوسرا شخص اسے چھوڑ نہ دے، البتہ مال غنیمت کا اور وراثت کا حکم مختلف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2827]
ترقیم العلمیہ: 2790
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2139، 2165، 5142، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1412، 1517، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1041، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4047، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3241، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2081، 3436، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1292، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1868، 2171، 2179، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2826، 2827، 2828، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4619»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2791 ترقیم الرسالہ : -- 2828
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2828]
ترقیم العلمیہ: 2791
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2139، 2165، 5142، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1412، 1517، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1041، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4047، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3241، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2081، 3436، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1292، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1868، 2171، 2179، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2826، 2827، 2828، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4619»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2792 ترقیم الرسالہ : -- 2829
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" ابْتَعْتُ زَيْتًا بِالسُّوقِ فَقَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ فَأَرْبَحَنِي حَتَّى رَضِيتُ، قَالَ: فَلَمَّا أَخَذْتُ بِيَدِهِ لأَضْرِبَ عَلَيْهَا أَخَذَنِي بِذِرَاعِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي فَأَمْسَكَ يَدَيَّ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: لا تَبِعْهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى بَيْتِكَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ" ،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے بازار میں زیتون کا تیل خریدا، ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھے زیادہ منافع دینے کا کہا، اتنا جس سے میں راضی ہو گیا، جب میں نے سودا کرنے کے لیے اس کے ہاتھ کو تھامنا چاہا، تو ایک شخص نے پیچھے سے میرے بازو کو پکڑ لیا اور ہاتھ تھام لیا، میں نے مڑ کر دیکھا، تو وہ سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: تم اسے فروخت مت کرو، جب تک تم اسے اپنے گھر نہیں لے جاتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کرنے سے منع کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2829]
ترقیم العلمیہ: 2792
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4984، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2284، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3499، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10804، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2829، 2830، 2831، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22071»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2793 ترقیم الرسالہ : -- 2830
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، ثنا الْوَاقِدِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2830]
ترقیم العلمیہ: 2793
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4984، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2284، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3499، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10804، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2829، 2830، 2831، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22071»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2794 ترقیم الرسالہ : -- 2831
ثنا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ، فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُهُ لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي بِهِ رِبْحًا حَسَنًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي بِذِرَاعِي فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَقَالَ:" لا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ حَتَّى تَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے بازار سے زیتون کا تیل خریدا، جب میں نے سودا پکا کر لیا، تو ایک شخص مجھ سے ملا، اس نے مجھے زیادہ منافع دینے کی پیش کش کی، میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارنے کا ارادہ کیا، تو پیچھے سے کسی نے میرا بازو پکڑ لیا، میں نے مڑ کر دیکھا، تو وہ سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: تم اسے اس وقت تک فروخت نہ کرو، جب تک تم اسے خرید کر اپنی جگہ پر نہیں لے جاتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ سودے کو اسی جگہ پر فروخت کیا جائے، جہاں سے خریدا گیا تھا، ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تجارت کرنے والا شخص اسے اپنی جگہ پر نہیں لے جاتا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2831]
ترقیم العلمیہ: 2794
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4984، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2284، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3499، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10804، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2829، 2830، 2831، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22071»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2795 ترقیم الرسالہ : -- 2832
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، نَا مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الشَّجَرِ حَتَّى يَبْدُو صَلاحُهُ" .
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کے پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک وہ استعمال کے قابل نہیں ہو جاتا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2832]
ترقیم العلمیہ: 2795
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2832، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2796 ترقیم الرسالہ : -- 2833
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ أَبُو رَوَّادٍ ، نَا وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ . ح وثنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ بِمِصْرَ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَصْرِيُّ . ح وثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالا: نَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، نَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، قَالَ:" سَأَلْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاحُهُ، وَمَا ذُكِرَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ الثَّمَرَ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاحُهَا، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ، قَالَ الْمُبْتَاعُ: قَدْ أَصَابَ الثِّمَارَ الدُّمَانُ، وَأَصَابَهُ قُشَامٌ، وَأَصَابَهُ مُرَاضٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا، فَلَمَّا كَثُرَتْ خُصُومُهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا: أَمَا لا، فَلا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى تَبْدُوَ صَلاحُهَا، لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ" ، اللَّفْظُ لِعَنْبَسَةَ، وَقَالَ أَبُو رَوَّادٍ: أَصَابَ الثَّمَرُ مُرَاقٌّ، وَأَصَابَهُ قُشَامٌ.
یونس بیان کرتے ہیں: میں نے شیخ ابوزناد سے پھل کے پکنے سے پہلے اسے فروخت کرنے کے بارے میں مذکور روایات کے بارے میں دریافت کیا، عروہ بن زبیر، سیدنا سہل بن حثمہ، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: پہلے لوگ پھل کے پکنے سے پہلے اس کا سودا کر لیا کرتے تھے، جب پھل کے کاٹنے کا وقت آتا اور تقاضا کرنے والے آ جاتے، تو خریدار یہ کہتا: پھل کو فلاں بیماری لاحق ہو گئی ہے، یہ خراب ہو گیا ہے، اس طرح کی چیزوں کے ذریعے ان کے درمیان جھگڑا ہو جاتا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کے مقدمات بکثرت پیش ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو مشورہ دیتے ہوئے فرمایا: پھل کو اس وقت تک فروخت نہ کرو، جب تک وہ پک نہیں جاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس لیے کہا تھا، کیونکہ اختلافات اور مقدمات زیادہ ہو گئے تھے۔ روایت کے یہ الفاظ ابوردّاد نامی راوی کے ہیں، شیخ ابوداؤد رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: یہ الفاظ کہ پھل کو مرض لاحق ہو گیا ہے، تشام لاحق ہو گیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2833]
ترقیم العلمیہ: 2796
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3372، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10715، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2833، 2946، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22016»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2797 ترقیم الرسالہ : -- 2834
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدَكَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، نَا أَبِي ، عَنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا رِبًا إِلا فِي ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، أَوْ مِمَّا يُكَالُ، أَوْ يُوزَنُ، وَيُؤْكَلُ وَيَشْرَبُ" ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: هَذَا مُرْسَلٌ وَوَهِمَ الْمُبَارَكُ عَلَى مَالِكٍ بِرَفْعِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ قَوْلِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلٌ.
سیدنا سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: سود صرف سونے، چاندی، ماپی جانے والی، وزن کی جانے والی، کھائی جانے والی اور پی جانے والی چیزوں میں ہوتا ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے اور شیخ مبارک نامی راوی نے اسے امام مالک کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، اس میں انہیں وہم ہوا ہے، یہ سعید بن مسیب کا قول ہے، مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2834]
ترقیم العلمیہ: 2797
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1246، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10632، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2834، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14139»
«قال الدارقطني: هذا مرسل، سنن الدارقطني: (3 / 400) برقم: (2834)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں