سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
152. بَابُ مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مَرِيضًا وَمَنْ يَرِثُهَا
باب: اُس مرد کا بیان جس نے بیماری کی حالت میں بیوی کو طلاق دی، اور یہ کہ اس کی میراث کا حق دار کون ہوگا۔
ترقیم دار السلفیہ: 1958 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3135
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِي الطَّلاقَ إِلا طَلَّقْتُهَا، وَكَانَتْ تُمَاضِرُ بِنْتُ الأَصْبَغِ أُمُّ أَبِي سَلَمَةَ فِي خُلُقِهَا بَعْضُ مَا فِيهِ، فَسَأَلَتْهُ الطَّلاقَ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ لَهَا: إِذَا حِضْتِ ثُمَّ طَهُرْتِ فَآذِنِينِي فَآذَنَتْهُ، فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ، وَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ، فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ .
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا: ”میری کسی بیوی نے طلاق مانگی تو میں طلاق دوں گا۔“ جب تماضر بنت اصبغ نے طلاق کا مطالبہ کیا تو فرمایا: ”جب تم حیض سے پاک ہو جاؤ تو خبر دینا۔“ اور پھر اسے طلاق دی، اور وہ عدت گزارنے کے بعد میراث میں شریک ہوئی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3135]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2113، 2114، 2115، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1958، 1959، 1970، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15229، 15231، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4051، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12191، 12192، 12193، 12194، 12195، 12197، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19372»
قال ابن عبدالبر: وأصح الروايات عنه أنه ورثها بعد انقضاء العدة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 120)
قال ابن عبدالبر: وأصح الروايات عنه أنه ورثها بعد انقضاء العدة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 120)
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 1959 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3136
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ": لا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ الطَّلاقَ إِلا طَلَّقْتُهَا، فَغَارَتْ تُمَاضِرُ بِنْتُ الأَصْبَغِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تَسْأَلُهُ طَلاقَهَا، فَقَالَ لِلرَّسُولِ: قُلْ لَهَا: إِذَا حَاضَتْ فَلْتُؤْذِنِّي، فَحَاضَتْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ قُلْ لَهَا: إِذَا طَهُرْتِ فَلْتُؤْذِنَنِي، فَطَهُرَتْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَغَضِبَ، وَقَالَ أَيْضًا:" هِيَ طَالِقٌ الْبَتَّةَ لا رَجْعَ إِلَيْهَا"، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلا يَسِيرًا حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:" لا أُوَرِّثُ تُمَاضِرَ شَيْئًا"، فَارْتَفَعُوا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي الْعِدَّةِ فَوَرَّثَهَا مِنْهُ، فَصَالَحُوهَا مِنْ نَصِيبِهَا رُبُعَ الثَّمَنِ عَلَى ثَمَانِينَ أَلْفًا فَمَا أَوْفَوْهَا".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں کسی طلاق مانگنے والی عورت کو نہیں چھوڑوں گا۔“ جب تماضر نے طلاق مانگی تو انہوں نے کہا: ”جب حیض آئے تو اطلاع دو۔“ پھر جب طہر آیا تو انہوں نے غصے میں طلاق بائن دی اور جلد ہی وفات پا گئے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو میراث میں شریک کر دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3136]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2113، 2114، 2115، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1958، 1959، 1970، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15229، 15231، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4051، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12191، 12192، 12193، 12194، 12195، 12197، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19372»
قال ابن عبدالبر: وأصح الروايات عنه أنه ورثها بعد انقضاء العدة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 120)
قال ابن عبدالبر: وأصح الروايات عنه أنه ورثها بعد انقضاء العدة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 120)
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 1960 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3137
نا نا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى شُرَيْحٍ فِي " الَّذِي طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا فِي مَرَضِهِ، تَرِثُهُ وَلا يَرِثُهَا" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شریح کو لکھا: ”جس شخص نے بیماری کی حالت میں بیوی کو تین طلاقیں دیں تو عورت اس کی وارث ہو گی، لیکن مرد عورت کا وارث نہ ہو گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3137]
