صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ:
باب: ہر نشہ لانے والی شراب خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2001 ترقیم شاملہ: -- 5211
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ".
امام مالک نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی بنی ہوئی شراب کے متعلق سوال کیا گیا، آپ نے فرمایا: ”ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5211]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد سے بنی شراب کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مشروب نشہ آور ہے، وہ حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5211]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2001 ترقیم شاملہ: -- 5212
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی بنی ہوئی شراب کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5212]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْبِتْعُ» (بتع) کے بارے میں پوچھا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مشروب نشہ آور ہے، تو وہ حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5212]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2001 ترقیم شاملہ: -- 5213
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَصَالِحٍ سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ، وَهُوَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كُلُّ شَرَابٍ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
(سفیان) ابن عیینہ، صالح اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، سفیان اور صالح کی حدیث میں یہ (الفاظ) نہیں کہ ”آپ سے شہد کی بنی ہوئی شراب کے بارے میں پوچھا گیا“، یہ الفاظ معمر کی حدیث میں ہیں۔ صالح کی حدیث میں ہے انہوں نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا): ”ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5213]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے زہری کی مذکورہ بالا سند سے حدیث بیان کرتے ہیں، سفیان اور صالح کی روایت میں شہد کی شراب کے بارے میں سوال کا ذکر نہیں ہے، اس کا ذکر معمر کی روایت میں ہے، صالح کی حدیث ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5213]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1733 ترقیم شاملہ: -- 5214
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ شَرَابًا يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ مِنَ الشَّعِيرِ، وَشَرَابٌ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ مِنَ الْعَسَلِ، فَقَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".
شعبہ نے سعید بن ابی بردہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے علاقے میں جو سے ایک مشروب بنایا جاتا ہے اس کو مزر کہتے ہیں اور ایک مشروب شہد سے بنایا جاتا ہے اس کو بتع کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5214]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجا، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری سرزمین (یمن) میں جو سے ایک مشروب تیار کیا جاتا ہے، جسے «الْمِزْرُ» ”مزر“ کہا جاتا ہے اور ایک مشروب ہے جسے «الْبِتْعُ» ”بتع“ کہتے ہیں جو شہد سے تیار کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ“ ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5214]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1733 ترقیم شاملہ: -- 5215
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُمَا: " بَشِّرَا وَيَسِّرَا وَعَلِّمَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَأُرَاهُ قَالَ: وَتَطَاوَعَا، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى رَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعَسَلِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعْقِدَ وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فَهُوَ حَرَامٌ ".
عمرو نے سعد بن ابی بردہ سے سنا، انہوں نے اپنے والد (ابوبردہ عامر بن ابی موسیٰ) کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا: ”تم دونوں لوگوں کو (اچھے اعمال کے انعام کی) خوشخبری سنانا اور (معاملات کو) آسان بنانا، (دین) سکھانا اور متنفر نہ کرنا۔“ میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی روایت کیا آپ نے فرمایا: ”دونوں ایک دوسرے سے موافقت سے رہنا۔“ جب (اجازت لے کر) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پیچھے کی طرف مڑے تو کہا: اللہ کے رسول! ان کا شہد سے بنایا ہوا ایک مشروب ہے جسے پکایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گاڑھا ہو جاتا ہے اور (ایک مشروب) مزر ہے جسے جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ چیز جو نماز سے مدہوش کردے وہ حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5215]
حضرت ابوموسیٰ اور معاذ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اور معاذ کو یمن کی طرف بھیجا اور دونوں کو فرمایا: ”بشارت دینا، آسانی اور سہولت پیدا کرنا، سکھانا اور نفرت نہ دلانا۔“ میرا خیال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”باہمی اتفاق رکھنا۔“ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پشت پھیری، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ایک شراب شہد سے بناتے ہیں، اسے پکایا جاتا ہے، حتیٰ کہ پکانے میں گرہ بندھ جاتی ہے اور «الْمِزْرُ» (مزر) ہے جسے جو سے بنایا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نماز سے نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5215]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2001 ترقیم شاملہ: -- 5216
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: " ادْعُوَا النَّاسَ وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا "، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ الْبِتْعُ، وَهُوَ مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ وَالْمِزْرُ، وَهُوَ مِنَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ، فَقَالَ: " أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ ".