تخریج الحدیث: «مرسل ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1960، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15233، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12201»
روایت مرسل ہے کیونکہ إبراهيم النخعي نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مباشرتًا روایت نہیں کی، وہ ان سے مدرک نہیں ہیں۔ لہٰذا:، یہ اثر مرسل ہے (یعنی تابعی کا قول یا تابعی کا قول عن الصحابی)۔
شریک بن عبد الله کی ضعف کی کیفیت بھی اس کو مزید قابل احتجاج نہیں بناتی۔
لہٰذا یہ روایت "ضعیف" ہے مرسل ہونے کی وجہ سے، اور شریک کے انفراد سے بھی اس میں کلام ہے۔
روایت مرسل ہے کیونکہ إبراهيم النخعي نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مباشرتًا روایت نہیں کی، وہ ان سے مدرک نہیں ہیں۔ لہٰذا:، یہ اثر مرسل ہے (یعنی تابعی کا قول یا تابعی کا قول عن الصحابی)۔
شریک بن عبد الله کی ضعف کی کیفیت بھی اس کو مزید قابل احتجاج نہیں بناتی۔
لہٰذا یہ روایت "ضعیف" ہے مرسل ہونے کی وجہ سے، اور شریک کے انفراد سے بھی اس میں کلام ہے۔
الحكم على الحديث: مرسل ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 1961 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3138
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ فِيمَا جَاءَ بِهِ عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ إِلَى شُرَيْحٍ: " فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعُ ثَمَنِهَا، وَالأَصَابِعُ سَوَاءٌ، وَجِرَاحَاتُ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ سَوَاءٌ إِلا السِّنَّ وَالْمُوضِحَةَ، وَخَيْرُ أَحْيَانِ الرَّجُلِ أَنْ يَصْدُقَ بِاعْتِرَافِهِ بِوَلَدِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، وَرِثَتْهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے شریح کے پاس یہ حکم لے کر آئے کہ جانور کی آنکھ ضائع ہو جائے تو اس کا چوتھائی قیمت دیا جائے، انگلیاں سب برابر ہیں، مرد و عورت کے زخموں کا حکم برابر ہے، سوائے دانت اور ہڈی کے زخم کے، اور بہترین حالت آدمی کی یہ ہے کہ مرتے وقت اپنے بچے کا اعتراف کرے، اور اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو وہ عدت کے اندر اس کی وارث ہوتی ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3138]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1961، 1962، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16386، 16411، 16412، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17493، 17700، 17748، 18418، 18419، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19377، 19414، 27517، 27534، 27968، 28067»
قال ابن حجر: سنده صحيح إن كان النخعي سمعه من شريح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 223)
قال ابن حجر: سنده صحيح إن كان النخعي سمعه من شريح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 223)
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 1962 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3139
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ فِيمَا جَاءَ بِهِ عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ إِلَى شُرَيْحٍ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ: " الأَصَابِعَ سَوَاءٌ، الْخِنْصَرُ وَالإِبْهَامُ سَوَاءٌ، وَأَنَّ جُرُوحَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ سَوَاءٌ فِي السِّنِّ وَالْمُوضِحَةِ، فَمَا خَلا فَعَلَى النِّصْفِ، وَإِنَّ فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعَ ثَمَنِهَا، وَإِنَّ أَحَقَّ أَحْوَالِ الرَّجُلِ أَنْ يَصْدُقَ عَلَيْهَا عِنْدَ مَوْتِهِ فِي وَلَدِهِ إِذَا أَقَرَّ بِهِ، قَالَ مُغِيرَةُ: وَأُنْسِيتُ الْخَامِسَةَ حَتَّى ذَكَّرَنِي عُبَيْدَةُ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، وَرِثَتْهُ مَا دَامَتْ فِي الْعِدَّةِ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کے ذریعے شریح کو لکھا: ”انگلیاں سب برابر ہیں، چھوٹی انگلی اور انگوٹھا بھی برابر ہیں، مرد و عورت کے زخموں میں برابر دیت ہے، سوائے دانت اور ہڈی کے، جانور کی آنکھ ضائع ہو تو چوتھائی قیمت دی جائے، اور آدمی کی بہترین حالت یہ ہے کہ موت کے وقت اپنے بیٹے کا اعتراف کرے، اور اگر کسی نے بیوی کو تین طلاقیں دی ہوں اور وہ عدت میں ہو تو وہ اس کی وارث ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3139]
تخریج الحدیث: «إسنادہ صحیح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1961، 1962، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16386، 16411، 16412، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17493، 17700، 17748، 18418، 18419، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19377، 19414، 27517، 27534، 27968، 28067»
قال ابن حجر: سنده صحيح إن كان النخعي سمعه من شريح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 223)
قال ابن حجر: سنده صحيح إن كان النخعي سمعه من شريح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 223)
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
ترقیم دار السلفیہ: 1963 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3140
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ فِي: " الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ إِنْ مَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ وَرِثَتْهُ"، فَقَالَ لَهُ ابْنُ شُبْرُمَةَ: أَرَأَيْتَ إِنِ انْقَضَتِ الْعِدَّةُ أَتَتَزَوَّجُ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنْ هَذَا مَاتَ، وَمَاتَ الأَوَّلُ أَتَرِثُ زَوْجَيْنِ؟ قَالَ:" لا"، رَجَعَ إِلَى الْعِدَّةِ، قَالَ:" تَرِثُهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ" .
ابو ہاشم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بیماری کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس بیماری میں مر جائے تو بیوی اس کی وارث ہو گی، ابن شبرمہ نے کہا: ”اگر عدت پوری ہو جائے تو کیا وہ کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ تو پوچھا: ”اگر دوسرا شوہر مر جائے تو کیا دونوں کا وارث بنے گی؟“ کہا: ”نہیں، عدت ہی معیار ہے، جب تک عدت میں ہو گی وراثت پائے گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3140]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 1964 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3141
نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، في رجل طلق امرأته ثلاثا في مرضه، قَالا:" تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَتَرِثُهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ" .
حضرت ابراہیم اور حضرت شعبی رحمہما اللہ کہتے ہیں: ”اگر کسی نے بیماری میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، تو بیوی عدت وفات گزارے گی اور وراثت میں حصہ پائے گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3141]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1964، 1965، 1967، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11106، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19378، 19415»
ترقیم دار السلفیہ: 1965 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3142
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، أنهما قَالا فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ وَهُوَ مَرِيضٌ، ثُمَّ مَاتَ، قَالا:" تَسْتَأْنِفُ عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَتَرِثُهُ" .
حضرت ابراہیم اور حضرت شعبی رحمہما اللہ کہتے ہیں: ”اگر کسی نے بیماری میں ایک یا دو طلاقیں دیں، پھر مر گیا تو بیوی عدت وفات گزارے گی اور وارث ہو گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3142]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1964، 1965، 1967، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11106، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19378، 19415»
ترقیم دار السلفیہ: 1966 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3143
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا فِي مَرَضِهِ قَالَ:" تَرِثُهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ" .
حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اگر کسی نے بیماری میں بیوی کو تین طلاقیں دیں تو وہ عدت میں ہو تو وراثت میں حصہ پائے گی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3143]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 1967 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3144
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، وَهُوَ مَرِيضٌ قَالَ:" لَهَا الْمِيرَاثُ إِنْ مَاتَ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَلا مِيرَاثَ لَهَا" ، قَالَ هُشَيْمٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو شخص بیماری میں بیوی کو تین طلاقیں دے، اگر بیوی عدت میں ہو تو وارث ہو گی، اگر عدت ختم ہو جائے تو وراثت نہیں ملے گی، اور ہم اسی پر عمل کرتے ہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3144]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1964، 1965، 1967، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11106، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19378، 19415»