زید بن ابی انیسہ نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت ابوبردہ نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا، آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو (اسلام کی) دعوت دینا، ان کو خوشخبری دینا اور متنفر نہ کرنا۔ معاملات کو آسان بنانا اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالنا۔“ انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم کو دو مشروبوں کے بارے میں شریعت کا حکم بتائیے جنہیں ہم یمن میں تیار کرتے تھے۔ ایک بتع ہے جو شہد سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے برتنوں میں ڈالا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ گاڑھا ہو جاتا ہے اور ایک مزر ہے وہ مکئی اور جو سے تیار کیا جاتا ہے، اسے برتنوں میں ڈالا جاتا ہے حتیٰ کہ اس میں شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بات کے خوبصورت خاتمے سمیت جامع کلمات عطا کیے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں جو نماز سے مدہوش کردے۔ (جس کی زیادہ مقدار مدہوش کردے اس کی قلیل ترین مقدار بھی حرام ہے۔)“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5216]
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور معاذ (رضی اللہ عنہما) کو یمن بھیجا تو فرمایا: ”لوگوں کو دین کی دعوت دو اور بشارت سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ اور آسانی پیدا کرو، تنگی پیدا نہ کرو۔“ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں ان دو مشروبوں کے بارے میں بتائیں، جو ہم یمن میں تیار کرتے تھے، بتع وہ شہد کا نبیذ ہے جو گاڑھا کر لیا جاتا ہے اور مِزُر ہے، جو مکئی اور جَو کا نبیذ ہے، حتیٰ کہ وہ گاڑھا ہو جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع مانع کلام سے نوازا گیا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر نشہ آور چیز سے روکتا ہوں، جو نماز سے مدہوش کر دے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5216]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2002 ترقیم شاملہ: -- 5217
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنْ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَ مُسْكِرٌ هُوَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟، قَالَ: " عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص جیشان سے آیا، جیشان یمن میں ہے، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سرزمین کے ایک مشروب کے متعلق سوال کیا جس کو مکئی سے بنایا جاتا تھا، اس کا نام مزر تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ نشہ آور ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، بلاشبہ اللہ عزوجل کا (اپنے اوپر یہ) عہد ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پیے گا وہ اس کو طینۃ الخبال پلائے گا۔“ پوچھا گیا: طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جہنمیوں کا پسینہ یا (فرمایا:) جہنمیوں کا نچوڑ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5217]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی یمن کے علاقہ جیشان سے آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مشروب کے بارے میں پوچھا، جسے وہ اپنی سرزمین میں مکئی سے بنا کر پیتے تھے، جسے «الْمِزْرُ» ”مِزر“ کہا جاتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ نشہ آور ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ لیا ہے کہ جو نشہ آور مشروب پیے گا، اسے وہ دوزخیوں کی پیپ یا ان کا پسینہ پلائے گا۔“ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! «طِينَةُ الْخَبَالِ» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دوزخیوں کا پسینہ ہے یا دوزخیوں کا نچوڑ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5217]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2002
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2003 ترقیم شاملہ: -- 5218
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ ".
ایوب نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اس حالت میں مر گیا کہ وہ شراب کا عادی ہو گیا تھا اور اس نے توبہ نہیں کی تھی تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5218]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز «خَمْرٌ» ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو دنیا میں شراب پیتا رہا اور وہ اس پر ہمیشگی کرتا مرا، اس سے توبہ نہ کی، وہ اس کو آخرت میں نہیں پی سکے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5218]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2003
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2003 ترقیم شاملہ: -- 5219
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ كِلَاهُمَا، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5219]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز مشروب خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5219]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2003
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2003 ترقیم شاملہ: -- 5220
وحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبدالعزیز بن مطلب نے موسیٰ بن عقبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5220]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5220]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2003
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة